دلی فسادات کا ایک سال: انڈیا میں مسلمانوں کے لیے گھر ڈھونڈنا اتنا مشکل کیوں ہے؟

دلی فسادات کا ایک سال: انڈیا میں مسلمانوں کے لیے گھر ڈھونڈنا اتنا مشکل کیوں ہے؟

گذشتہ برس دلی فسادات کے دوران جس رات کو شہر میں تشدد اپنے عروج پر تھا ایسے میں دلی کے شمال مشرقی علاقے شیو وہار میں اولیہ مسجد کے امام قاضی عرفان احمد اپنے گاؤں گئے ہوئے تھے۔ دلی سے آنے والی خبریں خوفناک تھیں۔ ان کے رہائشی علاقے میں کئی اموات ہوئی تھیں اور لوگ اس علاقے سے مسلم اکثریت والی آبادی میں پناہ کے لیے جا رہے تھے۔
اس دوران قاضی عرفان احمد کو خبر ملی کہ جس مسجد میں وہ امامت کرتے ہیں اسے بھی نذر آتش کر دیا گیا ہے۔ اس واقعے کے چند روز بعد ہی ان کے ہندو مکان مالک نے انھیں فون کیا اور کہا کہ وہ گھر خالی کر دیں۔
قاضی عرفان احمد گذشتہ دس برس سے اس مکان میں کرائے پر رہتے تھے اور انھیں کبھی کوئی تکلیف نہیں ہوئی تھی۔انھوں نے مکان مالک سے گھر خالی کروانے کی وجہ جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ ایک مقامی ہندو رہنما نے محلے کے سبھی ہندوؤں کو اکٹھا کر کے مسلمان کرائے داروں سے گھر خالی کروانے کا کہا ہے۔
قاضی عرفان کے پاس مکان خالی کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں تھا۔
لیکن وہ اس تعصب کا سامنا کرنے والے اکیلے نہیں ہیں۔ گذشتہ چند دہائیوں اور خصوصاً گذشتہ برس دلی فسادات کے بعد سے یہ مسئلہ انڈین معاشرے میں بری طرح سے سامنے آیا ہے کہ ملک کی مسلمان آبادی کو رہائش کے لیے امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔
جندل گلوبل لا سکول کے محسن عالم بھٹ کے ’بیگوٹری ایٹ ہوم: ہاؤ دہلی، ممبئی کیپ مسلم ٹینینٹ آؤٹ‘ نامی تحقیقی مضمون میں انڈیا کے دو بڑے شہر دہلی اور ممبئی میں مسلمانوں کے رہائشی امتیازی سلوک کی صورتحال پر بات کی گئی ہے۔
اس تین سالہ تحقیق کے مطابق ‘حالیہ شواہد اور مطالعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کرائے کی رہائش کے حصول میں مسلمانوں کے خلاف کافی حد تک مذہبی امتیاز اور تعصب پایا جاتا ہے۔‘
یہ تحقیق 2017 کے وسط سے 2019 کے درمیان کی گئی تھی اور اس میں انڈیا کے دونوں بڑے شہروں ممبئ اور دلی کے سات سات علاقوں میں مسلمانوں کو کرائے کی رہائش کے حصول میں امتیازی سلوک کے سامنے کا احاطہ کیا گیا ہے۔
اس تحقیق میں دونوں شہروں ممبئی اور دلی کے کل 14 علاقوں میں 340 افراد سے انٹرویوز کیے گئے جن میں 199 پراپرٹی ایجنٹس، 31 مکان مالکان اور ہاؤسنگ سوسائٹی کے ممبران، اور 97 مسلم کرایہ دار شامل تھے۔
محسن عالم بھٹ کا کہنا ہے کہ ‘مذہبی تعصب کی شرح کا صحیح اندازہ لگانا تو مشکل ہے لیکن ان کی تحقیق یہ واضح کرتی ہے کہ یہ یقینی طور پر کم نہیں ہے بلکہ اس اضافہ ہوا ہے۔’
وہ اپنی تحقیق کے بارے میں کہتے ہیں کہ ‘تجربات مختلف ہو سکتے ہیں لیکن مسلمانوں کے لیے رہائشی امتیاز اب اتنا عام ہوچکا ہے کہ ہر کسی نے یا اس کے دوست یا جاننے والے نے اس کا سامنا کسی نہ کسی شکل میں کیا ہے۔’
گزشتہ برس ہونے والے فسادات نے مقامی مسلمان آبادی کے دلوں میں خوف پیدا کر دیا ہے اور وہ خطرہ مول لینے سے بہتر محتاط رہنا پسند کر رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کئی لوگ یا تو مسلم اکثریتی علاقوں میں منتقل ہو رہے ہیں یا ایسے علاقے جہاں ہندو مسلم مشترکہ آبادی ہے میں مزید مخصوص محلوں میں رہائش اختیار کر رہے ہیں۔
انڈیا کی مسلم آبادی اپنے اس فیصلے کی وجہ گذشتہ برس ہوئے فسادات کو قرار دیتی ہے اور اپنی آنکھوں کے سامنے ہوئے تشدد کے واقعات کو دہراتے ہوئے انصاف نہ ملنے کہ دہائی دیتی ہیں۔
گذشتہ برس ہوئے دلی فسادات کے دوران اس طرح کے واقعات نے یہاں کی مسلم آبادی میں مزید خدشات اور بد اعتمادی پیدا کی ہے۔

’تیس سال کی محبت ایک گھنٹے میں ختم ہو گئی‘
عبدالکریم 1989 سے دلی میں ایک ہندو اکثریتی کالونی میں رہائش پذیر تھے جو گذشتہ برس فسادات سے متاثر ہوئی تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ پہلے ان کے اپنے پڑوسیوں سے تعلقات، ایسے تھے جیسے ایک خاندان ہو۔ انھوں نے اسی علاقے میں متعدد بار گھر بدلا تھا لیکن کبھی بھی انھیں کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ‘سنہ 2014 سے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری آنے لگی تھی لیکن ان فسادات نے تو فوری طور پر سب کچھ بالکل بدل دیا۔’
گذشتہ برس ہوئے فسادات کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ‘میں نے موت کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ وہ 30 سال کی محبت ایک گھنٹے میں ختم ہو گئی۔’
فسادات کے بعد تناؤ اور غیر یقینی صورتحال کے باعث انھوں نے کچھ ہفتے قبل اپنے مکان کو تقریباً اس کی نصف قیمت پر فروخت کر دیا۔ لیکن اب وہ شہر کے مسلم اکثریت والے علاقوں میں جہاں ہنگاموں کے بعد مسلمانوں کی آمد کی وجہ سے جائیداد کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے دوسرا گھر خریدنے کی مالی حیثیت نہیں رکھتے ہیں۔
لہذا انھوں نے اب وہاں کرائے پر مکان لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘ہم تو اپنی زندگی گزار لیں گے لیکن بچوں کی زندگی تو ایسے نہیں گزرے گی۔ انھوں نے تو ہمارے گھروں میں سب کچھ ہی جلا دیا تھا۔’
عبدالکریم کے بڑے بیٹے بینک میں ملازم ہیں، بڑی بیٹی کی شادی ہو چکی ہے اور ایک بیٹا اور ایک بیٹی کالج میں پڑھتے ہیں۔
’ہم ہر روز سنتے ہیں کہ ہندو نوجوان ہمیں ڈرانے کے لیے محلوں میں جئے شری رام کے نعرے لگا رہے ہیں۔‘
عبدالکریم ایک پراپرٹی ڈیلر ہیں اور ان کے اعداد و شمار کے مطابق فسادات کے فورا بعد تقریباً 300 مسلم کنبوں نے علاقے سے ہجرت کی تھی۔جبکہ ان میں سے کچھ واپس بھی آئے ہیں، متعدد خاندان یہ علاقہ چھوڑنا چاہتی ہیں۔
’کووڈ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد کم از کم 15 سے 20 افراد نے مجھ سے خود کہا ہے کہ میں ہندو علاقے میں ان کے گھر فروخت کرنے میں مدد کروں۔‘
ہندو یا مشترکہ آبادی والے علاقوں سے مسلم کالونیوں کی طرف ہجرت کا مطلب یہ ہے کہ انڈین معاشرے میں مسلمانوں کا مقام مزید سکڑ ہو رہا ہے، لیکن عبدالکریم اب مطمئن ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ‘یہاں آ کر میں اب بہت سکون محسوس کر رہا ہوں۔’

’جوہر صاحب‘ کرائے دار اور پراپرٹی ایجنٹ دونوں کے کام آیا
وہ 70 واں مکان تھا جس پر احمد علی (فرضی نام) کی دو ماہ سے جاری مکان کی تلاش ختم ہوئی۔ احمد انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک مشہور میڈیا کمپنی میں بطور صحافی کام کرتے ہیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ گزشتہ سال ان دو ماہ کے دوران جنوبی دلی میں انھیں 53 پراپرٹی ایجنٹوں اور مکان مالکان نے کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر گھر دینے سے انکار کر دیا تھا۔
مکان مالکان سے اچھے طریقے سے بات چیت کرنے سے لے کر غصہ کے اظہار تک، احمد کی ہر کوشش ناکام رہی تھی۔
شروعات میں مکان مالکان کے بہانوں سے یہ پوری طرح واضح نہیں تھا کہ وہ مسلمانوں کو گھر نہیں دینا چاہتے ہیں لیکن آہستہ آہستہ یہ رجحان سامنے آنے لگا۔
کچھ لوگ اپنے فلیٹ کو گوشت خور کو کرائے پر نہیں دینا چاہتے تھے، تو کچھ کو خدشہ تھا کہ وہاں برقعے میں عورتیں آئیں گی یا وہ عیدالضحیٰ کے موقعے پر بکرے ذبح کریں گے۔
احمد کو احساس ہوا کی انھیں دلی میں گھر کرائے پر نہ ملنے کہ وجہ ان کی مذہبی شناخت ہے اور جلد ہی اس بات کی تصدیق بھی ہوگئی جب کچھ مکان مالکان نے واضح طور پر کہہ دیا کہ وہ ‘مسلمانوں’ کو گھر نہیں دیں گے۔ احمد نے اس سے تنگ آ کر ایک مسلمان پراپرٹی ایجنٹ سے بات کی جس نے احمد کو دلی کے قریبی شہر نوئیڈا میں ایک مکان کرائے پر دلا دیا لیکن انھیں مکان مالک کے سامنے سلام کرنے سے منع کیا۔
اس پراپرٹی ڈیلر کو ڈر تھا کہ اس سے احمد کی مسلم شناخت ظاہر ہوجائے گی جس کے وجہ سے دیگر مکان مالکان اس سے کاروباری تعلق ختم کر لیں گے۔
اس سے بچنے کے لیے انھوں نے احمد کو ایک غیر جانبدار نام ’جوہر صاحب‘ سے پکارنا شروع کیا اور احمد کو ہدایت کی کہ دوسروں کے سامنے انھیں اسی نام سے مخاطب کریں گے۔
احمد اس مکان میں تقریباً ایک سال سے رہائش پذیر ہیں۔ لیکن وہ مذہب کی بنیاد پرگھر دینے سے انکار کرنے کی توہین کو بھلا نہیں پاتے ہیں کیونکہ حال ہی میں اسی طرح کے واقعات کا سامنا ان کے متعدد دیگر دوستوں کو بھی کرنا پڑا ہے۔

’یہ ایک کھلا راز ہے کہ مسلمانوں کو فلیٹ کرائے پر نہیں ملیں گے‘
ایمن خان 2011 میں 17 سال کی عمر میں کالج کی تعلیم کے لیے لکھنؤ سے ممبئی آئی تھیں۔ لکھنؤ میں وہ اپنے والدین کے ساتھ رہتی تھیں اور اس طرح کے تعصب کا انھیں کوئی اندازہ نہیں تھا۔
ان کے کالج نے مکان مالکان کی فہرست فراہم کی تھی تاکہ طلبا کو کرائے پر مکان لینے میں آسانی ہو سکے۔
اپنے ہم جماعت کے برخلاف وہ مکان مالکان کو فون کرتی تھیں لیکن کرائے پر گھر لینے کی بات نہیں بنتی تھی۔ انھیں اس کا اندازہ نہیں تھا کہ اس کی وجہ ان کی مذہبی شناخت ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ‘یہ ممبئ میں ایک کھلا راز ہے کہ مسلمانوں کو کچھ کالونیوں اور سوسائٹیوں میں فلیٹ کرائے پر نہیں ملیں گے۔ لیکن یہ سمجھنے کے لیے میں اس وقت کافی کم عمر تھی۔’
جن مکان مالکان کو ان کے نام سے ان کی مذہبی شناخت ظاہر نہیں ہوتی وہ ان کے والد کا نام پوچھتے تھے۔ لیکن والد کے پہلے نام جمشید سے جو کہ ایک عام پارسی نام بھی ہے بہت کچھ ظاہر نہیں ہوتا تھا۔ لیکن جیسے ہی وہ اپنی کنیت، ‘خان’ بتاتی تھیں بات وہیں ختم ہو جاتی تھی۔
اس سے انھیں احساس ہوا کہ انھیں گھر نہ ملنے کی وجہ ان کا مسلم نام ہے۔
انھوں نے نوٹ کرنا شروع کر دیا کہ کتنے مکان مالکان نے اور کتنے ایجنٹوں نے انھیں گھر دینے سے انکار کیا ہے۔
وہ یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں’کل ملا کر 53۔‘
انڈین معاشرے کی کچھ مخصوص برادریوں، جیسے دلتوں کے ساتھ یہ برتاؤ ہمیشہ سے تھا لیکن اب اس میں، خاص طور پر مسلمانوں کے ساتھ، مزید اضافہ ہوا ہے۔
ایمن خان کا کہنا ہے کہ ‘کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ وہ اس طرح کا برتاؤ بنا کسی جوابدہی کے کرسکتے ہیں، بلکہ انھیں پتا ہے کہ حقیقت میں تو سماج میں ان کے رویے کہ توثیق ہوگی۔’
ایمن والدین سے ایک دہائی دور رہنے کے بعد کہتی ہے کہ ‘گھر لینے کے لیے وہ اب بہانے اور ہندو دوستوں پر انحصار نہیں کرتی ہیں۔اب وہ اگر مجھ سے میرا نام اور اس کا مفہوم پوچھتے ہیں تو میں ان سے کہتی ہوں کہ ایمن کا مطلب ہے بے خوف۔’

’میں اپنے نام سے مکان کیوں نہیں لے سکتی؟‘
بنگلور میں مقیم ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ زینب باوا کو پہلی بار اس طرح کے امتیازی سلوک کا سامنا سنہ 2009 میں کرنا پڑا تھا جب وہ ممبئی سے، جہاں وہ اپنے والدین کے ساتھ رہتی تھیں، بنگلور منتقل ہوئیں۔
پہلے ہی مکان مالک نے ان سے کہا کہ وہ ایک مادھو برہمن ہیں اور وہ اپنا گھر ایک گوشت خور کو کرائے پر نہیں دیں گے۔
زینب کو یہ واضح نہیں تھا کہ یہ تعصب پسندی تھی یا مکان مالک کا ذاتی انتخاب۔اتفاق سے ان کے ایک ہندو دوست کے ایک رشتے دار کو بھی گھر کی تلاش تھی۔ زینب نے انھیں اسی مکان مالک کے پاس بھیجا۔لیکن انھیں بنا کسی مشکل سوال کے وہ گھر مل گیا۔ بلکہ مکان مالک نے انھیں یہ بھی بتایا کہ اسے ایک زینب نامی مسلم لڑکی نے فون کیا تھا جسے انھوں نے گھر دینے سے منع کر دیا۔
سنہ2014 میں جب وہ ایک ایسے علاقے میں منتقل ہونا چاہتی تھی جہاں ٹیکنالوجی سیکٹر میں کام کرنے والے اور دوسرے شہروں سے آئے ہوئے کافی لوگ رہتے تھے تو ان کے پراپرٹی ایجنٹ نے کہا کہ مکان مالک ان سے ملنا چاہتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ‘اس بات نے مجھے 2009 کی یاد دلا دی۔ میں نے سوچا اب یہ مالک مجھ سے میرے مذہب کے بارے میں پوچھے گا اور مجھے گھر دینے سے انکار کر دے گا۔’
مگر انھیں وہ گھر کرائے پر مل گیا۔ وہ کہتی ہیں کہ ‘وہ حاملہ تھیں جو شاید ان کے حق میں کام کر گیا اور شاید یہ بھی کہ مکان مالک سے ملنے کے وقت ان کے شوہر جو کہ ایک تامل برہمن ہیں روایتی کرتہ پاجامہ پہن کر گئے تھے۔’
زینب نے اپنے نام کے ساتھ اپنے شوہر کا نام نہیں لگایا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ‘میرے دوست اکثر مجھ سے کہتے تھے کہ میں اپنے شوہر کا نام اپنے نام میں کیوں نہیں لگا لیتی؟ لیکن میں کہتی ہوں کہ میں اپنے نام سے مکان کیوں نہیں لے سکتی، آخر کرایہ تو میں دے رہی ہوں؟ اس سے تو محض مسئلے پر پردہ ڈالا جائے گا۔’
زنیب بتاتی ہیں کہ اس امتیازی سلوک سے تنگ آ کر کئی مرتبہ جب انھوں نے اپنے شوہر کے نام کا استعمال بھی کیا تب بھی لوگ یہ جاننا چاہتے تھے کہ وہ کون سی ذات سے ہیں۔
وہ مزید کہتی ہیں کہ جو لوگ آپ سے سیدھے آپ کا مذہب نہیں پوچھتے ہیں وہ دوسرے طریقوں سے آپ کی شناخت جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ جیسے وہ آپ کا نام، کس علاقے سے فون کر رہی ہیں وغیرہ جاننے کی کوشش کر تے ہیں۔
زینب کہتی ہیں کہ ‘اگر آپ نے اپنا مسلم نام بتایا اور کسی ایسے علاقے کا نام لیا جہاں مسلمانوں کی آبادی ہے تو مکان مالکان کا فوری رد عمل ہوتا ہے کہ یہ زینب ہیں اور یہ مسلم اکثریتی علاقے میں رہتی ہے لہذا یہ مسلمان ہیں۔’
وہ کہتی ہیں کہ ’آپ نے دو شناختی علامات اکٹھی بتا دیں تو وہ اس نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں کہ یہ شخص مکان یا قرض دینے کے قابل نہیں ہے۔‘
انڈیا میں مسلمانوں کے ساتھ تعصب اور امتیازی سلوک کی موجودہ صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ‘آخری بار مکان کرائے پر لیتے وقت ان سے مکان مالک نے کوئی سوال نہیں کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حالات بہتر ہوگئے ہیں۔ میں کئی مسلمان افراد کو جانتی ہوں جنھیں رہائش ڈھونڈنے میں انتہائی مشکل پیش آئی ہے۔ آپ کے مسلمان ہونے کا مطلب دہشت گرد ہونا ہو گیا ہے۔ اس طرح کا امتیازی سلوک ابھی کم نہیں ہوا ہے۔’
وہ کہتی ہیں کہ ‘بلکہ یہ چیزیں 2020 کے دلی فسادات جیسے واقعات کی وجہ سے مستقل طور پر منظر عام پر آ رہی ہیں۔’
لیکن امتیازی سلوک کے شکار افراد سے ساتھ بات چیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ ان میں سے بیشتر یا تو مسلم علاقوں میں منتقل ہو جاتے ہیں یا اگر وہ عام علاقوں میں کرایہ پر گھر لینے میں کامیاب ہوتے ہیں تو وہ اکثر ان کے کسی جاننے والے یا مسلم ایجنٹ یا مکان مالک کے وجہ سے ہوتا ہے۔
لیکن سب کے لیے نئے علاقے یا شہر میں جان پہچان ہونا ممکن نہیں ہے۔ اور بعض اوقات تو ان کے لیے بھی نہیں جو صدیوں سے اسی شہر میں مقیم ہوں۔

’آپ علاقے کا نام بتائیں، میں آپ کو وہاں کا اپنا تجربہ بتاؤں گا‘
دلی سے تعلق رکھنے والے مصنف اور فلمساز سہیل ہاشمی کا خاندان شہنشاہ شاہ جہاں کے زمانے سے دلی میں مقیم ہے۔ان کے گھر کو جو دلی کی جامع مسجد کے قریب تھا سنہ 1857 کی بغاوت کے بعد انگریزوں نے منہدم کر دیا تھا۔
سنہ 1991 میں وہ اپنی ماں کے ساتھ رہتے تھے۔ لیکن جب انھوں نے اپنے اور اپنی بیوی کے دفتر کے قریب گھر تلاش کرنے کا فیصلہ کیا تو انھیں پہلی بار اس طرح کا تعصب کا تجربہ ہوا۔
وہ جہاں بھی گئے انھیں کوئی نہ کوئی بہانہ سننے کو ملا۔
وہ کہتے ہیں کہ ‘بات پوری ہو جاتی تھی لیکن جیسے ہی مکان مالک کو معلوم ہوتا تھا کہ میں مسلم ہوں، ویسے ہی اس کا ایک بھائی امریکہ سے واپس آنے والا ہوتا تھا۔’
اگرچہ وہ عملی طور پر خود کو مسلمان نہیں مانتے ہیں لیکن پھر بھی ان کا نام امتیازی سلوک کے لیے کافی تھا۔
وہ بتاتے ہیں کہ ‘اب میں اس حد پر آ گیا تھا کہ میں جس کو بھی گھر کے لیے فون کرتا تھا تو پہلے ہی بتا دیتا تھا کہ میں مسلمان ہوں۔’
ان کا کہنا ہے کہ ایک بار ایک مکان مالک نے انھیں یہ کہہ کر گھر دینے سے انکار کر دیا کہ وہ صرف ان لوگوں کو گھر کرائے پر دیتے ہیں جنھیں وہ جانتے ہیں۔
ہاشمی بتاتے ہیں کہ ‘میں نے ان سے کہا کہ کرائے دار ہمیشہ ایک بیرونی شخص ہوتا ہے جس پر مکان مالک نے کہا کہ پولیس نے ہدایت کی ہے کہ وہ انجان لوگوں کو کرائے پر گھر نہ دیں۔’
ہاشمی کا کہنا ہے کہ انھوں نے مکان مالک کو کہا کہ وہ شہر میں جس پولیس آفسر سے ان کے کردار کی تصدیق کروانا چاہتے ہیں کروا لیں۔
سہیل ہاشمی کہتے ہیں کہ ‘یہ وہ وقت تھا جب دلی میں 37 آئی پی ایس آفیسر میرے جونیئر تھے۔ اور کچھ تو وزیر اعظم کے حفاظتی دستے میں بھی تھے۔لیکن پھر بھی مجھے وہ مکان کرائے پر نہیں ملا۔’
آخرکار انھیں نو ماہ بعد ایک مکان ملا جہاں مکان مالک نے بنا کسی اضافی سوال کہ انھیں گھر دے دیا۔
وہ کہتے ہیں کہ اس کے بعدسے وہ اب تک متعدد بار کرائے کے لیے مکانات تلاش کر چکے ہیں لیکن سوائے ایک یا دو مواقع کے ہر بار انھیں اسی عمل سے گزرنا پڑا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ‘آپ علاقے کا نام بتائیں، میں آپ کو وہاں کا اپنا تجربہ بتاؤں گا۔’
انھوں نے متنبہ کیا کہ ‘ایسا نہیں ہے کہ یہ صرف مسلمانوں کے ساتھ ہوتا ہے۔1984 کے بعد یہ سکھوں کے ساتھ بھی ہوا۔دلتوں، غیر شادی شدہ مردوں، غیر شادی شدہ عورتوں اور ہم جنسی افراد کے ساتھ بھی امتیازی سلوک ہوتا ہے۔ تمام قسم کے تعصبات ہیں۔ لیکن ابھی تو سب کا مرکز مسلمان ہیں۔’
معاشرے کے علاوہ وہ حکومت کو بھی اس طرح کے تعصب کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ وہ پرانی دلی کی مثال دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ‘تقسیم ہند کے بعد وہاں کی آبادی میں کافی تبدیلی آئی تھی لیکن پر بھی یہ ایک مشترکہ مذہبی علاقہ ہوا کرتا تھا۔ 1960 کی دہائی میں حکام نے اس کو کچی آبادی کا علاقہ قرار دے دیا جس سے علاقے پر منفی اثر پڑا۔بہتر معاشی حالات والے ہندوؤں نے وہاں سے ہجرت کرنا شروع کردی۔ بہتر معاشی حالات والے مسلمان ایسا نہیں کر سکتے تھے کیونکہ ان کے لیے کوئی اور جگہ نہیں تھی۔’
ان کا کہنا ہے کہ پہلا مکان کرائے پر لینے میں اس طرح کا تعصب زیادہ تر مڈل کلاس طبقے میں دیکھا جاتا تھا لیکن اب یہ بات عام ہو گئی ہے حالانکہ یہ عمل دہائیوں قبل شروع ہوا تھا، ایودھیا تحریک نے اسے مرکزی دھارے میں شامل کر دیا۔’
وہ کہتے ہیں کہ پہلے نظر کی شرم ہوتی تھی۔ لیکن ایودھیا تحریک دراصل کٹ آف ہے جب اس طرح کی چیزیں برہنہ ہونا شروع ہوگئیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ‘اس کا واحد حل یہ ہے کہ آپ کو سیکولر روایات کے دفاع میں کھل کر سامنے آنا ہوگا۔ آپ کو پوری طرح سے زور ڈالنا ہوگا کہ روایات کے نام پر جو کچھ بھی بکواس ہو رہی ہیں وہ ختم ہوں۔’


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں