اویغور کمیونٹی: ’چین پر نسل کشی کا قابلِ اعتبار مقدمہ قائم کیا جا سکتا ہے‘

اویغور کمیونٹی: ’چین پر نسل کشی کا قابلِ اعتبار مقدمہ قائم کیا جا سکتا ہے‘

برطانیہ میں شائع ہونے والی ایک باقاعدہ قانونی رائے کے مطابق اس بات کے واضح ثبوت ہیں کہ چینی حکومت اویغور برادری کے خلاف نسل کشی کے جرائم میں ملوث ہے۔
اس قانونی رائے میں کہا گیا ہے کہ شمال مغربی چین میں بڑے پیمانے پر ایسے ثبوت ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی حکومت اس مسلم اقلیت (اویغور) کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
یہ ثبوت ظاہر کرتے ہیں کہ دورانِ حراست اویغور مسلمانوں کو جان بوجھ کر نقصان پہنچانے، عورتوں میں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت ختم کرنے اور اسقاط حمل کو فروغ دینے جیسے اقدامات اٹھائے گئے جبکہ اس کے علاوہ ایغور خاندانوں کے بچوں کو زبردستی ان کی برادری سے باہر منتقل کرنے کے ثبوت بھی ملے ہیں۔
اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نمایاں طور پر ایک قابل اعتماد کیس موجود ہے کہ انسانیت کے خلاف ہونے والے ان جرائم کے لیے خود چینی صدر شی جن پنگ ذمہ دار ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ایغوروں کو نشانہ بنانے میں ’ژی جن پنگ کی قریبی شمولیت‘ اسے اس برادری کے خلاف نسل کشی کا ایک ’قابل مذمت‘ کیس بناتی ہے۔
قانونی رائے کے مطابق ’ہم نے جو شواہد دیکھے ہیں ان کی بنیاد پر، ہماری رائے میں یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ سنکیانگ میں اویغوروں کے خلاف چینی حکومت کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات دراصل انسانیت کے خلاف جرائم اور اس کمیونٹی کی نسل کشی کے مترادف ہیں۔‘
یاد رہے کہ اس نوعیت کی قانونی رائے کو کافی معتبر سمجھا جاتا ہے اور اس کے تحت شواہد اور قانون کا جائزہ لے کر کسی نتیجے پر پہنچا جاتا ہے۔ اگرچہ قانونی رائے کی عدالتی فیصلے کی طرح بہت زیادہ حیثیت نہیں ہوتی لیکن قانونی کارروائی کی بنیاد کے طور پر اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
عالمی حقوق ایکشن گروپ، جو بیرونِ ممالک میں قانونی امور اور ورلڈ اویغور کانگریس اور اویغور ہیومن رائٹس پراجیکٹ پر توجہ مرکوز کرتا ہے، نے عالمی قانونی ایکشن نیٹ ورک کی طرف سے اس رائے کو کمیشن کیا ہے، لیکن اس کے لیے کسی قسم کی کوئی ادائیگی یا فیس نہیں لی گئی۔
چین کی وزارت خارجہ سنکیانگ میں ایغوروں کے خلاف انسانی حقوق کی پامالی کے الزامات کی مستقل تردید کرتی رہی ہے۔
لندن میں چینی سفارت خانے نے مغرب کی چین مخالف قوتوں پر سنکیانگ کے بارے میں ’صدی کا سب سے بڑا جھوٹ‘ گھڑنے کا الزام لگایا ہے۔
100 صفحات پر مشتمل اس دستاویز کو، جسے ایلیسن میکڈونلڈ کیوسی سمیت لندن کے ایسیکس کورٹ چیمبرز کے سینیئر بیرسٹرز نے مرتب کیا ہے، سنکیانگ میں چین کے اقدامات کے متعلق برطانیہ میں ہونے والی پہلی باقاعدہ قانونی سرگرمی سمجھا جا رہا ہے۔
یہ رائے اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ ایک ایسا قانونی راستہ ہے جس کی برطانوی جج اس صورت میں پیروی کریں گے اگر پارلیمنٹ کسی نئی قانون سازی پر اتفاق رائے کرتے ہوئے ہائیکورٹ کو نسل کشی کے معاملات پر فیصلہ کرنے کی اجازت دے دیتی ہے۔ تمام جماعتوں کے اراکینِ پارلیمنٹ امید کر رہے ہیں کہ وہ اسے منگل کے روز ہاؤس آف کامنز سے پاس کروا لیں گے۔
وزرا نسل کشی کا اندازہ لگانے میں پارلیمانی کمیٹیوں کے کردار کو فروغ دینے کی پیشکش کر کے اس بغاوت کو ختم کرنے کی امید کر رہے ہیں، لیکن سمجھا جا رہا ہے کہ متعلقہ کمیٹیوں نے اس خیال کو مسترد کر دیا ہے۔
یہ قانونی رائے، حکومتوں، بین الاقوامی تنظیموں، تعلیمی سکالرز، خیراتی اداروں اور میڈیا سے چھ ماہ تک عوامی طور پر دستیاب شواہد کے ایک مکمل قانونی جائزے پر مبنی ہے۔
ان دستاویزات میں زندہ بچ جانے والوں سے بطور گواہ لیے گئے ثبوت، مصنوعی سیاروں سے لی گئی تصاویر اور چینی حکومت کی جانب سے ریلیز کیے گئے کاغذات شامل ہیں۔
نسل کشی کو ثابت کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ عدالت کو یہ باور کروانا پڑتا ہے کہ کسی قومی، نسلی یا مذہبی گروہ کو مکمل طور پر یا جزوی طور پر تباہ کرنے کے ارادے سے ان جرائم کا ارتکاب کیا گیا۔
یہ رائے اویغوروں کی ’غلامی، ان پر تشدد، عصمت دری، زبردستی نس بندی اور ظلم و ستم‘ کی جامع تفصیلات بیان کرتی ہے۔
رائے میں کہا گیا ہے کہ ’اس بات کے واضح شواہد موجود ہیں کہ نظربند افراد کو متعدد قسم کے شدید جسمانی تشدد اور نقصان کا سامنا ہے۔‘
’نظربند افراد کے مطابق انھیں انتظامیہ کی جانب سے بجلی کے جھٹکوں کی سزائیں دی جاتی ہیں، طویل دورانیے تک دباؤ کی پوزیشنوں پر رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے، مارا پیٹا جاتا ہے، کھانے سے محروم رکھا جاتا ہے اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر رکھا جاتا ہے۔‘
کسی برادری کے اندر پیدائش کے عمل کو روکنے والے اقدامات ان سرگرمیوں میں شامل ہیں جو بین الاقوامی قانون میں نسل کشی کے طور پر شمار ہوتی ہیں۔ اس رائے میں چینی حکام کے ذریعہ آبادی پر قابو پانے کے منصوبے کے ایک حصے کے طور پر بڑے پیمانے پر زبردستی نس بندی کا ثبوت پیش کیا گیا ہے۔
اس رائے کا اختتام ان الفاظ میں ہوتا ہے: ’ایسے قابل اعتماد مصدقہ شواہد موجود ہیں جن کے مطابق اویغور خواتین کو عارضی یا مستقل طور پر (زبردستی IUDs لگا کر یا ان کی بچہ دانی کو زبردستی نکال کر) بچے پیدا کرنے سے روکا جاتا ہے، اس کے علاوہ اس بات کے بھی ثبوت موجود ہیں کہ ان خواتین کا جبری اسقاط حمل کروایا جاتا ہے۔ ہمارے خیال میں (بین الاقوامی قانون) کے تحت یہ واضح طور پر نسل کشی کے مقصد سے کیے جانے والے اقدامات ہیں۔‘
نسل کشی میں ایک نسلی گروہ کے بچے دوسرے نسلی گروہ کو زبردستی منتقل کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔
رائے میں کہا گیا ہے کہ: ’اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ اویغور بچوں کو ان کے والدین سے زبردستی دور کیا گیا ہے۔ اس میں یتیم خانے میں ان کا غیر متفقہ داخلہ (جب ان کے ایک یا دونوں والدین حراست میں ہیں) اور بورڈنگ سکولوں میں ان کے زبردستی داخلے بھی شامل ہے۔‘
مزید کہا گیا ہے: ’یہ حقیقت کہ ان بچوں کو اپنی اویغور ثقافت پر عمل کرنے کے مواقع سے محروم کر دیا گیا ہے، انھیں بعض اوقات ہان نام دیے جاتے ہیں، اور یہ کہ بعض اوقات ہان نسلی خاندانوں کے ذریعے انھیں گود لیا جاتا ہے۔۔۔ یہ سب اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ انھیں جبری طور پر والدین سے دور کیا گیا ہے۔ اور یہ سب اقدامات اویغور آبادی کو کسی نسلی گروہ کی حیثیت سے تباہ کرنے کے ارادے سے انجام دیے گئے ہیں۔‘
رائے میں کہا گیا ہے کہ یہاں ایک ’قابل مذمت‘ معاملہ موجود ہے کہ نسل کشی کی ذاتی ذمہ داری صدر ژی جن پنگ اور دو سینیئر چینی عہدیداروں، سنکیانگ کی عوامی کانگریس کے نائب سیکریٹری ژو ہیلون اور سنکیانگ میں پارٹی کے سیکریٹری چن کوانگائو پر ہے۔
اس میں کمیونسٹ پارٹی کی دستاویزات اور دوسرے شواہد کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ ’صدر ژی ریاستی پالیسی کی مجموعی سمت کو کنٹرول کرتے ہیں اور اپنی تقریروں کے ذریعے اویغوروں کے ساتھ اس ناروا سلوک کی تاکید کرتے ہیں۔ صدر ژی چن اور ژو ہیلون نے XUAR میں کیے گئے اقدامات کو وضع کرنے اور ان پر عمل درآمد کروانے والی اس مجموعی پالیسی، جس میں بڑے پیمانے پر نظربندیاں اور نگرانی بھی شامل ہے، پر خود بھی عمل کر کے دکھایا ہے۔‘
اس میں کہا گیا ہے: ’ہم سمجھتے ہیں کہ انسانیت کے خلاف جرائم کے لیے ان تینوں افراد میں سے ہر ایک کے خلاف قابل اعتبار مقدمہ بنتا ہے۔‘
اس میں مزید کہا گیا ہے: ’مذکورہ بالا شواہد سے صدر جن پنگ، چن کوانگائو اور ژو ہیلون کی جانب سے بہت سی تدابیر شروع کرنے اور ان پر عمل درآمد کروانے میں ان کی قریبی شمولیت کی نشاندہی ہوتی ہے۔ اویغوروں کو سختی سے نشانہ بنانے والے یہ اقدامات ایک ساتھ اور اس حد تک اٹھائے گئے کہ ان سے کوئی بھی اویغوروں کو ختم کر دینے والے ان کے ارادوں کا پتہ لگا سکتا ہے۔‘
’ان حالات میں ہمارا ماننا ہے کہ اس امکان کی ایک قابل فہم تشویش موجود ہے کہ ان تینوں افراد میں سے ہر ایک اویغوروں کو تباہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے لہذا اسی سے ان کے خلاف نسل کشی کے مقدمے کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔‘
لندن میں چینی سفارتخانے کا اصرار ہے کہ سنکیانگ میں اویغوروں کی آبادی بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق، تمام نسلی گروہوں کے مذہب اور ثقافت کی قانونی حیثیت اور انھیں ایک جیسی آزادیاں حاصل ہیں۔
سفارتخانے نے کہا ہے کہ ’مغرب میں چین مخالف قوتوں نے سنکیانگ کے بارے میں متعدد من گھڑت غلط معلومات مختلف شکلوں میں ’صدی کے سب سے بڑے جھوٹ‘ کے طور پر پھیلائیں۔ انھوں نے چین کی شبیہہ اور سنکیانگ کے بارے میں اس کی پالیسیوں کو نقصان پہنچایا ہے۔‘
اس میں مزید کہا گیا: ’جو بھی منصفانہ ذہن رکھنے والا ہے وہ دیکھ سکتا ہے کہ ان قوتوں کا اصل ارادہ چین کی ترقی کو دبانے اور ان پر قابو پانا ہے۔۔۔ ان کی چالیں سرد جنگ کی ذہنیت، بالادست عالمی نقطہ نظر اور صفر کے حساب سے چلنے والی ذہنیت سے چلتی ہیں۔ چین، کبھی بھی اس طرح کی شیطانیت کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ جھوٹ لوگوں کو تھوڑی دیر کے لیے گمراہ کر سکتا ہے، لیکن دنیا کا اعتماد نہیں جیت سکتا۔ حقائق اور حقیقت بالآخر سامنے آ جائے گی۔‘


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں