ایران تمام ایرانی قومیتوں کا ہے!

ایران تمام ایرانی قومیتوں کا ہے!

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ملک کے امور چلانے میں تمام ایرانی قومیتوں اور مذاہب کی شرکت پر زور دیتے ہوئے سیستان بلوچستان کے عوام کو اس صوبے کا سب سے بڑا سرمایہ قرار دیا۔

 

ایران کے جنوب مشرقی صوبہ سیستان بلوچستان کے صدرمقام زاہدان میں اسی صوبے کی ترقی کے موضوع پر منعقد ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان مولانا عبدالحمید نے کہا: سیستان بلوچستان کی بری وبحری سرحدیں بہت لمبی ہیں جو نہ صرف اس صوبے کے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے موقع ہیں۔ شاید دشمن ملک کی دیگر سرحدات بند کرسکے لیکن یہاں کی سرحدیں ہرگز بند نہیں ہوسکتیں۔ ہمارے صوبے کے خاص حالات کی وجہ سے یہ کام کسی بھی دشمن کے لیے ممکن نہیں۔ ساتھ ہی ساتھ ہماری سرحدیں پورے ملک کو خوراک اور گوشت فراہم کرسکتی ہیں۔

انہوں نے مزیدکہا: سیستان بلوچستان بدحالی اور خستہ حالی سے دوچار ہے؛ اس کی وجہ غلط پالیسیاں اور ناکارآمد صوبائی حکام ہیں۔ اس کے لیے باریک بینی سے پالیسی بناکر منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ صوبے میں صنعت کیوں آفت کا شکار ہوچکی ہے؟ صنعتی علاقے کیوں ویرانوں کا منظر پیش کررہے ہیں؟ کھیتی باڑی اور کانوں کے ذخایر سے کیوں اچھی طرح فائدہ نہیں اٹھایا جارہاہے؟ ان تمام مسائل کی بنیادی وجہ حکام کی نااہلی ہے۔

اس سیمینار کے آخر میں مولانا عبدالحمید نے صدرروحانی کے نائب اول کی موجودی میں صدرمملکت کو صوبے کے جلد دورے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا اس صوبے کے عوام صدر کی داخلی وخارجی پالیسیوں سے متفق ہیں۔

حقائق سے چشم پوشی؛ اکثر ممالک کے مسائل کی جڑہے
ممتاز سنی عالم دین مولانا عبدالحمید نے اس سے قبل تین فروری کو ’مذاہب اسلامی کی پچیسویں علمی تحقیقی سیمینار‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا دنیا کے حقائق کو نظراندازکرنا عصرحاضر کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

زاہدان میں منعقد سیمینارسے خطاب کا آغاز قرآنی آیات مبارکہ: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ* وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ وَاذْكُرُواْ نِعْمَتَ اللّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاء فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىَ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ» [آل عمران: 102-103] کی تلاوت سے کرتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: انسانی معاشروںمیں بہت ساری حقیقتوں سے چشم پوشی ہوتی ہے جن کی وجہ سے حکام اور عوام مسائل سے دوچار ہیں اور انہیں کئی چیلنچز کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا: جب تک معاشرے کے حقائق کو معلوم اور تسلیم نہ کیاجائے تو یہ مسائل بھی حل نہ ہوں گے۔ جب قابض صہیونی ریاست کو امریکا اور یورپ نے وجود میں لایا اور بیت المقدس پر قبضہ جمانے میں اس کی مدد کی تو انہوں نے اس حقیقت کو نظرانداز کیا کہ ان کا یہ اقدام اور بیت المقدس کا قبضہ مسلمانوں کی غیرت کو للکارے گا، چنانچہ مسلم عوام اب بیدار ہوچکے ہیں۔

عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین کے رکن نے مزیدکہا: اگر دیگر مسلم ممالک جیسے افغانستان، پاکستان، مصر اور شام جیسے ملکوں کے حالات پر نظر ڈالی جائے اور دقت نظری سے مسائل کا مطالعہ کیاجائے تو صاف واضح ہوگا کہ ان جیسے ملکوں میں حقائق پر آنکھیں بند کی گئی ہیں۔ میرا تجزیہ یہ ہے کہ اگر فلسطین پر قبضہ نہ ہوتا تو شاید آج مشرق وسطی میں یہ تبدیلیاں اور انقلابات رونما نہ ہوتیں، اگر شاہ ایران ملک کے حقائق کو مدنظر رکھتا تو ایران میں بھی کوئی انقلاب بپا نہ ہوتا۔ اسلامی بیداری کو اسی سے تقویت ملی ہے۔

انہوں نے صدرروحانی کے اقوام متحدہ میں دیے گئے بیان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’تشدد سے خالی دنیا‘ سب کی خواہش ہے لیکن یہ آرزو حاصل ہوتی کیسے؟ میرے خیال جب حکام اپنے معاشروں اور ملکوں کے حقائق کا ادارک اور خیال رکھیں گے تو خودبخود دنیا سے تشدد کاخاتمہ ہوگا۔

مولانا عبدالحمید نے مسلم ممالک کے مسائل وبحرانوں کی شدت کو ’بے مثال‘ قرار دیتے ہوئے مسلم حکام، علماءاور تنظیموں سے درخواست کی اپنے مسائل حل کرانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر غور کریں، اختلافات سے زیادہ مشترکہ مسائل ہیں؛ اگر عالم اسلام کے مسائل حل کرانا ہے تو دانشور حضرات اور خیرخواہ لوگوں کو حرکت میں آنا چاہیے۔

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین