شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید:

مساجد و مدارس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا آئین کی خلاف ورزی ہے

مساجد و مدارس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا آئین کی خلاف ورزی ہے

زاہدان (سنی آن لائن) شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے انیس اکتوبر دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں ایران کے طول و عرض میں اہل سنت کی بعض مساجد اور مدارس کے لیے سرکاری حکام کی جانب سے مسائل پیدا کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایسے اقدامات کو آئین اور اتحاد بین المسلمین کے خلاف قرار دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اس حوالے سے کہا: ہمیں مسلسل رپورٹس مل رہی ہیں کہ بعض مدارس کے لیے رکاوٹیں پیدا کی جارہی رہیں اور مساجد میں اقامہ نماز سمیت مذہبی جلسوں کے انعقاد کے لیے کمیٹیوں اور نمازیوں پر دباؤ ڈالاجارہاہے۔
انہوں نے مزید کہا: ایسی خبریں سن کر ہمیں حیرت بھی ہوتی ہے اور شرم کا احساس بھی ہوتاہے کہ کس طرح ایک دینی مدرسے کی سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش کی جارہی ہے یا کسی مسجد کے داخلی امور میں مداخلت ہورہی ہے۔ یہ سب اتحاد اور یکجہتی کے تقاضوں کے خلاف ہے۔
ممتاز سنی عالم دین نے ایسے اقدامات کو ’بچگانہ‘ یاد کرتے ہوئے کہا: کچھ افراد جو خود کو حاکم و ذمہ دار سمجھتے ہیں، ایسی بچگانہ حرکتوں کا ارتکاب کررہے ہیں۔ مذہبی و تعلیمی امور میں مداخلت اور رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوششیں آئین کے خلاف ہیں؛ قانون کی رو سے ہمیں تعلیم اور عبادت کے مسائل میں آزادی حاصل ہے۔
مولانا عبدالحمید نے زور دیتے ہوئے کہا: موجودہ حساس حالات میں جب ہر سو لوگ معاشی بحرانوں سے نالاں ہیں اور معاشی پابندیوں کی وجہ سے شدید شکایات پائی جاتی ہیں، کچھ عناصر لوگوں پر مذہبی دباؤ ڈالتے ہیں جو نہایت بے وقوفی کی نشانی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ہمارے ملک اور صوبہ (سیستان بلوچستان) میں کچھ ڈائریکٹرز اور حکام لسانی و مسلکی تعصب رکھتے ہیں؛ ایسے لوگ کمزور شمار ہوتے ہیں جو صرف اپنے ہی لوگوں کو دیکھتے ہیں اور پوری قوم کا خیال نہیں رکھ سکتے ہیں۔ لسانی و مسلکی تعصبات کسی بھی ملک اور معاشرے کے لیے خطرناک ہیں۔ ہمیں فراخدل اور معتدل حکام اور افسروں کی ضرورت ہے۔

اپنے خطاب کے آخر میں مولانا عبدالحمید نے ہفتہ ’بیمہ سلامت/صحت انشورنس‘کی جانب اشارہ کرتے ہوئے عوام کی صحت کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی خدمات کو سراہا۔
نیز انہوں نے امید ظاہرکی میرجاوہ کے سرحدی علاقے سے اغواہونے والے اہلکار جلد ازجلد رہا ہوکر اپنے گھروں کو پہنچ جائیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین