کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبائلی علاقوں میں جیٹ طیاروں کی بمباری کے خلاف موثر جوابی کارروائیاں کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری طرف سے مئوثر جوابی کارروائیاں ان کا بدلہ اور ردعمل ہونگی۔
انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے بھی مذاکرات کے مقدس عمل کو مشرف اور زرداری کی پالیسی کے عین مطابق سیاسی اور جنگی ہتھیار کے طور پر ہی استعمال کیا۔ ہمارے سنجیدہ اور جائز مطالبات کو ردی کی ٹوکری کے حوالے کر دیا،کسی ایک غیر عسکری قیدی کو رہا کرنا تو درکنار خفیہ سیلوں سے نکال کر عدالت میں پیش کرنا بھی گوارا نہیں کیا، طالبان کو مذاکراتی عمل میں اُلجھا کر ملک بھر میں مجاہدین اور انکے ہمدردوں کے خلاف ’’روٹ آئوٹ‘‘ کے نام سے خفیہ آپریشن شروع کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تحریک طالبان پاکستان مذاکراتی عمل کے لئے پہلے کی طرح سنجیدہ اور مخلص ہے اور اس حوالے سے ہمارا موقف ایک کھلی کتاب ہے۔ بذریعہ ای میل میڈیا کو بھیجے گئے بیان میں طالبان تحریک کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ پاکستانی حکمران زندگی کے تمام شعبوں میں کثیر قومی سرمایہ ہڑپ کرنے کے بعد امن و سلامتی جیسے حساس معاملات کا ڈالروں کے عوض سودا کرچکے ہیں۔ پاکستان کی فوج نے ایک بار پھر شمالی وزیرستان کے بے گناہ لوگوں کو بمباری کا نشانہ بنایا، مختلف علاقوں میں رات کی تاریکی میں سینکڑوں مظلوم قبائلی عوام کو شہید اور زخمی کیا۔ ان ہولناک مظالم کا ایک ایک باب ہم محفوظ رکھ رہے ہیں، موثر جوابی کارروائیاں ان کا بدلہ اور ردعمل ہوں گی۔ مسلم لیگ ن اور پنجاب اسٹیبلثمنٹ کی طرف سے ملک کے طول و عرض میں عنقریب وسیع پیمانے پر چھیڑی جانے والی جنگ سے پہلے تحریک طالبان پاکستان کے موقف کو ملک کا باشعور طبقہ اور امن کی خواہاں سیاسی جماعتیں ضرور ملحوظ رکھیں۔ تحریک طالبان پاکستان نے اسلام اور ملک کے وسیع مفاد میں حکومت کے ساتھ پوری سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ مذاکرات شروع کیے، دوران مذاکرات سازگار ماحول کیلئے یکطرفہ جنگ بندی سمیت تمام ضروری اقدامات کرے۔ حکومتی کمیٹیوں کا بار بار ٹوٹنا اور ارکان کمیٹی کے ایک دوسرے پر الزامات خصوصاً دونوں کمیٹیوں کے سربراہوں کے حوالے سے میجر (ر) عامر کے بیانات حکومت کے اصل ارادوں کو طشت از بام کرنے کیلئے کافی ہیں۔ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ تحریک طالبان کے بعض ساتھیوں سمیت 500 سے زیادہ بے گناہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا، 200 کے قریب بے گناہ افراد کو خفیہ سیلوں سے نکال کر جعلی مقابلوں اور ویران مقامات پر شہید کر کے پھینک دیا گیا، مظلوم قبائلی عوام پر وحشیانہ بمباریوں میں سینکڑوں لوگوں کو شہید اور ہزاروں کو بے گھر اور بے آسرا کیا جا رہا ہے۔ حکومت کے مسلسل غیرسنجیدہ رویے اور مذاکرات کے بجائے مجاہدین کے درمیان اختلاف اور تقسیم میں دلچسپی کے معاملے نے تحریک طالبان پاکستان کو جنگ بندی ختم کرنے پر مجبور کیا۔ تحریک نے جنگ بندی ختم کر کے جوابی حملوں کا اعلان کر دیا جو ہمارا شرعی حق اور فریضہ ہے تاہم یہ بات سب پر واضح ہے کہ تحریک طالبان پاکستان مذاکراتی عمل کیلئے پہلے کی طرح سنجیدہ اور مخلص ہے، اس حوالے سے ہمارا موقف ایک کھلی کتاب ہے۔ ہم پاکستان کے باشعور مسلمانوں پر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستانی حکمران خوشنما نعروں کے ذریعے قوم کو بدترین دھوکے دینے میں مصروف ہیں۔ بے روزگاری، لوڈشیڈنگ اور صحت و تعلیم کے شعبوں میں کثیر قومی سرمائے کو ہڑپ کرنے کے بعد اب امن و سلامتی جیسے حساس معاملات کو بھی یہ عاقبت نااندیش ڈالروں کے عوض بیچ چکے ہیں، محب وطن قبائل کو مسلسل بمباریوں کے ذریعے ملک سے کاٹا جا رہا ہے۔ پانچ ہزار سے زائد قبائلی افغانستان ہجرت پر مجبور ہوچکے ہیں، یہ صورتحال مستقبل کے پاکستان کا بھیانک نقشہ پیش کر رہی ہے۔ خدارا ! آنکھیں کھولو اور اس حقیقت کا ادراک کر لو۔ وقت آچکا ہے کہ پاکستان کا بلوچ، سندھی، پختون اور اسلام سے محبت رکھنے والا پنجابی اس خاص طبقے کی جنگ سے اپنے آپ کو واضح طور پر الگ کر لے۔
نوائے وقت نیوز

آپ کی رائے