جنوبی افغانستان کے صوبہ ہلمند اور گرد ونواح میں طالبان اور افغان فوج کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے اور گذشتہ 5 روز کی لڑائی اب تک 156 افراد ہلاک ہوچکے ہین جن میں 35 شہری اور 21 افغان فوجی بھی شامل ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 800 سے زائد طالبان نے صوبہ ہلمند کے علاقے سینگین پر قبضے کے لئے جدید ہتھیاروں سے لیس ہوکر بڑا حملہ کیا ہے اورگزشتہ 5 روز سے جاری ان جھڑپوں میں طالبان نے دعویٰ کیا ہے وہ 40 سے زائد افغان فوجیوں کو ہلاک کرچکے ہیں جب کہ لڑائی میں ہمارے صرف 2 جنگجو مارے گئے۔
افغان وزیر داخلہ کے ترجمان نے طالبان کے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اضافی فوجی نفری متاثرہ علاقے میں بھیج دی گئی ہے جب کہ علاقے پر فوج کا مکمل کنٹرول ہے، دوسری جانب ہلمندصوبے کے گورنر کے ترجمان نے بتایا کہ 5 دن کی لڑائی میں کم از کم 21 فوجی ہلاک اور 40 زخمی ہوچکے ہیں۔
واضح رہے کہ ضلع سنگین ہلمند صوبے کے شمالی حصے میں واقع ہے اور دفاعی اعتبار سے ایک حساس علاقہ ہے جہاں منشیات کے اسمگلر اور طالبان بہت سرگرم ہیں اور اس ضلع کی سرحدیں پاکستان سے بھی ملتی ہیں، گزشتہ ہفتے ہلمند میں ایک دھماکے میں 3 امریکی فوجی بھی مارے گئے تھے جب کہ اس علاقے میں تعینات برطانوی فوجی گزشتہ ماہ علاقے کی چوکی خالی کرکے لشکر گاہ میں واقع بیس کیمپ منتقل ہو گئی تھیں۔
ایکسپریس نیوز

آپ کی رائے