اسلامی تہذیب سب سے زیادہ کامل اور مترقی تہذیب ہے

اسلامی تہذیب سب سے زیادہ کامل اور مترقی تہذیب ہے

اہل سنت ایران کی ممتاز دینی شخصیت مولانا عبدالحمید نے بعض اسلامی احکام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اسلامی تہذیب کو کامل ترین اور سب سے زیادہ مترقی تہذیب قرار دیا جو انسانی معاشے کے ہردور کے تقاضوں کو پورا کرسکتی ہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے سات اگست دوہزار پندرہ (اکیس شوال) کے خطبہ جمعہ کے دوران زور دیتے ہوئے کہا: اسلامی تہذیب کے سوا تمام تہذیبیں ناقص ہیں لیکن اسلامی تہذیب انتہائی پاکیزہ اور کامل ہے۔ جب دنیا میں علم و دانش کی شدید کمی تھی اور انسانیت جہالت کی وادیوں میں سرگرداں تھی، ایسے میں اسلام نے دنیا کو بہترین تہذیب اور تحفہ پیش کیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: اسلام نے حیا و عفت اور پاکدامنی کی حفاظت اور فساد و بے راہ روی کی روک تھام کے لیے بہترین قوانین وضع کیا ہے۔ مثال کے طور پر مسلمانوں کو سفارش کی گئی ہے کہ دوسروں کی ’پرائیویسی‘ اور خلوت کا احترام کیا جائے اور بلااجازت کسی کے گھر میں داخل نہ ہوں۔ استیذان یا کسی کے گھر میں داخل ہونے کے لیے اجازت مانگنا، وجوبی احکام میں شامل ہے۔
انہوں نے مزیدکہا: اسلامی تعلیمات کی رو سے، کسی محرم شخص کے گھر میں داخل ہونے کے لیے بھی اجازت مانگنا ضروری ہے۔ البتہ عوامی اور پبلک مقامات میں داخل ہونے کے لیے اجازت مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے تاکید کرتے ہوئے کہا: اسلام صحت اور حقوق اللہ و حقوق الناس کو خیال رکھنے کا دین ہے۔ قرآن پاک نے مسلمانوں کو حکم دیاہے اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور نامحرموں کو نہ دیکھیں خاص کر وہ نگاہیں جو لذت کے ساتھ ہوں۔ اسلام نے مسلم خواتین کو حکم دیاہے جب کسی ضرورت کے لیے باہر نکلتی ہیں تو اپنی زینت ظاہر نہ کریں اور نامحرم مردوں کے سامنے زیب و زینت کا مظاہرہ نہ کریں۔ تنگ اور باریک کپڑے ہرگز خواتین کے لیے مناسب نہیں ہیں۔ اسلام حیا و پاکدامنی کا دین ہے۔
حضرت شیخ الاسلام نے عصرحاضر کی برائیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا: آج کل اکثر گھروں میں سیٹلائیٹ ٹی وی چینلز اور انٹرنیٹ تک رسائی پائی جاتی ہے۔ لہذا معاشرے کے تمام افراد کی حیا و عفت کا خیال رکھنا ضروری ہے اور اس حوالے سے عادلانہ حساسیت وسختی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ کچھ مکار و دھوکے باز لوگ لڑکیوں کو بہکاتے ہیں اور پھر لوگوں کی عزتیں برباد کرتے ہیں۔ ایمان، حیا اور غیرت بہت اہم ہے۔
منشیات کی عادت کو معاشرے کے لیے خطرناک یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا: معاشرے میں متعدد قسم کی برائیاں موجود ہیں جن میں ایک نشے کی عادت ہے۔ یہ بیماری سب کچھ تباہ کرکے چھوڑتی ہے۔ خواتین بھی اس لعنت سے دوچار ہیں اور بعض بڑے شہروں میں اس عذاب سے مبتلا خواتین گھروں سے بھاگ جاتی ہیں۔ ایسے ہی کاموں کے نتیجے میں اللہ کا غضب اٹھتاہے۔
اپنے خطاب کے اس حصے کے آخر میں مولانا نے معاشرے کی اصلاح سب کی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے بطور خاص علمائے کرام اور دین دار طبقے کو گناہوں کی بیخ کنی کے لیے کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔

