خطیب اہل سنت زاہدان نے معاشرے میں گناہوں اور معاصی کی بہتات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ’غفلت‘ کو گناہ پر جرات پیدا کرنے کی اصل وجہ قرار دیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے خطبہ جمعہ بیس دسمبر دوہزار تیرہ(سترہ صفر) کا آغاز قرآنی آیت: «و ما هذه الدنیا إلا لهو و لعب و ان الدار الاخرة لهی الحیوان لو کانوا یعلمون»، (اور یہ دنیوی زندگی (فی نفسہ) بجز لہو و لعب کے اور کچھ بھی نہیں اور اصل ذندگی عالم آخرت ہے اگر ان کو اس کا علم ہوتا تو ایسا نہ کرتے۔)کی تلاوت سے کیا۔ انہوں نے کہا: آج کل مسلم معاشروں میں غفلت کی وبا عام ہوچکی ہے اور عوام وخواص اس سے محفوظ نہیں ہیں۔ غفلت کا مطلب ہے کہ لوگ اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کریں اور جو کام انہیں کرنا چاہیے، اس کے حوالے سے لاپرواہی کا مظاہرہ کریں۔ غفلت کی وجہ سے لوگ صحیح راستہ چھوڑدیتے ہیں جو انہیں جنت تک پہنچادیتاہے اور جہنم تک لیجانے والی راہ اپنالیتے ہیں۔ ایسے لوگ حساب کتاب اور میدان حشر کو بھول جاتے ہیں۔
انہوں نے مزیدکہا: غفلت کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ بندہ اپنے خالق کو یاد نہ کرے، اسے بھول جائے اور اس کی احسانات کو جو ہر سو موجود ہیں، خاطر میں نہ لائے۔ ہم اللہ تعالی کی نعمتوں میں غرق ہیں لیکن بہت سارے لوگ غفلت کی خطرناک اور جان لیوا مرض کے شکار ہیں۔
مہتمم وشیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے ’معیشت ودنیوی زندگی کی سوچ‘ کو غفلت کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا: لوگوں کا ہم وغم اور سوچ صرف معشیت اور معاشی مسائل ہی ہیں۔ ان کی سوچ اور باتیں اسی موضوع کے گرد گھومتی ہیں۔ جو چیز دماغ پر چڑھ جائے، زبان پر بھی اسی کا ورد ہوگا۔ ہم مسلمانوں کا ایمان اس قدر کمزور پڑچکاہے کہ ہمیں آخرت کے بارے میں سوچنے کی ہمت بھی نہیں ہے۔ ہمارا کمزور ایمان ہمیں اللہ کی یاد نہیں دلاتا، اسی لیے ہم ہرجگہ اور ہروقت اپنے معاش اور دنیوی زندگی کے بارے میں سوچتے ہیں؛ بازاروں میں، دوکان میں، گھر میں اور حتی کہ مساجد میں بھی ہماری زبان اور دماغ پر انہی مسائل کا غلبہ ہے۔ لوگ نماز کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں اور ان کی سوچ کہیں اور مصروف ہوتی ہے۔
خطیب اہل سنت نے ’غفلت‘ کو لوگوں کی لاپرواہی اور گناہ کے ارتکاب پر شرم محسوس نہ کرنے کی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا: آج کل غفلت کی وجہ سے معاشرہ گناہوں اور فساد کے دلدل میں پھنس چکاہے۔ جو لوگ جرائم اور معاصی کے مرتکب ہوتے ہیں، دراصل وہ خدا سے غافل ہوچکے ہیں۔ کچھ لوگ اتنی بہادری ولاپرواہی سے گناہ کرتے ہیں کہ یوں لگتاہے اللہ تعالی انہیں نہیں دیکھتا یا دیکھنے کے باوجود انہیں سزا نہیں دیتا۔ ارشادِالہی ہے کہ اللہ تعالی کی پکڑ بہت سخت ہے؛ جب اللہ سزا دیتاہے تو اس کی سزا بہت شدید اور سخت ہوتی ہے۔
مولانا عبدالحمید نے رجوع الی اللہ پر زور دیتے ہوئے کہا: ہمیں اپنے اعمال کاخیال رکھنا چاہیے؛ جس طرح ہم اپنے بال بچوں کی دنیا کے لیے فکرمند رہتے ہیں، اسی طرح ہمیں ان کی آخرت کے لیے بھی سوچنا چاہیے۔ اس کیلیے ہمیں منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ جب گھروالوں کے ساتھ دنیا اور معاش کی بات ہوتی ہے تو بعض اوقات اللہ کا نام بھی زبان پر لانا چاہیے اور آخرت کی یاد سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ اہل جنت جب جنت میں داخل ہوجاتے ہیں تو انہیں صرف ایک بات پر افسوس وحسرت ہوتی ہے کہ دنیا میں انہوں نے وقت پانے کے باوجود کیوں اللہ کا ذکر نہیں کیا۔ لہذا اپنی ہر مجلس کی زینت اللہ کی یاد کو بنادیں۔
انہوں نے مزیدکہا: اسلام کا حکم یہ نہیں کہ آپ بالکل دنیا سے لاتعلق رہیں اور آخرت ہی کے بارے میں سوچتے رہیں۔ بلکہ اسلام کا سبق یہ ہے کہ تم اپنی دنیا اور آخرت دونوں آباد کرلو۔ اللہ تعالی نے انسان کو یہ صلاحیت عطا فرمائی ہے کہ بیک وقت وہ دنیا وآخرت آباد کرسکتاہے۔ ایک سچا مسلمان دینی علوم اور اسلامی تعلیمات کو دنیوی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں سمجھتا، اور وہ سائنس حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اچھا اخلاق اور عقیدہ بھی حاصل کرتاہے اور دین کی نعمت سے بھی خود کو محروم نہیں رکھتا۔ جب بندہ عصری تعلیم کے ساتھ شرعی علوم سے بھی غافل نہ ہو تو وہ اپنی فانی اور باقی دونوں زندگیوں کو آباد کرسکے گا۔
اپنے خطاب کے پہلے حصے کے آخر میں مولانا عبدالحمید نے اللہ رب العزت کی رضامندی کے حصول کو کسی بھی انسان کیلیے سب سے بڑی سعادت وخوش نصیبی قرار دیا۔ انہوں نے کہا: اللہ ہی کی یاد سے دلوں پر سکون آتاہے۔ ہمیشہ اس کے ذکر سے اپنی زبان میٹھی کرلیں اور شریعت کی پیروی سے اپنی زندگی مفید و کارآمد بنادیں۔
ہم تشدد کی حمایت نہیں کرتے ہیں
ممتازسنی عالم دین نےاپنے بیان کے دوسرے حصے میں’سراوان‘ کے قریب سرحدی اہلکاروں پر بم حملے کی مذمت کرتےہوئے کہا: گزشتہ ہفتے میں سڑک کے کنارے نصب بم کی زد میں آکر تین اہلکار جاں بحق ہوگئے؛ہم ہرگز ایسے اقدامات کی حمایت نہیں کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: بلوچ اور سنی برادری امن کے خواہاں ہیں۔ وہ اپنے صوبے کی ترقی چاہتےہیں۔ ہم ہرگز قتل وغارتگری اور تشدد کو درست نہیں سمجھتے۔ ہمیں امید ہےنئی حکومت جو’امید و تدبیر‘ کا دعوی کرتی ہے، ہمارے مسائل حل کرے۔ اس حکومت کو موقع دینا چاہیے۔
مولانا نےکہا: یہ اچھی بات ہے کہ نئی حکومت عوام سے اور انکے سماجی رہنماوں سے صلاح ومشورہ کرتی ہے اور صوبائی حکام کی کوشش ہےعوام کو اعتماد میں لےکر آگےچلیں۔ اللہ کرے بدامنی ہمیشہ کیلیے اس صوبے سےختم ہوجائے۔

آپ کی رائے