اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے سیاسی شعبے کے نائب صدر اور سابق وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ بعض حلقوں کو فلسطین میں جاری انتفاضہ القدس سے سخت خوف لاحق ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کوئی انتفاضہ کو ’’تحریک‘‘ کا نام دیتا ہے۔ کوئی اسے ’مشتعل نوجوانوں‘ کا جذباتی رد عمل قرار دے رہا ہے اور کوئی اسے کسی دوسرے نام سے پکار رہا ہے۔ اس کے نام بدلنے سے تحریک پرکوئیاثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک وطن عزیز اور فلسطینی قوم کی آزادی کی تحریک کا حصہ ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسماعیل ھنیہ نے ان خیالات کا اظہار شمالی غزہ میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگوں اور حلقوں کو تحریک انتفاضہ سے خوف لاحق ہے تاہم انہوں نے تحریک انتفاضہ سے خائف لوگوں کا نام نہیں لیا۔ اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ تحریک انتفاضہ القدس کو ایک جذباتی رد عمل پرمبنی تحریک قرار دے کراسے ناکام بنانے کی کوشش کررہے ہیں مگر ایسے لوگوں کی سازشوں سے تحریک انتفاضہ کمزور نہیں پڑے گی۔
حماس رہ نما کا کہنا تھا کہ تحریک انتفاضہ فلسطینی قوم کی نمائندہ تحریک ہے۔ یہ تحریک ان نوجوانوں کا فطری رد عمل ہے جو صہیونی ریاست کے ساتھ مذاکرات کے ڈرامے کی کھل کر مخالفت کرتے رہےہیں۔ اسرائیلی فوج اور یہودی شرپسندوں کی جانب سے قبلہ اول کی بے حرمتی کے رد عمل میں فلسطینیوں کو تحریک انتفاضہ پرمجبور ہونا پڑا ہے۔
انہوں نے جمعرات کے روز مغرکنارے کے بیت لحم شہر میں تین اور الخلیل شہر میں ایک فلسطینی کی شہادت کو صہیونی فوج کی منظم ریاستی دہشت گردی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صہیونی ریاست ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت فلسطینیوں کی نسل کشی کررہی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی شہریوں کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
مرکزاطلاعات فلسطین

آپ کی رائے