پونک نمازخانے کا مسئلہ حل ہونا چاہیے
اپنے خطاب کے دوسرے حصے میں شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے تہران میں اہل سنت کے مسمار کیے گئے نمازخانے کی بحالی اورتعمیرِنو پر زور دیتے ہوئے اس واقعے پر مختلف شخصیات اور اداروں کے اظہار یکجہتی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے عصرِحاضر کے چیلنجز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: فرقہ واریت، انتہاپسندی اور شدت پسندی عصرِحاضر کے سب سے بڑے چیلنجز ہیں؛ مشرق وسطی اور دیگر ممالک کے مسلمان ان مصیبتوں سے دست وگریبان ہیں۔
انہوں نے ایرانی دارالحکومت تہران میں اہل سنت کے مرکزی نمازخانے کی تخریب کو ’خلاف توقع‘ قرار دیتے ہوئے کہا: پونک نمازخانے کو مسمار کرنا بالکل اہل سنت کے لیے متوقع نہیں تھا۔ گذشتہ ہفتے میں متعدد بیرونی و اندرونی شخصیات اور اداروں نے اہل سنت سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے جس پر ہم ان کا شکریہ ادا کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ہماری خواہش ہے سب اس مسئلے کے حل کے لیے اپنے طورپر کوشش کریں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مزیدکہا: ایرانی قوم بشمول شیعہ و سنی ایرانی حکام سے مطالبہ کرتی ہے، اس مسئلے کا مستقل حل نکالیں اور اہل سنت کے اس دردسر کو دور کریں۔
انہوں نے کہا: ممکن ہے جن لوگوں نے نمازخانہ مسمار کیاہے وہ اپنے اس کام کے لیے کوئی بہانہ پیش کریں، لیکن اللہ کو گواہ پکڑ کر کہتے ہیں پونک نمازخانہ سمیت اہل سنت کی کسی بھی مسجد یا نمازخانہ میں صرف اللہ ہی کی عبادت ہوتی ہے اور اس کے سوا کوئی کام جس سے حکومت یا شیعہ برادری کو نقصان پہنچے، وہاں ہرگز انجام نہیں پاتا ۔

تہران میں اہل سنت کی ایک مسجد بھی نہیں!
تہران میں اہل سنت کی ’نو مسجد‘ کی موجودی کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے کہا: کچھ عناصر نے افواہ پھیلائی ہے تہران میں اہل سنت کی نو مسجدیں ہیں، حالانکہ وہاں ایک مسجد بھی نہیں ہے۔ صرف کچھ نمازخانے ہیں جن میں تیس سے ایک سو تک مقتدی نماز پڑھتے ہیں۔ یہ نمازخانے بھی کرایے کے مکانات ہیں جو بعض اوقات جگہ بھی تبدیل کرتے ہیں۔ لوگ از خود ان کا کرایہ ادا کرتے ہیں۔
مولانا عبدالحمید نے زور دیتے ہوئے کہا: ہمیں امید ہے پونک نمازخانے کا مسئلہ جلدازجلد حل ہوجائے تاکہ تہران کے سنی باشندے، خاص کر پونک ٹاون اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے سنی شہری آسانی سے اپنے خالق کی بندگی کرسکیں۔
انہوں نے مزیدکہا: مسلمانوں میں بھائی چارہ و اتحاد بہت ہی اہم اور حیاتی ہے۔ الحمدللہ ایران کی سنی برادری بھائی چارہ پر یقین رکھتی ہے اور اتحاد کے خواہاں ہے۔ ہم ایرانی قوم کے اتحاد چاہتے ہیں اور ایران کا تمام مسلم ممالک سے اتحاد اور اچھے تعلقات رکھنے کی خواہشمند ہیں۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے پونک نمازخانے کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: مذکورہ نمازخانہ کو بحال کرکے تعمیر نو کی اجازت دینی چاہیے۔ ہمیں یقین ہے اعلی حکام اس واقعے پر رضامند نہ تھے اور انہیں اس کی اطلاع نہ تھی۔ لہذا توقع ہے اعلی حکام وحضرات تنقید کے بعد ہمیں شکریہ اور دعائے خیر کا موقع دیں گے۔
انہوں نے آخر میں نمازیوں سے اپیل کی اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے اور نماز کے حوالے سے اہل سنت کی پریشانی کے خاتمے کے لیے دعا کریں۔

صحافی سچی خبریں شائع کرائیں
اہل سنت ایران کی ممتاز دینی شخصیت نے اپنے خطاب کے ایک حصے میں ایران میں ’یوم صحافی‘ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: یوم صحافی تمام صحافیوں اور نامہ نگاروں کو مبارک ہو۔ بلاشبہ صحافیوں کا کام بہت اہم، سنجیدہ اور خطرناک ہے۔ انہیں جھوٹی خبریں اور افواہوں سے بچ کر صرف سچی خبریں شائع کرانا چاہیے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین