کسی امیدوار کو واضح برتری نہ ملنے کی اطلاعات ‘ جمہوریت نہیں ، اسلامی نظام نافذ کریں گے: طالبان

کسی امیدوار کو واضح برتری نہ ملنے کی اطلاعات ‘ جمہوریت نہیں ، اسلامی نظام نافذ کریں گے: طالبان

افغانستان کے 20صوبوں سے صدارتی انتخابات کے ابتدائی نتائج موصول ہو گئے جس کے مطابق کسی امیدوار کو واضح برتری حاصل نہیں ہوئی۔ صدارتی امیدواروں عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی اکثریت کے دعوے کر رہے ہیں۔

صدارتی امیدوار اشرف غنی کا کہنا ہے کہ ابتدائی نتائج کے مطابق دوسرا رائونڈ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ قبل ازیں نئے صدر کے انتخابات کیلئے ہفتہ کو ووٹ ڈالے گئے۔ طالبان کی طرف سے انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے اور انتخابات کا حصہ بننے والوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے باوجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، تشدد کے اِکا دُکا واقعات کے علاوہ مجموعی طور پر پولنگ کا عمل پُرامن رہا۔ ایک بم دھماکے میں دو پولیس اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔ امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق پولنگ کا عمل صبح ساڑھے سات بجے شروع ہوا جو کہ 9 گھنٹوں تک جاری رہا۔ بعدازاں لوگوں کی بڑی تعداد میں پولنگ سٹیشنز پر موجودگی کے باعث اس میں ایک گھنٹے کی توسیع کر دی گئی۔ افغانستان میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ سے زائد ہے جبکہ انتخابات کے لئے ملک بھر میں 28 ہزار سے زائد پولنگ سٹیشن قائم کئے گئے تھے۔ صدارتی انتخابات کے علاوہ ملک میں صوبائی کونسل کے بھی انتخابات ہو رہے ہیں۔ منصب صدارت کے لئے آٹھ اْمیدوار میدان ہیں تاہم اشرف غنی، عبداللہ عبداللہ اور زلمے رسول کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔  مبصرین نے ان انتخابات کو جمہوری عمل کے لئے خوش آئند قرار دیا ہے۔  انتخابات کے پرامن انعقاد کے لئے ملک بھر میں ساڑھے تین لاکھ سکیورٹی اہلکار تعینات کئے گئے۔ جنوب مشرقی صوبہ لوگر میں ایک پولنگ سنٹر کے باہر دھماکے سے چار افراد زخمی ہو گئے جبکہ بعض علاقوں میں راکٹ بھی داغے گئے لیکن اْن میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ حکام نے جعلی ووٹ ڈالنے یا جعلی ووٹنگ کارڈز استعمال کرنے کی کوشش کرنے والے کم از کم 6 سرکاری اہلکاروں کو حراست میں لے لیا۔ افغان الیکشن کمشن کے مطابق پہلے مرحلے میں اگر کوئی صدارتی امیدوار 50 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں ناکام ہوا تو ایسی صورت میں دوسرے مرحلے میں جو مئی  میں ہو گا سب سے زیادہ ووٹ لینے والے دو اْمیدواروں میں مقابلہ ہو گا۔ ووٹوں کی گنتٹی شروع کر دی گئی۔ عبوری نتائج کا اعلان 24اپریل، حتمی نتائج کا اعلان چھ ہفتے بعد کیا جائیگا۔ چیف الیکشن کمشنر احمد یوسف نورستانی نے ووٹ ڈال کر پولنگ کا باقاعدہ آغاز کیا۔ صدر حامد کرزئی نے کابل کے امانی ہائی سکول پولنگ سٹیشن میں ووٹ ڈالا۔ صدارتی امیدواروں زلمے رسول، عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی نے بھی مختلف مقامات پر ووٹ ڈالے۔ پاک افغان سرحد سیل رہی جبکہ سرحد کی فضائی نگرانی بھی کی جاتی رہی۔ افغان الیکشن کمشن کے مطابق ٹرن آئوٹ 60فیصد رہا اور 35فیصد خواتین نے ووٹ ڈالے 70لاکھ سے زائد افراد نے ووٹ ڈالے 65فیصد مردوں نے الیکشن کے عمل میں حصہ لیا۔ یورپی یونین کے مبصرین نے الیکشن کے دوران ایس ایم ایس پر پابندی لگانے کی مذمت کی اور کہا کہ اس سے مبصرین کو خطرات کا سامنا رہا اور نتائج بھی مشکوک ہو سکتے ہیں۔ افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ افغانستان میں پرامن صدارتی انتخابات پر خوشی ہوئی، افغانیوں نے بارش کے باوجود اپنے مستقبل کیلئے ووٹ ڈالے۔ صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ صدارتی انتخابات میں اکثریت نے مجھے ووٹ دئیے افغان انتخابات بہت بڑی کامیابی ہے۔ انتخابات کے دوران 24گھنٹے میں 140حملے ہوئے۔ حملوں میں پولیس کے 9اہلکار ہلاک اور 89طالبان مارے گئے۔ دریں اثناء طالبان نے انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں جمہوری نظام کو تسلیم نہیں کرتے۔ افغانستان کو طاقت کے زور پر آزاد کروائیں گے۔ افغان طالبان کا کہنا ہے کہ جمہوری نظام کو تسلیم نہیں کرتے، ہمارا اسلامی نظام ہے، بہت زیادہ قربانیاں اسلامی حکومت کے قیام کے لئے دی ہیں جن لوگوں نے افغان انتخابی جلسوں میں شرکت کی ہے وہ درحقیقت ’سیاسی امور کا ادراک نہیں رکھتے، شہروں میں دشمن کی چھتریوں کے تلے زندگی گزار رہے ہیں، غیر ملکی افواج کی موجودگی میں ’انتخابات اور ووٹ ڈالنا کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ پیسوں اور سازشوں کے ذریعے لاکھوں لوگ بھی دھوکہ کھا سکتے ہیں۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ غیر ملکی افواج کی موجودگی میں انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ان میں کوئی فرق نہیں۔ انتخابات کے بعد طالبان کی پالیسیوں کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ طالبان یہ اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ افغانستان کو طاقت کے زور پر آزاد کرائیں گے اور اسلامی نظام نافذ کرینگے۔برطانیہ کے وزیر خارجہ ولیم ہیوگ نے افغان الیکشن کو بڑی کامیابی قرار دیا اور کہا ہے کہ امیدوار گنتی کے دوران پرامن رہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ افغانستان کی تاریخ کا اہم مرحلہ ہے یہ بڑی کامیابی ہے کہ لوگوں نے  دھمکیوں کے باوجود ووٹنگ میں حصہ لیا۔ اے ایف پی کے مطابق خواتین کی بڑی تعداد نے برقعے پہنے پولنگ سٹیشنوں پر قطاروں میں گھنٹوں انتظار کے باوجود بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے۔دریں اثناء امریکی صدر بارک اوباما نے افغانستان کے صدارتی الیکشن میں پولنگ کا مرحلہ مکمل ہونے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ یہ الیکشن افغانستان کے جمہوری مستقبل کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

نوائے وقت

 

 

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین