شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید:

مال و اولاد سے حد سے زیادہ محبت تباہی کا باعث ہے

مال و اولاد سے حد سے زیادہ محبت تباہی کا باعث ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے تازہ ترین خطبہ جمعہ میں قرآن پاک کی آیات کی روشنی میں مال اور اولاد سے حد سے بڑھ کر محبت کو تباہی اور غفلت کا سبب یاد کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں انفاق کو ایسی محبت سے چھٹکارہ پانے کا علاج قرار دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے تیرہ مئی دوہزار بائیس کے خطبہ جمعہ میں قرآنی آیت: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ» (منافقون: ۹) کی تلاوت سے اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے کہا: مال و دولت سے شدید محبت اور اولاد سے بے پناہ محبت دونوں انسان کو بدبختی اور نفاق کے اسباب بن جاتے ہیں۔ جب یہ محبت دل میں آئے اور اللہ کی محبت پر غالب ہوجائے، پھر اس کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے خبردار فرمایاہے کہ دنیا کے فانی مفادات کی خاطر آخرت کے باقی اور جاویدان مفادات کو مت کھوئیں۔
آیت میں مذکور ’ذکراللہ‘ کی مثالیں بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا: یہ لفظ عام ہے اور اس میں متعدد عبادتیں شامل ہیں۔ نماز، صدقہ، زکات، غریبوں سے تعاون، اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے گھوڑے تیار رکھنا اور ہر وہ کام جو اللہ کی اطاعت کی خاطر اس کی رضامندی حاصل کرنے کی نیت سے ہو، وہ اللہ کی یاد میں شامل ہے۔
شیخ الحدیث جامعہ دارالعلوم زاہدان نے کہا: اگر کوئی شخص مال اکٹھا کرے، لیکن زکات دینے، لوگوں کے واجب حقوق ادا کرنے اور اہل خانہ کے نفقہ سے گریز کرے، اس کا یہ مال تباہی اور ہلاکت کا سبب بن جائے گا۔ اسی طرح وہ مال جو رشوت ستانی، جھوٹی قسمیں، امانت میں خیانت، قبضہ اور دیگر ناجائز طریقوں سے حاصل ہوجائے، ایسا مال بھی تباہی اور نقصان کا سبب ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا: نبی کریم ﷺ بعض اوقات مالدار یہودیوں سے قرضہ لیتے تھے تاکہ مسلمان ان کی حاجتوں سے مطلع نہ ہوں۔ ایک مرتبہ ایک یہودی نے سخت الفاظ کے ساتھ آپ ﷺ سے اپنے قرضے کا مطالبہ کیا۔ صحابہؓ اسے روکنے کی کوشش کی، لیکن آپﷺ نے منع فرماکر ارشاد فرمایا کہ صاحبِ حق کو (سخت الفاظ) کہنے کی اجازت ہے۔پھر آپﷺ نے حکم فرمایا کہ اسے اس کے حق سے کچھ زیادہ ہی دیاجائے۔
مولانا عبدالحمید نے صحابہ ؓکے عدل و انصاف کو اسلام پھیلنے کی ایک اہم وجہ یاد کرتے ہوئے کہا: حضرت علی ؓ کا زرہ اور جنگی لباس ایک مرتبہ گم ہوگیا اور پھر ایک یہودی کے پاس برآمد ہوا۔ یہودی نے دعویٰ کیا کہ زرہ اس کا ہے۔ معاملہ قاضی شریح کے پاس چلاگیا جو ایک تابعی تھے اور حضرت عمرؓ نے انہیں جج متعین کیا تھا۔ حضرت علی کے گواہ ان کے بیٹے حضرت حسنؓ تھے۔ قاضی شریح کو بھی یقین تھا کہ یہودی جھوٹا ہے، لیکن انہوں نے اصول کی پاسداری کی اور بیٹے کی گواہی باپ کے حق میں قبول نہیں کیا۔ اس طرح یہودی مقدمہ جیت گیا؛ حالانکہ حضرت علی امیرالمومنین اور خلیفہ تھے۔ اس انصاف پسندانہ فیصلے سے متاثر ہوکر اس یہودی نے اسلام قبول کیا۔
انہوں نے مزید کہا: آج کل اسلام کا دعویٰ بہت کیاجارہاہے، لیکن اسلام کے احکام اور قوانین پامال ہوتے ہیں اور ہمارے اعمال اسلام و قرآن کے مطابق نہیں ہیں۔ سچائی، دیانتداری، انصاف اور اللہ کی اطاعت کم ہوچکی ہیں اور سب مال و اولاد کی محبت میں گرفتار ہوکر غافل ہوچکے ہیں۔
خطیب اہل سنت نے کہا: مال کی محبت کا علاج مال کو خرچ کرنا ہے۔ صدقہ دیں، غریبوں کی مدد کریں اور اللہ کی راہ میں پیسہ خرچ کریں، تب مال کی بے جا محبت اور لالچ دل سے نکل جائے گی۔ مال کو آخرت کے لیے پیش پیش بھیجنا چاہیے۔ اس شخص کے حال پر رونا چاہیے جو مال کو دنیا میں چھوڑے اور آخرت میں اسے کچھ ہاتھ نہ آئے۔

سب برادریوں کی ثقافت، زبان اور لباس کا احترام کرنا چاہیے
ممتاز بلوچ عالم دین نے اپنے بیان کے ایک حصے میں ’میڈ ان ایران 3‘ نامی ڈرامہ میں بلوچ خواتین کے کپڑوں کی توہین پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا: حال ہی میں ایک ڈرامہ میں بلوچ خواتین کے لباس کی توہین کی گئی ہے جس سے بہت سارے عوام کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ ارکان پارلیمنٹ نے بھی احتجاج کیا ہے۔
انہوں نے کہا: فلم پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز کو سمجھداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ متعلقہ اداروں کو بھی چاہیے اچھی طرح چھان بین کریں تاکہ کسی کی زبان، لباس اور ثقافت کی توہین نہ ہوجائے۔ ایرانی قومیتیں اور مسالک ایک ہی قوم کے حصے ہیں اور آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ان سب کی ثقافت، لباس اور زبان کا احترام کرنا ضروری ہے۔

صدر سے ملاقات میں عوام کے معاشی مسائل اور اہل سنت برادری کی پریشانیوں کا تذکرہ ہوا
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدانی نمازیوں سے خطاب میں اپنے حالیہ دورہ تہران اور صدر رئیسی سے ملاقات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: گزشتہ ہفتہ میں علما کے ایک وفد سمیت صدر مملکت سے ملاقات ہوئی جہاں ہم نے عوام کے معاشی مسائل اور مہنگائی کا تذکرہ کیا اور قومی مسائل کے حل پر زور دیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا: اس ملاقات میں بعض دیگر مسائل پر گفتگو ہوئی جن میں لسانی و مسلکی برادریوں کے قابل افراد کو عہدوں کی تقسیم میں حصہ دینا اور اہل سنت کے مذہبی مسائل شامل ہیں۔ جنابِ صدر نے بھی خطاب کیا اور عوامی مسائل کے حل کو اپنی حکومت کی ترجیح یاد کی۔
خطیب اہل سنت نے کہا: یہ بات اہم ہے کہ عوام کے مسائل اور مشکلات مختلف چینلوں اور لہجوں میں اعلیٰ حکام تک پہنچایاجائے۔ حکام بھی ان مسائل کے حل کے لیے چارہ جوئی کریں۔
مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے آخر میں ملک میں معاشی بحران اور اشیائے خوردونوش کی مہنگائی اور کمی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سب کو پانی اور روٹی کے استعمال میں اسراف سے پرہیز کرنے کی دعوت دی۔ پانی اور روٹی کے استعمال میں بچت بہت ضروری ہے۔ اگر ہمیں گھر میں ایک روٹی کی ضرورت ہے، تو روٹی خریدنے سے گریز کریں۔ پانی کی بھی شدید قلت کا خطرہ ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں