پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر مسلح طالبان نے جدید ہتھیاروں سے حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں ائیرپورٹ سکیورٹی فورس (اے ایس ایف) کے پانچ اہلکاروں سمیت 24 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے۔
سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں بارہ دہشت گرد مارے گئے ہیں۔
اتوار کی شب ہونے والے اس خونریز حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کر لی ہے۔
اطلاعات کے مطابق مسلح حملہ آور اتوار کی رات کراچی ہوائی اڈے کے پرانے ٹرمینل سے اندر داخل ہوئے تھے۔انھوں نے اے ایس ایف کے جعلی شناختی کارڈز لگا رکھے تھے۔ ان میں بعض خودکش حملہ آور تھے۔ انھوں نے پہلے سکیورٹی اہلکاروں پر دستی بم سے حملہ کیا اور اس کے بعد فائرنگ شروع کر دی۔ اس ٹرمینل کو تجارتی پروازوں کے بجائے صرف وی آئی پی پروازوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق دہشت گردوں کے حملے میں جاں بحق ہونے والوں میں اے ایس ایف کے تین اہلکار،پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کا ایک ملازم اور سول ایوی ایشن کا ایک ملازم شامل ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ایک ٹویٹر پیغام میں بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں چار دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل ہوائی اڈے پر موجود ہیں اور وہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی قیادت کر رہے ہیں۔
کراچی کے مصروف ہوائی اڈے پر دہشت گردوں کے منظم انداز میں اس حملے کے بارے میں پاکستان کے میڈیا ذرائع سے مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں نے ائیرپورٹ میں گھس کر ایک کنٹینر کو آگ لگادی اور ان کے حملے میں تین طیاروں کو نقصان پہنچا ہے لیکن آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹرجنرل کا کہنا ہے کہ کسی طیارے کو آگ نہیں لگی اور تمام مسافروں کو بحفاظت محفوظ جگہوں پر منتقل کردیا گیا ہے۔
حملہ آوروں کی تعداد آٹھ سے دس بتائی گئی ہے۔ان کے خلاف کارروائی کے لیے پولیس اور رینجرز کے بعد فوج کو بھی طلب کر لیا گیا ہے اوران کا حملہ آوروں کے ساتھ وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔سکیورٹی فورسز نے ہوائی اڈے کا مکمل محاصرہ کررکھا ہے اور کراچی شہر سے ہوائی اڈے کی جانب آنے والی شاہراہوں کو بھی سیل کردیا ہے۔
ہوائی اڈے پر حملے کے بعد کراچی کے جناح اسپتال، سول اسپتال اور عباسی شہید اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ جناح اسپتال کی ڈاکٹر سیمی جمالی نے بتایا ہے کہ ان کے پاس پانچ لاشیں اور پندرہ زخمیوں کو منتقل کیا گیا ہے۔
مسلح جنگجوؤں کے حملے کے بعد جناح ٹرمینل کو پروازوں کی آمد ورفت کے لیے بند کردیا گیا ہے اور کراچی آنے والی پروازوں کو دوسرے ہوائی اڈوں پر اترنے کا کہا جارہا ہے۔فوری طور پر حملہ آوروں کی شناخت یا ان کے گروپ کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا ہے۔
وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے ڈی جی رینجرز سندھ سے فون پر بات کی ہے اور انھیں ہوائی اڈے پر موجود مسافروں اور عملے کی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کراچی ایئرپورٹ پر دہشت گردوں کے اس حملے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
کراچی ایئرپورٹ حملہ، ٹی ٹی پی نے ذمہ داری قبول کر لی
کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے کراچی ایئرپورٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔ نامعلوم مقام سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ کالعدم طالبان کے ساتھیوں کی کراچی، وزیرستان اور دیگر علاقوں میں ہلاکتوں کا بدلہ کراچی ایئرپورٹ پر حملہ کر کے لیا گیا ہے، حکومت کی جانب سے ایسی کاروائیاں جاری رہی تو ہم مزید حملے کریں گے، میڈیا رپورٹس کے مطابق ترجمان نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان نے ملک بھر میں اپنی کاروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ کراچی ایئرپورٹ پر حملہ جیلوں میں بند طالبان قیدیوں پر تشدد اور قبائلی علاقوں میں بمباری کا ردعمل ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کی آڑ میں غیور قبائلی عوام پر جنگ مسلط کی۔ حکومت نے مذاکرات کو سیاسی ہتھیار سمجھ کر جنگ کے طور پر استعمال کیا۔ ترجمان کالعدم تحریک طالبان کا کہنا تھا کہ طالبان مذاکرات کیلئے سنجیدہ تھے اور ہیں لیکن حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں، آئے روز ہمارے خلاف کاروائیاں ہو رہی ہیں۔ مذاکرات کا صرف ڈھونگ رچایا جا رہا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ + اردو ٹائمز

آپ کی رائے