شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید عید الاضحی کی نماز کے بعد:

افغان عوام نفاذِ عدل اور حق پر اتفاق کریں

افغان عوام نفاذِ عدل اور حق پر اتفاق کریں

اہل سنت ایران کے ممتاز عالم دین نے افغانستان سے قابض افواج کے انخلا کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے افغان عوام سے اپیل کی نفاذِ عدل اور حق پر اتفاق کرکے صلح پر زور دیا۔

عید الاضحی کی نماز کے بعد زاہدان کی مرکزی عیدگاہ میں مختصر خطاب کرتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: افغان قوم کے اکثر افراد اسلامی شریعت کے نفاذ چاہتے ہیں اور یہ اچھی چیز ہے۔ اسلامی شریعت ایسی کوئی چیز نہیں جس سے ڈراجائے۔ افغان قوم مسلمان ہے اور دین پر عقیدہ رکھتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا: کیوں نہ سب افغان عوام بشمول حکومت، قوم اور تحریک طالبان ’نفاذِ عدل‘ اور ’حق‘ پر اتفاق کرکے اس ملک میں امن قائم کریں۔ افغانستان کو امن کی ضرورت ہے جس کے سایے میں ترقی و خوشحالی کا سفر طے کریں اور اپنے ملک پر فخر کریں؛ حق، انصاف، مساوات اور اسلام سے بڑھ کر کوئی فخر نہیں ہے۔

خطیب اہل سنت زاہدان نے سیرت النبیﷺ اور خلفائے راشدین ؓ کی سیرت کو ماڈل بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا:کوئی بھی اسلامی نظام اگر کامیابی چاہتاہے، اسے چاہیے سیرت النبیﷺ اور خلفائے راشدینؓ کو اپنا ماڈل بنائے۔ اگر قرآن پاک، نبی کریمﷺ، خلفائے راشدین اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کی صلاحیتوں سے کام لیاجائے، بلاشبہ سب لوگ بشمول مسلم اور غیرمسلم رضامند ہوجائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا: نبی کریم ﷺ اور صحابہؓ اپنے مخالفین کو برداشت کرتے تھے۔ بندہ نے بارہا کہا ہے کہ میں اس شخصیت کو مانتاہوں جو اپنے مخالفین کے ساتھ بیٹھ کر اس کی بات سنے اور اچھی اور درست باتوں کو مان لے۔ اعلی ظرفی اور برداشت ایک رحمت ہے۔

مولانا عبدالحمید نے کہا: ہماری دعا ہے کہ جلد از جلد افغانستان میں صلح قائم ہوجائے۔ جاری لڑائی میں دونوں جانب سے مسلمان ہی قتل ہوتے ہیں جن کا تعلق ایک ہی قوم سے ہے۔

انہوں نے مزید کہا: اسلام اخلاق، دیانتداری اور وفائے عہد پر زور دیتاہے۔ البتہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی شخص اسلام کا نام لے اور اپنی ہی بات منوانے پر زور دے اور اسلام کے نام سے غلط فائدہ اٹھائے۔

صدر دارالعلوم زاہدان نے کہا: دنیا حقیقی اسلام کے لیے پیاسی ہے تاکہ اسلام کو حقیقی معنوں میں دیکھ لے۔ اللہ تعالیٰ کے احکام اور نبی کریمﷺ کے ارشادات کے نفاذ سے خلقِ خدا بھی راضی ہوجائیں گے۔

خوزستان پیاسا ہے؛ اس کا خیال رکھیں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے ایک حصے میں ایران کے صوبہ خوزستان میں قلت پانی پر عوامی احتجاج کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: خوزستانی عوام تیل اور پانی سے مالامال اور ایک امیر صوبے میں رہتے ہیں، لیکن حکام نے پانی کی قلت کا مسئلہ حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ہے، حالانکہ پانی انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا: حکام کے پاس اتنا وقت تھا، لیکن انہوں نے ضروری منصوبہ بندی نہیں کی ہے، چنانچہ آج خوزستانی عوام کی آواز بلند ہوئی ہے اور وہ سراپا احتجاج میں ہیں۔ ہم سب اس عوامی احتجاج کو سمجھتے ہیں اور ان کی صدائے احتجاج سب تک پہنچ چکی ہے۔

مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: حکام کو میرا مشورہ ہے کہ خوزستانی عوام کی بات سنیں اور ان کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں؛ ان کے مطالبات جائز اور برحق ہیں۔ خوزستانی عوام کو بھی میرا مشورہ ہے کہ پرامن رہیں، چونکہ ان کی صدائے احتجاج سب تک پہنچ چکی ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں