استنبول دھماکے میں 9 جرمن شہریوں سمیت 10 ہلاک

استنبول دھماکے میں 9 جرمن شہریوں سمیت 10 ہلاک

ترکی کے شہر استنبول کے مرکزی سیاحتی مقام سلطان احمد اسکوائر پر دھماکے کے نتیجے میں 9 جرمن شہریوں سمیت 10 افراد ہلاک جبکہ 15 افراد زخمی ہوگئے۔

امریکی خبر رساں ادارے نے استنبول کے گورنر آفس کے حوالے سے بتایا ہے کہ دھماکے میں 10 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکے کے بعد امدادی ٹیمیں اور پولیس جائے وقوع کی طرف روانہ ہوگئیں جبکہ علاقے کو سیل کردیا گیا۔
ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے خودکش دھماکے پر جرمن چانسلر انجیلا مارکل سے تعزیت کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے میں مرنے والے زیادہ تر جرمن تھے۔
اناتولیہ نیوز ایجنسی نے وزیراعظم کے دفتر کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے واقعے کا شکار ہونے والے 10 افراد کی ہلاکت پر غم کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ان میں سے زیادہ تر جرمن تھے۔
ترکی کی ڈوگن نیوز ایجنسی نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ دھماکا انتہائی زوردار تھا، جس کی آواز قریبی علاقوں میں بھی سنی گئی.
دوسری جانب ترکی کے سرکاری ٹیلی ویژن ٹی آر ٹی کے مطابق دھماکا خود کش تھا تاہم حکام کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی.
سلطان احمد اسکوائر استنبول کا مرکزی سیاحتی مقام ہے جہاں ٹوپ کپی پیلس اور نیلی مسجد (Blue Mosque) بھی واقع ہے.
ترکی کو اِن دنوں کرد علیحدگی پسندوں اور داعش کے حملوں کا سامنا ہے۔ گذشتہ برس بھی ترکی میں 2 بڑے دھماکے ہوئے تھے.
جولائی 2014 میں شامی سرحد کے قریب شدت پسند تنظیم داعش کی جانب سے کیے گئے خودکش دھماکے کے نتیجے میں 30 افراد ہلاک ہوگئے تھے.
جبکہ گذشتہ برس اکتوبر میں انقرہ میں ایک ٹرین اسٹیشن پر نکالی گئی ایک امن ریلی میں ہونے والے 2 خودکش دھماکوں کےنتیجے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے.
مذکورہ دھماکے اُس وقت ہوئے جب لوگ ایک امن ریلی میں حصہ لینے کے لیے جمع ہو رہے تھے۔ ریلی کا مقصد کرد علیحدگی پسند گروہ کے خلاف تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کرنا تھا۔

پاکستان کی مذمت
پاکستان نے استنبول کے سلطان احمد اسکوائر میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے.
دفترخارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس حملے میں جان کی بازی ہارنے والوں کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتا ہے اور واقعے میں زخمی ہونے والوں کی جلد از جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہے.
بیان میں ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا.
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان دکھ کی اس گھڑی میں ترکی کی حکومت اور عوام کے ساتھ ہے.
وزیراعظم نواز شریف اور صدر ممنون حسین کی جانب سے بھی استنبول دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے.

ڈان نیوز


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین