افغانستان کے صوبہ کنڑ میں کافی عرصے سے روپوش ملا فضل اللہ کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر بننے کے بعد پاکستان آنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور تنظیم کے اندر ہونے والی بعض تبدیلیوں کو ان کی آمد کی تصدیق کے طور پر لیا جا رہا ہے۔
طالبان کے بعض حامی ملا فضل اللہ کی آمد کو پاکستان میں مذاکرات کے رکے ہوئے سلسلے کے لیے نیک شگون کہہ رہے ہیں جبکہ غیرجانبدار مبصر کہتے ہیں کہ اس سے یقیناً حکومت کے خدشات میں اضافہ ہوگا کہ حکیم اللہ محسود کے مارے جانے کے بعد سے امیرکے بغیر کسی حد تک غیرمنظم تحریک طالبان شاید ایک بار پھرکارروائیاں کرنے کی پوزیشن میں آ سکے۔
تحریک طالبان کے حال ہی میں منتخب ہونے والے امیر ملا فضل اللہ کے بارے میں بعض اطلاعات کے مطابق وہ پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان پہنچے ہیں جبکہ بعض دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ کسی اور جگہ موجود ہیں جس کا نام ظاہرنہ کرنا ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
اس سے پہلے حکیم اللہ محسود کی زندگی کے دوران حکومت اور طالبان کے مابین رابطوں سے منسلک دفاع پاکستان کونسل کے رہنما مولانا فضل الرحمن خلیل کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ملا فضل اللہ بھی وہی کچھ کریں گے جو حکیم اللہ محسود نے کیا اور مذاکرات کا سلسلہ وہیں سے جوڑیں گے جہاں حکیم اللہ محسود کے مارے جانے سے پہلے تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات اوراس جیسے سارے فیصلے طالبان کی شوریٰ کرتی ہے جس میں موجود لوگ اس بات کو سمجھ چکے ہیں کہ ان کا پاکستان کے ساتھ لڑنے کا فائدہ امریکہ کو ہوگا اور ملک میں امن کے قیام کے بارے میں تحریک طالبان اور حکومت کی خواہش ایک ہی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملا فضل اللہ کے بارے میں پاکستان مخالف ہونے کا تاثر بالکل غلط ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاکستان آمد کے بارے میں اس تاثرمیں بھی کوئی جان نہیں کہ اب پھرتشدد بڑھے گا۔
پاکستان حکومت کی جانب سے طالبان کے بارے میں نرم رویے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف حکومت بلکہ طالبان بھی امن اور مذاکرات کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں اوراس حوالے سے ان کی سنجیدگی نظر آ رہی ہے۔ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے نئے سرے سے کوئی رابطے تو نہیں ہوئے البتہ ان کے لیے ماحول سازگار ضرور ہے۔
پاکستان میں طالبان اورافغانستان امور کے ماہربی بی سی پشتو سے وابستہ طاہرخان کا کہنا تھا کہ اگر فضل اللہ پاکستان آگئے ہیں تو یہ طالبان کے لیے ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے کیونکہ افغانستان میں رہتے ہوئے ملا فضل اللہ کے لیے بھی رابطے کرنا مشکل ہو رہا تھا کیونکہ وہاں مواصلاتی ذرائع محفوظ بھی نہیں تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملا فضل اللہ کا پاکستان میں ہونا طالبان کے لیے اس لیے بھی تقویت کا باعث ہے کہ وہ نہ صرف کارروائیاں کرنے کے لیے زیادہ بہتر پوزیشن میں ہوں گے بلکہ تنظیمی امورکو بھی زیادہ بہتر طریقے سے چلایا جا سکتا ہے۔
ملا فضل اللہ کی پاکستان آمد پر حکومتی حلقوں میں کسی تشویش کے سوال کے جواب میں طاہرخان کا کہنا تھا کہ حکومت کو یہ خدشات ضرور لاحق ہوں گے کہ ان کے آنے کے بعد اگر طالبان حکیم اللہ محسود کا بدلہ لینا چاہیں تواس صورت میں حملے بڑھ سکتے ہیں کیونکہ طالبان کے اندر جنگجوؤں کے اطمینان کے لیے ہمیشہ انتقام ضرور لیا جاتا ہے۔
وادی سوات میں دوبارہ طالبان کی جانب سے قبضے کی کسی کوشش کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ طالبان قوت کے لحاظ سے اب اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ سوات میں دوبارہ قدم جما سکیں کیونکہ ایک تو وہاں فوج موجود ہے اور طالبان کو بھی اب وہاں عوامی حمایت بھی حاصل نہیں ہاں البتہ طالبان شاید وہاں ٹارگٹ کلنگ کو جاری رکھیں۔
یاد رہے کہ ملا فضل اللہ کی پاکستان آمد کے بعد سے یہ بحث چل پڑی ہے کہ ان کی آمد کو پاکستان میں تشدد کی نئی لہرکی شروعات کا باعث سمجھا جائے یا ان کی آمد سے مذاکرات کے رکے ہوئے سلسلہ دوبارہ بحال ہوں گے۔
بی بی سی اردو

آپ کی رائے