امریکی اتحاد کا روس سے شام میں فضائی حملے روکنے کا مطالبہ

امریکی اتحاد کا روس سے شام میں فضائی حملے روکنے کا مطالبہ

ترکی اور امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد میں شامل ممالک نے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شامی حزب اختلاف پر اپنے فضائی حملے روک دے اور اس کے بجائے دولت اسلامیہ عراق وشام(داعش) کے جنگجوؤں کے خلاف لڑائی پر اپنی توجہ مرکوز کرے۔
ترکی ،امریکا ،برطانیہ ،فرانس ،جرمنی اور ؛خلیجی عرب اتحادیوں کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں روس کے شام میں فضائی حملوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس سے تنازعے کی شدت میں اضافہ ہوگا اور انتہاپسندی کو فروغ ملے گا۔
بیان کے مطابق:”ہم شام میں روس کی فوجی مداخلت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔خاص طور پر روسی فضائیہ کے حماہ ،حمص اورادلب میں گذشتہ بدھ سے جاری حملوں پر تشویش ہے کیونکہ ان میں شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں اور داعش کو ہدف نہیں بنایا گیا تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ”ہم روسی فیڈریشن سے شامی حزب اختلاف اور شہریوں پر فوری طور پر حملے روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں”۔یہ بیان جرمن وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر بھی جاری کیا گیا ہے۔

پوتین کی پیرس آمد
درایں اثناء روسی صدر ولادی میر پوتین اپنے فرانسیسی ہم منصب فرانسواولاند سے شامی بحران کے حوالے سے بات چیت کے لیے پیرس پہنچے ہیں۔دونوں لیڈر یوکرین میں جاری بحران کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
ولادی میر پوتین نے جمعرات کو شام میں روسی طیاروں کے فضائی حملے میں شہریوں کی ہلاکتوں کی خبر کو ایک ”اطلاعاتی حملہ” قرار دیا تھا۔روسی جنگی طیاروں نے جمعرات کی شب تین صوبوں ادلب ،حماہ اور حلب میں مبینہ طور پر داعش کے ٹھکانوں پر اٹھارہ فضائی حملے کیے ہیں مگر امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ان تین صوبوں میں داعش کے بہت کم جنگجو موجود ہیں اور ان کے بجائے اعتدال پسند حزب اختلاف کے باغی جنگجوؤں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔
برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے مطابق صوبہ الرقہ میں جمعہ کے روز روسی طیاروں کے نئے فضائی حملے میں داعش کے بارہ جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔اس صوبے پر داعش کا گذشتہ سال سے کنٹرول ہے۔

العربیہ


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین