شیخ الاسلام: جھوٹ اور الزام تراشی اسلام میں سخت مذموم ہے

شیخ الاسلام: جھوٹ اور الزام تراشی اسلام میں سخت مذموم ہے

خطیب اہل سنت زاہدان شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے معاشرے میں جھوٹ اور الزام تراشی کے عام ہونے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا: اسلام بہتان لگانے اور الزام تراشی کے سخت خلاف ہے۔

زاہدان میں پچیس اپریل دوہزار چودہ کے خطبہ جمعے کا آغاز قرآنی آیت: «يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ»، (وہ (ایسا ہے کہ) آنکھوں کی چوری کو جانتا ہے اور ان (باتوں) کو بھی جو سینوں میں پوشیدہ ہیں۔) [غافر: 19]کی تلاوت سے کرتے ہوئے مولانا نے کہا: ایک اہم مسئلہ جس کے حوالے سے غفلت پائی جاتی ہے اس خیال کا عام ہونا ہے کہ اللہ تعالی نے ہمیں پیدا کیاہے اور اب ہم آزاد ہیں؛ کوئی نگرانی و۔۔نہیں ہوگی۔ حالانکہ ارشاد الہی ہے: ”وما ربک بغافل عما تعملون“، اللہ تعالی سب کچھ دیکھتاہے اور کوئی بھی کام اس کی نظروں سے اوجھل نہیں رہ سکتا۔ رب العالمین ہم سے بھی زیادہ ہم سے قریب ہے۔ ہماری حرکات و افعال کے علاوہ ہماری افکار و آرا کو بھی جانتاہے۔ ہمارے چھوٹے بڑے اعمال کا بدلہ آخرت کو ملے گا؛ سورت زلزال میں ارشاد ہے: «فمن یعمل مثقال ذرة ‌خیرا یره و من یعمل مثقال ذرة شرا یره».

خطیب اہل سنت نے مزیدکہا: تمام گناہوں کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لوگ خود کو اللہ کی گرفت اور ٹرائل سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ بعض اوقات شیطان انہیں ورغلاتاہے کہ اللہ غفور ورحیم ہے! تاکہ وہ گناہ کے ارتکاب پر جری ہوجائیں۔

جھوٹ، افترا اور الزام تراشی کو آج کے معاشرے میں عام اور شایع قرار دیتے ہوئے مہتمم دارالعلوم زاہدان نے کہا: افسوس کی بات ہے کہ آج کے معاشرے میں جھوٹ اور ایک دوسرے پر الزامات کا بوچھاڑ کرنا بہت آسان اور معمولی کام بن چکاہے۔عام لوگوں سے لے کر سیاسی جماعتوں تک سب ایک دوسرے کے خلاف بہتان لگانے اور الزامات کی بارشیں برسانے میں مصروف ہیں۔حالانکہ دروغ گوئی اور الزام تراشی بڑے گناہوں میں شمار ہوتے ہیں۔

بات آگے بڑھاتے ہوئے ممتاز سنی عالم دین نے کہا: آج کل مختلف ذرائع ابلاغ اور میڈیا میں الزام تراشی اور اپنے مخالفین کی کردارکشی زورشور سے جاری ہے؛ خاص کر سیٹلائٹ ٹی وی چینلوں اور انٹرنیٹ کے ذریعے جھوٹ اور بہتان لگانے کی مہم جاری ہے۔ کچھ لوگ حقائق سے چشم پوشی کرتے ہیں اور بعض کھلم کھلا جھوٹ بولتے ہیں۔ جو لوگ دوسروں کے حوالے سے خیانت کرکے اسے اپنے دل میں چھپاتے ہیں انہیں نہیں بھولنا چاہیے کہ اللہ تعالی سب کے دلوں سے آگاہ ہے۔ اللہ تعالی حسدکرنے والے اور جھوٹے لوگوں کو روزقیامت مواخذہ فرماتاہے اور ان سے پوچھ گچھ ہوگی۔

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمیدنے اپنے خطاب میں قرآنی آیت: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا*يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَن يُطِعْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا»، (اے ایمان والو اللهسےڈرواورراستیکیباتکہو۔ (۷۰) اللهتعالیٰ (اسکےصلہمیں) تمہارےاعمالقبولکرےگااور تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور جو شخص اللهاوراسکےرسولﷺکیاطاعتکرےگاسووہبڑیکامیابیکوپہنچےگا۔) [احزاب: 70-71] کی تلاوت کرتے ہوئے کہا: ہمیشہ سچی بات زبان پر لانا چاہیے، اگرچہ وہ بات ہمارے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اسلامی تعلیمات کی رو سے ایسی باتیں زبان پر نہیں لانا چاہیے جن سے لوگوں میں پھوٹ پڑجائے اور اختلافات شدت اختیار کریں۔ سچی اور منصفانہ بات انسان کی اصلاح کا باعث ہے۔

مولانا نے مزیدکہا: اسلام نے زور دیاہے کہ کسی بھی شخص کے حوالے سے جھوٹ نہ بولیں حتی کہ غیرمسلموں اور منکرین خدا کے حق میں جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔ دشمن کے حوالے سے بھی اظہارِخیال کرتے ہوئے ہمیں انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔ روزحساب میں ہمارے تمام اعضاوجوارح جن میں زبان بھی شامل ہے ہمارے خلاف بولیں گے اور ہماری حرکتوں کے بارے میں اعتراف کریں گے۔ ہماری کوئی بھی حرکت ایسی نہیں جو محفوظ نہ ہو اور فرشتے اسے ریکارڈ نہ کریں۔ دنیا کے سیاستدانوں کو جان لینا چاہیے کہ جو کچھ وہ اپنی زبان پر لاتے ہیں انہیں قیامت کو سوالات کاسامنا ہوگا۔

انہوں نے اپنے خطاب کے اس حصے کے آخر میں مسلم ممالک میں اخلاقیات کی کمزوری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: افسوس کا مقام ہے کہ مسلم ممالک میں اسلامی اخلاق کا لحاظ نہیں رکھا جاتاہے، حالانکہ اسلام بہتان اور جھوٹ کے سخت مخالف ہے۔ سب سے اونچی اور بڑی ترقی، اخلاقی مسائل میں ترقی ہے۔

اندرونی وبیرونی دشمن اتحاد کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں
مولانا عبدالحمید اسماعیل زہی نے اپنے خطاب کے ایک حصے میں ٹارگٹ کلنگ اور علمائے کرام کی پراسرار موت کے واقعات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: سیستان بلوچستان میں امن کی حفاظت بہت ضروری ہے اور بعض حکومتی ملازموں کے قتل اندوہناک اور چونکا دینے والی بات ہے۔

انہوں نے کہا: یہ واضح ہونا چاہیے کون لوگ حالیہ واقعات کے پیچھے ہیں اور کیوں دو سرکاری ملازموں کو قتل کیاگیاہے؟ کون ہمارے صوبے میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتاہے حالانکہ ہمارے لوگ پہلے سے زیادہ ہم آہنگ اور قریب ہوچکے ہیں۔ اسی طرح دیگر واقعات پراسرار طورپر ہمارے علما وعمائدین کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ دارالعلوم زاہدان کے ایک طالب علم لاپتہ ہوگیا اور پھر اس کی لاش پہاڑوں میں مل گئی؛ ایسے واقعات کی تحقیق ہونی چاہیے اور حقائق سامنے لانا چاہیے۔

مولانا نے کہا: بعض لوگوں کو صدرمملکت کا حالیہ دورہ پسند نہیں آیا اور وہ اس کے ثمرات کم کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے اندرونی وبیرونی عناصر دشمنیاں اور فسادات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ بعض لوگ ہمارے صوبے کو بدامن ثابت کرنا چاہتے ہیں اور اگر یہاں کوئی گولی چل جائے تو ایسا شور مچاتے ہیں جیسا کہ یہاں کوئی بڑا دھماکہ ہواہے۔ لہذا ہمیں چوکس رہنا چاہیے۔

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے ایک دوسرے حصے میں سکیورٹی فورسز کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا: کچھ عرصے سے مسلسل شکایات موصول ہورہی ہیں کہ بعض سکیورٹی اہلکار اور بعض سادہ کپڑے والے عناصر لوگوں کو شناختی کارڈ کے لیے تنگ کررہے ہیں۔ حتی کہ خواتین سے بھی کارڈ مانگتے ہیں اور پھر بدتمیزی سے انہیں مہاجر کیمپوں میں بند کرتے ہیں۔ حتی کہ ایرانی شہریوں کو بھی گرفتار کرکے لیجاتے ہیں۔ لہذا اعلی صوبائی حکام کو اس بات کا نوٹس لینا چاہیے۔کہیں بعض عناصر جو موجودہ حکومت سے ناراض ہیں، اپنی بھڑاس کمزور لوگوں پر نہ نکالیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین