غزہ کے مختلف مقامات پر اسرائیلی فوج کے فضائی حملے

غزہ کے مختلف مقامات پر اسرائیلی فوج کے فضائی حملے

فلسطین کےعلاقے غزہ کی پٹی کے جنوب اور وسط میں اسرائیلی فوج کے لڑاکا طیاروں نے رات گئے بمباری کی ہے تاہم آخری اطلاعات تک بمباری سے کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں مل سکی۔ اطلاعات کے مطابق بمباری میں جنوبی غزہ میں رفح اور وسطی علاقے میں المغازی کیمپ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کے مراسلے کے مطابق سوموار اور منگل کی درمیانی شب اسرائیل کے ایف 16 طرز کے جنگی طیاروں نے اسلامی تحریک مزاحمت “حماس” کےعسکری ونگ القسام بریگیڈ کےمراکزکو نشانہ بنایا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ انہوں نے حملے کا نشانہ بننے والے علاقے میں زور دار دھماکے کی آواز سنی اور وہاں سے دھوئیں کے بادل بلند ہوتے دیکھے جس کے نتیجے میں متعدد مکانوں کو غیرمعمولی نقصان پہنچا ہے تاہم کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں مل سکی۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کے جنگی طیارے اور ڈرون طیارے رات بھر غزہ کی فضاء میں نچلی پروازوں کے ساتھ اڑانے بھرتے رہے، جس کے باعث شہریوں میں خوف وہراس پھیل گیا تھا۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ اسرائیلی بمباری سے “کونتینرا”اور اس سے ملحقہ علاقے کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں دو مکان تباہ ہوئے ہیں۔
اسرائیلی جنگی طیاروں نے دوسرا حملہ جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح کے مقام پر پرانے ہوائی اڈے کے قریب ایک کمپائونڈ پر کیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والے مکان سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے گئےہیں۔
درایں اثناء اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخائی ادرعی نے کہا ہے کہ رات گئے ہمارے جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی میں حماس کے دو مراکز کو بمباری سے نشانہ بنایا ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ فضائی حملے غزہ کی پٹی سے داغے گئے راکٹوں کا جواب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی سے گذشتہ شام اسرائیلی کالونیوں پر راکٹ حملےکیے گئے تھے۔ انہوں نے راکٹ حملوں کی ذمہ داری حماس پرعاید کی اور کہا کہ راکٹ حملوں کی صورت میں فلسطینی مزاحمت کاروں کو سخت جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انتفاضہ القدس کے 26 روز، 61 شہید، 2100 سے زائد زخمی
فلسطین میں اسرائیلی مظالم اور مقدس مقامات کے دفاع کے لیے جاری عوامی تحریک انتفاضہ کے دوران اسرائیلی فوج کے ہاتھوں طاقت کے استعمال کے نتیجے میں پچھلے 26 ایام میں اب تک 61 فلسطینی شہری شہید اور 2100 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں سوموار کے روز اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں مزید تین فلسطینی شہید ہوئے۔ فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیاہے کہ مجموعی طورپر چھبیس ایام میں اب تک شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 61 ہوگئی ہے۔
وزارت صحت کے بیان کی ایک نقل مرکزاطلاعات فلسطین کو بھی موصول ہوئی ہے۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ روز الخلیل شہر میں اسرائیلی فوجیوں نے دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 22 سالہ راکت ساکت عبدالرحیم ثلجی جرادات، 20 سالہ سعد محمد یوسف الاطرش اور 19 سالہ ایاد روحی جرادات کو شہید کیا۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر میں اب تک اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مجموعی طورپر 61 فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔ ان میں 14 بچے شامل ہیں۔
شہداء میں مجموعی طورپر 23.3 فی صد کم عمر بچے بتائےجاتے ہیں۔ مغربی کنارے اور بیت المقدس سے 43 فلسطینی شہید، غزہ کی پٹی میں 17 اور ایک فلسطینی نےجزیرہ نما النقب میں جام شہادت نوش کیا۔
بیان میں بتایا گیاہے کہ تحریک انتفاضہ کے دوران اب تک زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 2120 ہوگئی ہے۔ ان میں مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے شہری زیادہ ہیں، جب کہ غزہ کی پٹی اور بیت المقد سمیت دوسرے فلسطینی شہروں میں بھی فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ 987 فلسطینیوں کو فائرنگ کرکے زخمی کیاگیا۔ 910 کو ربڑ کے خول میں لپٹی دھاتی گولیوں سے نشانہ بنایا گیا۔ پانچ ہزار افراد آنسوگیس کی شیلنگ سے متاثر ہوئےہیں۔
غرب اردن میں زخمیوں کی تعداد 1650 بتائی جاتی ہے جن میں 278 بچے شامل ہیں۔ غرب اردن کے زخمیوں میں سے 620 کو براہ راست گولیوں سے نشانہ بنایا گیا۔ 820 کو ربڑ کی گولیوں سے زخمی کیا گیا اور 196 افراد لاٹھی چارج سے زخمی ہوئے۔
غزہ کی پٹی میں زخمیوں کی تعداد 800 درج کی گئی ہے۔ ان میں 180 بچے شمال ہیں۔ زخمیوں میں سے 320 کو براہ راست گولیاں ماری گئیں اور 330 فلسطینی آنسوگیس کی شیلنگ سے زخمی ہوئے جب کہ 100 افراد دھاتی گولیوں سے زخمی کیے گئے۔

مرکزاطلاعات فلسطین


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین