وزیراعظم نواز شریف نے جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ اور دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق کو طالبان شدت پسندوں سے مذاکرات کی فضاء سازگار بنانے کا ٹاسک دیا ہے۔
ڈان نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ منگل کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اس حوالے سے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
جمعیت علمائے اسلام س کے سربراہ مولانا سمیع الحق کی وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات میں طالبان سے مذاکرات کی بحالی کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔
ذرائع کا کہنا ہے ملاقات میں وزیراعظم نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لئے سنجیدگی کا اظہار کیا اور مولانا سمیع الحق سے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی درخواست کی۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات بہتر آپشن ہے۔
اس موقع پر مولانا سمیع نے مذاکرات کی بحالی کے لئے اپنی پوری کوششوں کا یقین دلایا۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی مذاکرات کی کوشش کی جاتی ہے بیرونی دباؤ کے تحت مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کردیا جاتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جاری پالیسوں پر نظر ثانی کرنے کے علاوہ مذاکرات سے قبل شمالی وزیرستان میں مجوزہ آپریشن بند کرانا ہوگا۔
۔مولانا سمیع نے مذاکراتی عمل کی بحالی کے لیے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملے روکنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ڈان نیوز ٹی وی

آپ کی رائے