دین میں بدعت ناقابل قبول ہے

دین میں بدعت ناقابل قبول ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اہل سنت زاہدان کے خطبہ جمعہ چار ستمبر دوہزار پندرہ میں اسلام کو ایک جامع و کامل دین یاد کرتے ہوئے بدعات و خرافات سے پرہیز پر زور دیا۔
’سنی آن لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق خطیب جمعہ اہل سنت زاہدان نے اپنے بیان کا آغاز قرآنی آیت: «وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا» [الحشر:7] کی تلاوت سے کرتے ہوئے کہا: قرآن پاک جو سب سے بڑی سندِ زندگی ہے، ہمیں کئی مقامات پر اتباعِِ سنت کا حکم دیتاہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اللہ تعالی کی اتباع کی مانند ہے، چونکہ آپﷺ اللہ کی جانب سے بھیجے گئے تھے اور جو کچھ فرماتے تھے سب اللہ کی طرف سے تھا۔
’سنت‘ کا مطلب واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا: سنت کا مفہوم یہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت، طریقہ اور سنہری باتیں سنت کے زمرے میں ہیں۔
بدعت سے گریز پر تاکید کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: آپﷺ نے مسلمانوں کو بدعت اور دین میں نئی چیزوں کے اضافے سے منع فرمایاہے جو شریعت کے خلاف ہیں۔ سابقہ امتیں بدعت ہی کی وجہ سے گمراہی کے دلدل میں پھنس گئیں؛ یہودیوں نے حضرت موسی علیہ السلام کے دین میں بدعت ایجاد کرکے تبدیلی لائی، یہاں تک کہ تورات کو لفظی و معنوی طورپر تحریف کی۔ اس پر بھی بس نہ کی اور عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا قرار دیا۔
انہوں نے مزیدکہا: عیسائی بھی بدعات و خرافات میں مبتلا ہوئے، انجیل کی تحریف کر بیٹھے ، حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا کا بیٹا قرار دیا اور تثلیث کے باطل عقیدے کو اپنایا۔ بدعت نے یہودیوں اور عیسائیوں کوشرک میں مبتلا کردی۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے بدعت سے پرہیز پر تاکید کرتے ہوئے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خبردار فرمایاہے کہ یہود ونصارا کی پیروی مت کریں اور ان کی طرح بدعات و خرافات میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ آپﷺ اپنی عمر کے آخری ایام میں فرماچکے تھے اللہ تعالی کی لعنت یہود و نصارا پر ہو جنہوں نے پیغمبروں اور ولیوں کی قبروں کو مسجد و عبادتگاہ اپنالی۔ آپﷺ کو خوف تھا کہیں مسلمان بھی قبروں کو جائے عبادت نہ بنائیں۔ نبی کریم ﷺ کی قبر مبارک حضرت عایشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں قرار دی گئی، اس کی ایک حکمت یہی تھی کہ لوگ اسے عبادتگاہ نہ بنائیں۔
انہوں نے مزیدکہا: ہماری نجات اور سلامتی صرف اتباع شریعت میں ہے۔ سب سے بہترین ہدایت و ارشاد نبی کریم ﷺ کی ہدایت ہے۔ بدترین کام دین میں بدعت اور نئی چیزوں کا اضافہ ہے، یعنی جو چیز دین کا حصہ نہیں اسے دین کا حصہ سمجھا جائے اور ثواب کی امید بھی رکھی جائے۔
مولانا نے کہا اختلاف کی صورت میں قرآن پاک، سنت رسول اللہ اور خلفائے راشدین کو تھام لینا چاہیے۔ آپﷺ نے پیش گوئی فرمائی تم لوگ میرے بعد بہت سارے اختلافات دیکھوگے، اس وقت میری اور خلفائے راشدین کی راہ اپنالیں۔
حضرت شیخ الاسلام نے اسلام کو جامع و کامل دین یاد کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالی کا دین کامل اور جامع ہے، اس میں مزید اضافہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جو چیز دین کا حصہ نہیں، اگر ہم اسے دین کا حصہ سمجھ لیں تو یہ اسلام کی رو سے مردود اور ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے مزیدکہا: اسلام میانہ روی و اعتدال کا دین ہے۔ اسلام میں افراط و تفریط کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسلام نے تکفیر سے منع کیاہے۔ اگر کہیں کوئی کمی کوتاہی ہو، اس کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ اسلام تدبیر، مکالمہ اور رواداری کا دین ہے دہشت اور دہشت گردی کا نہیں!

جہاد کی شرایط کو بڑے علمائے کرام بیان کرسکتے ہیں
خطیب اہل سنت نے اسلام فوبیا کو مسترد کرتے ہوئے کہا: آج کل اسلام دشمن عناصر اسلام فوبیا کا سہارا لے کر لوگوں کو امن، دوستی اور صلح کے دین سے ڈرانا چاہتے ہیں۔ اسلام فراخدلی، اعلی ظرفی اور مصالحت کا دین ہے۔ اسلام نے جہاد کو قابض، متکبر اور جابر عناصر کے خلاف قرار دیاہے جو منطق اور مکالمے کے دشمن ہیں۔
انہوںنے مزیدکہا: جہاد دین کے اصلی محوروں میں سے ایک ہے۔ لیکن جہاد کی شرایط کو بڑے علما ہی نشاندہی کرسکتے ہیں۔ آج کل بہت ساری رسومات معاشرے میں پائی جاتی ہیں جو شریعت کے خلاف ہیں، لہذا تمام مسائل میں اہل علم اور متخصصین سے مشورت لینی چاہیے۔

اویس بادپا ایک ذہین اور ہوشیار نوجوان تھے
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے آخر میں مولانا مفتی قاسمی کے فرزندِ ارجمند اور مکتبہ علامہ ندوی کے منیجر ’اویس بادپا قاسمی‘ کے انتقال پر گہرے رنج وغم اور افسوس کا اظہار کیا اور ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔
انہوںنے کہا: اویس بادپا کئی سالوں نے تھلاسیمیا سے دوچار تھے اور ’تھلاسیمیا سوسائٹی‘ کے سرگرم رکن تھے۔ اویس ایک متقی نوجوان تھے اور علالت کو خاطر میں لائے بغیر ثقافتی سرگرمیوں میں حصہ لیتے تھے، چنانچہ کئی کتابوں کو فارسی میں ترجمہ کیا یا دوبارہ شائع کرایا۔ اللہ تعالی سے دعا ہے اویس کی مکمل مغفرت فرمائے، والدین و دیگر پس ماندگان کو اجر وصبر عطا فرمائے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین