امریکہ نے پاکستان کے راستے افغانستان سے سامان کی ترسیل معطل کر دی ہے۔
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف جاری احتجاج کے باعث ڈرائیوروں کے تحفظ کی خاطر ایسا کیا گیا ہے۔
پینٹاگون کے ترجمان مارک رائٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’ ہم امید ظاہر کرتے ہیں کہ ہم پاکستان کے راستے اپنے سامان کی ترسیل مستقبل قریب میں بحال کر دیں۔‘
یاد رہے کہ افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کا انخلا سنہ 2014 تک کیا جانا ہے۔
روکی جانے والی ترسیل میں زیادہ تر وہ فوجی سازو سامان شامل تھا جو فوج کے بتدریج انخلا کے بعد امریکہ واپس بھیجا جا رہا تھا۔
افغانستان میں بھیجے جانے والی رسد کا ایک بڑا حصہ بہت پہلے ہی پاکستان کے حالات کے پیش نظر دیگر ممالک میں موجود متبادل راستوں پر منتقل کر دیا گیا تھا۔
مارک رائٹ نے کہا کہ ’جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ مظاہروں کے باعث افغانستان اور پاکستان کی مرکزی گزرگاہیں متاثر ہوئی ہیں۔ ہمارے آلات لے جانے والے ڈرائیوروں کے تحفظ کی خاطر ہم نے رضاکارانہ طور پر طورخم سے کراچی کے راستے واپس لے جائے جانے والے سامان کی ترسیل روک دی ہے۔‘
یاد رہے کہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے امریکی ڈرون حملوں کے خلاف 23 نومبر سے احتجاج کیا جا رہا ہے اور انہوں نے صوبے سے کسی قسم کی نیٹو سپلائی نہ گذرنے دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔
تحریک انصاف خیبر پختونخوا سے جاری ہونے والے ایک بیان میں تحریک انصاف کے صوبائی ترجمان اشتیاق ارمڑ نے کہا تھا کہ رسد روکنے کے لیے صوبے میں پانچ اضلاع میں دھرنے دیے جائیں گے جن پشاور میں حیات آباد ٹول پلازا کے علاوہ خیر آباد پل، صوابی اور چارسدہ میں موٹر وے انٹر چینج اور ڈیرہ اسماعیل خان ٹول پلازا شامل ہیں۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنوں کی جانب سے نیٹو رسد کے کنٹینرز روکے جانے کے واقعات بھی پیش آئے تھے۔
بی بی سی اردو

آپ کی رائے