اسلامی شریعت پر عمل کرنے ہی میں ہماری مصلحت ہے

اسلامی شریعت پر عمل کرنے ہی میں ہماری مصلحت ہے

خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے خطبہ جمعہ دس اپریل دوہزار پندرہ میںزکات کی ادائیگی پر زور دیتے ہوئے شریعت کے احکام پر عمل کو ’سب سے بڑی مصلحت‘ قرار دیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے تازہ ترین خطبہ جمعے کا آغاز قرآن پاک کی آیت: وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ، (اور جو لوگ سونا اورچاندی جمع کرتے ہیں اور اسے الله کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجیئے) کی تلاوت سے کیا۔
انہوں نے کہا: زکات ابتدا ہی سے انسان پر فرض قرار دی گئی تھی۔ اسلام میں بھی زکات فرض ہے۔ دراصل زکات اور نماز دونوں تمام آسمانی مذاہب میں فرض بن چکی تھیں۔ اللہ تعالی کی حکمت شروع ہی سے یہ رہی ہے کہ بندہ جان و مال سے اس ذات پاک کی عبادت کرے۔
زکات کی اہمیت پر گفتگو جاری رکھتے ہوئے شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: اگر ہم دن رات جانی عبادات کریں اور نماز پڑھا کریں، لیکن زکات کی ادائیگی سے گریز کریں تو ہم عذاب الہی کے مستحق بن جائیں گے۔ اللہ تعالی نے ان لوگوں کو خبردار کیاہے جو زکات ادا نہیں کرتے؛ روزِحساب ان کی جائیداد و دولت ان کے لیے آگ میں بدل جائیں گی اور اللہ تعالی ان سے حساب لے گا۔
حضرت شیخ الاسلام نے مزیدکہا: اللہ رب العزت ہمارے سب کچھ کا مالک ہے، اس کے باوجود ہماری جان و مال کو خرید کر ان کے عوض ہمیں جنت کی نعمتوں کو عطا فرماتاہے۔ جو اللہ رب العزت سے محبت کرتاہے وہ ہرگز اس کی راہ میں جان و مال کی قربانی سے دریغ نہیں کرتا۔ جو شخص اللہ تعالی سے محبت کا دعوی کرتاہے لیکن فجر کی نماز نہیں پڑھتا، زکات نہیں دیتا اور شریعت کے دیگر احکام پر عمل نہیں کرتا تو وہ جھوٹا ہے۔ اللہ تعالی کے سچے محب جان ومال کی قربانی سے دریغ نہیں کرتے ہیں۔
انہوں نے زکات کے بارے میں مسلمانوں کی سستی و غفلت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: زکات اسلام کے اہم فرائض سے ایک ہے؛ اس کے باوجود بہت سارے مسلمان اس حوالے سے غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ نماز سب سے بڑی جانی عبادت ہے جبکہ زکات مالی عبادات میں پیش پیش ہے۔ اسی لیے قرآن پاک میں دونوں کو ساتھ ذکر کیاگیا۔ اگر غور کیاجائے تو معلوم ہوتاہے اکثر لوگ جو مالی نقصان و خسارے سے دوچار ہوچکے ہیں اور مفلس بن گئے ہیں، ان کے افلاس کی اصل وجہ زکات کی ادائیگی میں سستی ہے۔ جس مال میں زکات یا غریب و نادار کا حق شامل ہو تو وہ مال جلد تباہ و برباد ہوتاہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مزیدکہا: ہمیں اسلامی احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیے۔ ہمیں ہرحال میں شریعت پر عمل پیرا ہونا چاہیے برابر ہے وہ حکم ہمارے مفاد میں ہو یا بظاہر اس میں ہمارا نقصان ہو۔ کسی بھی حکومت، قوم اور فرد کی مصلحت شریعت پر عمل کرنے میں ہے۔

عالم اسلام کے مسائل اقلیتوں کے حقوق کی فراہمی سے حل ہوسکتے ہیں
ممتاز سنی عالم دین نے اپنے خطاب کے دوسرے حصے میں عالم اسلام میں بدامنی کے پھیلاو کی جانب اشارہ کرتے ہوئے حقائق کو دیکھنے اور تمام اقلیتوں کے حقوق یقینی بنانے پر زور دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: عالم اسلام کے بہت سارے مسائل مکالمہ و مذاکرات سے حل ہوسکتے ہیں۔ لڑائیاں اب فرقہ واریت کے رنگ اختیار کرچکی ہیں۔
انہوں نے مزیدکہا: موجودہ حالات میں پالیسیوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے ۔ اس سے پہلے بھی بندہ ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے مسلم حکام کو اپنی پالیسیاں بدلنے کی دعوت دی تھی۔ تہران اور قم کی کانفرنسز میں بھی اسی مسئلے کی جانب سب کی توجہ مبذول کرنے کی کوشش کی گئی۔ تمام مسائل کی جڑ حقائق سے چشم پوشی میں ہے۔ پرانے سیاستدان، اقوام متحدہ اور مختلف ممالک دنیا کے حقائق نہیں دیکھتے ہیں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مزیدکہا: دنیا کے مختلف کونوں میں اس لیے مسائل کھڑے ہوتے ہیں کہ بعض مخصوص گروہ طاقت کو صرف اپنا حق سمجھتے ہیں اور دوسروں کو نظرانداز کرتے ہیں۔ اقلیتوں کے حقوق پامال ہوتے ہیں۔ چنانچہ نظرانداز ہونے والے گروہ حکام کی بات ماننے سے انکاری بن جاتے ہیں اور پھر انقلابات رونما ہوتے ہیں اور جنگ و جدل کا ایک سلسلہ شروع ہوتاہے۔
انہوں نے مزیدکہا: حکومت وراثتی نہیں ہونی چاہیے جو کسی مخصوص قوم، مسلک یا گروہ کے ہاتھوں میں ہو۔ اقلیتیں چاہے شیعہ ہوں یا سنی ان کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ فوجی آپریشن مناسب حل نہیں ہے، اس کے بجائے سیاسی طریقہ اپنانا چاہیے۔ فوجی حملے کی صورت میں جانی ومالی نقصان پیش آتاہے اور عوام کی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں۔ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان حاصل ہونے والی مفاہمت مذاکرات کا مثبت نتیجہ دکھانے لے لیے کافی ہے۔
مہتمم دارالعلوم زاہدان نے زور دیتے ہوئے کہا: یمن، شام، عراق اور لیبیا کے مسائل کا حل بھی اسی طریقے سے ہونا چاہیے۔ مختلف ممالک اپنے شیعہ وسنی برادریوں کے حقوق کا خیال رکھیں؛ یہ خود ان ملکوں کے مفاد میں ہے۔ اقلیتوں کو حکومتوں میں شرکت دینے اور انہیں عزت دینے سے پائیدارامن کی تقویت کو مدد ملتی ہے۔

صوبے میں بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دیتے ہیں
مولانا عبدالحمید نے حال ہی بعض سرحدی اہلکاروں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا: ہم اس سانحے کی مذمت کرتے ہیں۔ خطے کے علمائے کرام، دانشور اور عمائدین ہرگز بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ہم نہیں چاہتے دوسروں کی جنگ ہمارے صوبے میں لڑی جائے۔
انہوں نے مزیدکہا: ہمارا دعوی یہ نہیں کہ ملک میں ہمارا کوئی مسئلہ نہیں اور اہل سنت کے مسائل حل ہوچکے ہیں۔ اب بھی ہمارے بہت سارے مسائل موجود ہیں لیکن ہم آئینی و قانونی طریقے سے پرامن چینلوں سے اپنے حقوق یقینی بنانے کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ہم امن کے سائے تلے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے رہیں گے۔
مولانا نے سیستان بلوچستان کے مجموعی صورتحال کو مناسب یاد کرتے ہوئے کہا: صوبے کے جنوب میں اکثر گورنرز و کمشنرز کا تعلق سنی برادری سے ہے۔ صوبے کے مرکز میں بھی اچھے اقدامات دیکھنے میں آتے ہیں تا کہ اہل سنت پر توجہ دی جائے، بہت سارے پراجکٹس پر کام جاری ہے اور ہمیں امید ہے تمام سنی اکثریت علاقوں میں بے روزگاری وغربت کے خاتمے کے لیے مناسب اقدامات اٹھائے جائیں۔

اہل سنت کو نظرانداز کرنا سب سے بڑا مسئلہ ہے
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے بیان کے ایک حصے میں حکومت سے مطالبہ کیا ایران کی سنی برادری پر مزید توجہ دے کر ان کے قابل افراد کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایاجائے۔
انہوں نے کہا: ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ سنی برادری کو ملک کے علاقائی و ملکی محکموں سے دور رکھا جاتاہے۔ ہمیں توقع ہے سیاستدان ہمارے امور و مسائل پر نظر رکھیں اور ہمارے مذہبی مسائل کو سکیورٹی اداروں کے حوالے نہ کریں۔ حساس ادارے کے اہلکار جوان اور قابل قدر ہیں لیکن ہمارے مسائل کا عنان بڑوں کے ہاتھوں میں ہونا چاہیے۔
صدر شورائے مدارس اہل سنت سیستان بلوچستان نے بعض تنگ نظریوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ہم بہت سارے مسائل پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات تنگ نظری اس حد تک جا پہنچتی ہے کہ با جماعت نماز کی ادائیگی کے لیے کرائے پر لیے گئے گھروں میں بھی نماز پر پابندی لگ جاتی ہے۔ ہمارے یہاں سنی و شیعہ کا فرق نہیں۔ ہمیں توقع ہے جس طرح عیسائی و یہودی آزادی کے ساتھ عبادت کرتے ہیں اہل سنت کو بھی بطور خاص بڑے شہروں میں اپنی عبادات میں آزادی نصیب ہو۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے آخر میں کہا: ہم عالمی سطح تک مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں لیکن افسوس ہے کہ مسائل کے حل کے لیے ہمیں موقع نہیں دیاجارہاہے اور ہمیں محدود رکھا جاتاہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین