ہندوستانی مسلمانوں کے عظیم رہنما امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی کا انتقال

ہندوستانی مسلمانوں کے عظیم رہنما امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی کا انتقال

امیرشریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب کا آج 3اپریل کو دو بج کر 50 منٹ پر انتقال ہوگیا ہے ۔
مولانا گذشتہ کئی دنوں سے سخت علیل تھے اور کرونا سے بھی متاثر ہوگئے تھے ۔
مولانا محمد ولی رحمانی صاحب آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کے جنرل سکریٹری اور امارت شرعیہ بہار ،اڑیسہ ،جھارکھنڈ کے امیر شریعت تھے ۔ ہندوستانی مسلمانوں کے قدر آ ور اور عظیم مسلم رہنما تھے ۔ 5جون 1943 میں آپ کی ولادت ہوئی تھی ۔ آپ دسیوں اداروں کے ذمہ دار تھے اور اہم عہدوں پر فائز تھے ۔

امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی شریعت اور طریقت دونوں کا جامع پیکر تھے: پروفیسر اخترالواسع
مشہور اسلامی دانشور، مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے وائس چانسلر پدم شری پروفیسر اخترالواسع نے بانیِ ندوة العلماء مولانا محمد علی منگیری علیہ الرحمہ کی یادگار، حضرت مولانا ملت اللہ رحمانی کے جگر گوشے، خانقاہ رحمانی کے سربراہ، امارتِ شرعیہ بہار و اڑیسہ و جھارکھنڈ کے امیر اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سیکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی کے اچانک انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ مولانا ولی رحمانی کے اندر ملّی غیرت اور اسلامی خودداری کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ انہوں نے ملّی مفادات اور مذہبی احکامات پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے بہار کی سیاست میں بی غیرمعمولی کردار ادا کیا اور بہار قومی لیجیس لیٹیو کونسل کے وائس چیئر مین کے طور پر غیرمعمولی خدمات انجام دیں۔ وہ شریعت اور طریقت دونوں کا جامع پیکر تھے اور دین اور دنیا کے ہمہ تن فروغ کے لیے ہر وقت مصروف رہتے تھے۔ پروفیسر اخترالواسع نے کہا کہ ان کا مولانا ولی رحمانی سے تقریباً نصف صدی کا تعلق تھا اور انہوں نے ان کے والد محترم حضرت مولانا منت اللہ رحمانی، قاضی مجاہدالاسلام قاسمی اور سابق امیر شریعت مولانا سید نظام الدین سے ہمیشہ اکتسابِ فیض کیا لیکن اب اس سانحہ نے ایک دور کا خاتمہ کر دیاہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کے جانشینوں کو ان کے مِشن کو فروغ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں