جنوبی افریقہ کے آنجہانی نیلسن منڈیلا کی میّت والا تابوت ان کے آبائی گاؤں کونو جانے کے لیے تیار ہے جہاں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ اتوار کو ان کی تدفین کی جائے گی۔
مردہ خانے سے ان کے جسد خاکی کو ہوائی اڈے پر لے جایا جائے گا جہاں افریقی نیشنل کانگریس کے اراکین ان کی الوداعیہ تقریب میں شرکت کریں گے۔ گذشتہ تین دنوں کے دوران جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا کے جسد خاکی کی دیدار کے لیے کم از کم ایک لاکھ لوگ پہنچے۔ ان کی نعش کو پریٹوریا میں دیدار عام کے لیے رکھا گیا تھا۔ لمبی قطار کی وجہ سے بہت سے لوگ ان کے آخری دیدار سے محروم بھی رہ گئے۔ نیلسن منڈیلا کا پانچ دسمبر کو 95 سال کی عمر میں انتقال ہوا۔اطلاعات کے مطابق واٹرکوف نامی ہوائی اڈے پر ان کی الوداعیہ تقریب گرینج مین ٹائم کے مطابق صبح پانچ بجے شروع ہوگی جہاں برسراقتدار افریقی نیشنل کانگریس کے اراکین آخری بار انھیں الوداع کہیں گے۔ بہت سے لوگ اس بات سے ناراض ہیں کہ زیارت کے لیے زیادہ وقت کیوں نہیں رکھا گیا، اس کے بعد ان کے تابوت کو متھاتھا ایئر پورٹ لے جایا جائے گا جہاں سے تدفین کے لیے اسے کونو لے جایا جائے گا۔ جنوبی افریقی خبر رساں ادارے کے مطابق فوج کے لیفٹیننٹ جنرل ڑولانی مبانگو نے کہا ‘سابق جنوبی افریقی صدر کے جسد خاکی کے ہمراہ مدیبا خاندان اور منڈیلا کنبے کے سوگواروں کے ساتھ ساتھ حکومت کے سینئر اہلکار بھی ہوں گے۔ ‘متھاتھا ایئرپورٹ پر تابوت کی آمد کے بعد انھیں فوجی گارڈ آف آنر پیش کیا جائے گا اور ان کے تابوت کو توپ گاڑی کے ذریعے کونو لے جایا جائے گا۔مقامی لوگ متھاتھا سے کونو تک ‘ہیومن چین’ بنائیں گے جہاں سے ان کی میّت گزرے گی۔ کونو میں میّت کی آمد کے بعد تھیمبو قبیلے کے لوگ روایتی رسوم کی ادا کریں گے۔ منڈیلا کی دعایہ تقریب میں شامل ہونے کے لیے دنیا بھر سے اہم شخصیات جمع ہوئی تھیں۔ واضح رہے کہ جمعہ کو جنوبی افریقی حکومت نے کہا تھا کہ تیسرے دن تقریباً 50 ہزار افراد ملک میں جمہوری طریقے سے منتخب پہلے صدر کو اظہار عقیدت پیش کرنے آئے۔ ایک پولیس اہلکار نے بتایا ‘یہاں بہت سارے لوگ آ رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جنوبی افریقہ کے تمام لوگ انھیں الوداع کہنا چاہتے ہیں۔ ‘بعض لوگوں کو نیلسن منڈیلا کے جسد خاکی کو 11 گھنٹے تک قطار میں لگے رہنے کے بعد ہی دیکھنے کا موقعہ مل سکا۔ متعدد افراد اس بات سے بھی ناراض ہیں کہ انھیں آخری رسومات کے لیے مزید وقت کیوں نہیں دیا گیا تاہم کچھ کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ ان کی میّت کا آخری دیدار نہیں کرسکے لیکن یہ کیا کم ہے کہ وہ اس موقعے سے وہاں موجود تھے۔
اردو ٹائمز

آپ کی رائے