ایرانی قوم کے انقلاب تاریخی واقعہ تھا

ایرانی قوم کے انقلاب تاریخی واقعہ تھا

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ایران کے عوامی انقلاب کی 37ویں سالگرہ کے موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے اس انقلاب کو ایک ’تاریخی واقعہ‘ یاد کیا جو اللہ تعالی پر توکل کرنے سے کامیابی سے ہمکنار ہوا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے پانچ فروری کے خطبہ جمعہ کے ایک حصے میں نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالی ہر اس قوم کے حالات میں تبدیلی لاتا ہے جو تبدیلی و ترقی کے خواہاں ہے۔ ایرانی قوم کا عزم و اور ترقی طلبی نے انہیں اغیار سے وابستگی و تعلق سے نجات دلایا۔ عوام نے ایک ظالم اور آمر حکومت کے خلاف آواز اٹھائی جس میں عوام کا کوئی حق نہیں تھا۔ شاہ کے رجیم میں جو فیصلہ شاہ کرتا، پوری قوم اس کی فرمانبرداری پر مجبور تھی اور حکام جس طریقے سے چاہتے قوانین میں تبدیلی لاتے تھے۔
انہوں نے مزیدکہا: گیارہ فروری انیس سو اناسی کو ایرانی قوم کا انقلاب ایک عظیم حادثہ تھا۔ اس قیام نے ایرانی عوام کے علاوہ اہل دنیا کو بھی بیدار کیا۔ ایرانی قوم نے ثابت کردیا اللہ تعالی پر بھروسہ کرکے اجنبیوں سے وابستگی بند کی جاسکتی ہے اور اپنی تقدیر اپنے ہی ہاتھوں لیا جاسکتاہے۔ یہ سب سے بڑی نعمت ہے جو ایرانی قوم کو نصیب ہوئی۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: آج دنیا کے مختلف کونوں میں انقلابات بپا ہوچکے ہیں اور عوام بیدار ہوچکے ہیں، لیکن دشمن ان کی محنتوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں اور اس راہ میں انہیں چیلنجز کا سامنا ہے۔ امید ہے ان کی کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور جو حکومتیں اپنے ہی مفادات کی خاطر قوموں کا قتل عام کرتے ہیں، اللہ تعالی انہیں خوار و ذلیل فرمائے۔

اہل سنت ایران اپنے حقوق کو آئینی حدود میں مطالبہ کرتے ہیں
بات آگے بڑھاتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اہل سنت ایران کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ایرانی اہل سنت نے دیگر قومیتوں کے شانہ بہ شانہ انقلاب کی کامیابی کے لیے جدوجہد کی اور ہر سٹیج پر اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت کی ہے۔ سنی برادری ایران کو اپنا گھر سمجھتی ہے اور اپنے وطن سے وفادار ہے۔ اگر خدانخواستہ کسی دن ہمارے ملک کو کوئی خطرہ ہو، سنی برادری ملک کی حفاظت کے لیے پوری طرح میدان میں اترے گی۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مزیدکہا: ایرانی اہل سنت قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی قانون کی رعایت و پاسداری کی ترغیب دیتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے پوری قوم کو یکساں نگاہ سے دیکھا جائے اور تمام لسانی ومذہبی اکائیوں کے قابل افراد کو ملک چلانے میں شریک کیا جائے۔ صوبائی اور ملکی سطح پر ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جائے۔ اس ملک کو اگر کوئی نفع پہنچ جائے یا نقصان، سب اس میں شریک ہیں۔
انہوںنے صدرمملکت کو خطاب کرتے ہوئے کہا: صدر محترم سے درخواست ہے انتخابات کے دوران اپنے دیے گئے وعدوں کو پورے کریں۔ موجودہ حکومت نے کچھ اقدامات اٹھائے ہیں لیکن مزید کا انتظار ہے۔ اسلامی انقلاب سب کا ہے اور آئین کا پورا نفاذ اور معاشرے میں قانونی آزادیوں کی فراہمی سے قوم میں مزید یکجہتی پیدا ہوتی ہے اور عوام ایک دوسرے سے قریب ہوں گے۔

مسجدوں پر حملہ کرنا اور بے گناہوں کا قتل مذموم ہے
ممتاز سنی عالم دین نے اپنے بیان کے ایک حصے میں عراق سمیت بعض ملکوں میں مساجد اور مذہبی مقامات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا: اسلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ اعتدال ومیانہ روی کا ہے۔ سنی برادری ہر قسم کی انتہاپسندی سے بیزار ہے اور شدت پسندی، چاہے کسی بھی گروہ اور مسلک کی جانب سے ہو، ان کی نگاہ میں قابل مذمت ہے۔
مولانا عبدالحمید نے تاکید کی: شیعہ وسنی مساجد پر عراق سمیت دیگر ممالک میں حملہ کرنا، انہیں جلانا، ائمہ مساجد اور معصوم لوگوں کو قتل کرنا چاہے شیعہ ہوں یا سنی، عیسائی ہوں یا کسی اور مذہب کے ماننے والے، یہ ہماری نظر میں مذموم عمل ہے اور ہم اس سے بیزاری کا اعلان کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا: جو لوگ کسی بھی لباس اور لبادے میں مذہبی مقامات کو نشانہ بناتے ہیں، اولیاءاللہ کی قبروں یا دیگر عوامی مقامات پر حملہ کرتے ہیںاور نہتے لوگوں کو مارتے ہیں، ان کا یہ کام ہماری نظر میں مذموم ہے۔
اپنے خطاب کے آخر میں شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اہل علم اور علمائے کرام کی عزت اور احترام محفوظ رہنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا: تمام سیاسی و مذہبی گروہ ہر حال میں آداب کیا خیال رکھیں اور کسی پر تنقید کرتے ہوئے اس کی عزت محفوظ رکھیں۔ علمائے کرام کا احترام کرنا اسلامی اخلاق کی نشانی ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین