کنکریٹ دیواروں اور پولیس گردی سے امن حاصل نہیں ہوسکتا

کنکریٹ دیواروں اور پولیس گردی سے امن حاصل نہیں ہوسکتا

 خطیب اہل سنت زاہدان مولانا عبدالحمید نے صوبہ سیستان بلوچستان میں پائیدار امن کی تلاش میں حیران حکومت کو تجویز کی ہے ملکی سرحدوں کو کنکریٹ دیواروں سے بندکرانے اور پولیس گردی کے بجائے افہام وتفہیم سے کام لے اور اعتماد کی دیواریں تعمیر کروادے۔

 

 شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے تازہ ترین خطبہ جمعے (یکم نومبردوہزار تیرہ)کے ایک حصے میں ایرانی بلوچستان میں رونما ہونے والے بدامنی کے تازہ واقعات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاہے: ہمارے لوگ جن کاتعلق کسی بھی مسلک وقومیت سے ہو، ہرگز بدامنی کی حمایت نہیںکرتے ہیں۔ کوئی بھی اپنا صوبہ غیرمحفوظ نہیں دیکھنا چاہتاہے۔ جولوگ بدامنی اور انارکی پھیلاتے ہیں، چاہے جس لبادے میں ظاہرہوجائیں اورکسی بھی طریقے سے تشدد کا مظاہرہ کریں، لوگوں کے یہاں ان کی کوئی وقعت نہیں ہے۔

 انہوں نے لسانی وفرقہ وارانہ لڑائیوں کو ’بدترین‘ قرار دیتے ہوئے کہا: فرقہ وارانہ فسادات اندھی لرائیاں ہیں جو لوگوں کی شکست اور بے عزتی کی باعث بنتی ہیں۔ ایسی لرائیاں انتہائی خطرناک اور نفرت انگیز ہیں۔ کوئی بھی دین اور منطق شیعہ وسنی مسلکوں کی مذہبی لڑائیوں کی توجیہ نہیں کرسکتی؛ قوموں کو ایسے فسادات سے بھاری نقصان اٹھانا پڑتی ہے۔

 ممتازسنی عالم دین نے مزیدکہا: حالیہ صدارتی انتخابات میں عوام کی اکثریت نے اپنا ووٹ تبدیلی کے حق میں استعمال کیا؛ لوگ اندرونی وبیرونی پالیسیوں میں مثبت تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ حسن روحانی کو زیادہ ووٹ اسی لیے ملا کہ ’امید اور تدبیر‘ ان کا نعرہ تھا۔ ہم پولیس گردی کے خلاف ہیں اور سیاسی ومذہبی آزادی کے خواہاں ہیں۔ صدر روحانی کا نعرہ یہ بھی تھا کہ مکمل طورپر آئین نافذ ہوجائے گا اور اس سلسلے میں بعض سرکاری اداروں اور شخصیات کی رکاوٹوں کو خاطرمیں نہیں لایا جائے گا۔ اگر اس وعدے پر عملدرآمد کیاجائے تو تمام اقوام اور مسالک ومذاہب کو ان کے جائز حقوق مل جائیں گے اور برابری نافذ ہوجائے گی جس سے اکثر مسائل حل ہوجائیں گے۔

 خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: صوبہ سیستان بلوچستان میں عوام کی بھاری اکثریت نے حسن روحانی کا نام بیلٹ بکسز میں ڈالا۔ اس کا مطلب ہے صوبے میں عوام افہام وتفہیم اور مکالمے پریقین رکھتے ہیں اور جائزطریقوں سے اپنے حقوق حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہمارے لوگ بدامنی اورتشددکے خلاف ہیں۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ کچھ انتہاپسند عناصر جو شیعہ وسنی دونوں مسالک میں پائے جاتے ہیں ، اس صوبے کو پرامن نہیں دیکھنا چاہتے، وہ صدرمملکت کو اپنی پالیسیوں میں کامیاب دیکھنا گوارا نہیں کرتے۔ اگر ایسا ہوجائے اور سنی برادری اپنے حقوق حاصل کرلے تو یہ ان کے مفادات کے خلاف ہوگا اور ان کا کاروبار جام ہوکر رہ جائے گا۔ اگر لوگ اپنی بات منوادیں تو انہیں شورمچانے کیلیے کوئی بہانہ نہیں ملے گا۔ ملک میں بعض شیعہ حضرات بھی اقتدار میں صرف اپنے ہی لوگوں کو دیکھنا چاہتے ہیں اور دوسروں کو کسی حق کے مستحق نہیں سمجھتے ہیں۔ یہ سب اعتدال کی راہ سے ہٹ کرافراط کے رستے پر گامزن ہیں۔

 مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: صدرمملکت کو موقع دینا چاہیے تاکہ اپنی اعلان کردہ پالیسیوں اور نعروں کو جامہ عمل پہنادے۔ صدر روحانی نے کیا اچھا کہا ہے کہ اگر لوگوں کی بات نہ سنی تو شکست ہمارا مقدر ہوگا، یہ مثبت فکر ہے۔ ایسے میں چوکس رہنا چاہیے، بعض عناصر فضا کو آلودہ بنانا چاہتے ہیں تاکہ روحانی کابینہ ناکام ہوجائے۔ لہذا جو حکومت قانونی طریقے سے برسراقتدار آئی ہے اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا قوم کیلیے ناقابل برداشت ہے۔

 ایرانی اہل سنت کی سرکردہ شخصیت اور ممتاز رہ نما نے زور دیتے ہوئے کہا: ہماری خواہش ہے سیستان بلوچستان امن کا گہوارہ بن جائے۔ امن کے مسئلے میں ہماری اور حکام کی رائے ایک ہے۔ ہمارے خیال میں پائیدار امن کیلیے مشورہ، دوراندیشی اور گفتگو کی ضرورت ہے۔ غصہ اور جوش سے امن قائم نہیں ہوگا۔ اس سلسلے میں علمائے کرام، دانشوروں ، عمائدین سمیت حکام کے باہمی مشورے اور غوروفکر سے کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔ بدامنی کا مقابلہ غصہ اور جوشیلے اقدامات سے ممکن نہیں ہے جو عوام کی دل شکنی و مایوسی کے باعث بنتے ہیں۔

 شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: بندہ سرحد پر کنکریٹ دیوار تعمیر کروانے کے خلاف ہے؛ میرا خیال ہے لمبی اور آہنی دیوار تعمیر کرانے کے بجائے اعتماد اور بھروسے کی دیوار تعمیر کرانے کی ضرورت ہے۔ اگر قوم کا اعتماد حاصل کیاگیا تو سرحد خودبخود پرامن ہوگی۔ آج کل دنیا میں جدائی ڈالنے والی دیواروں کو گرایاجاتاہے، اور ہم نئی دیواریں تعمیر کروانے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں!

 انہوں نے مزیدکہا: ہم تدبیراور گفت وشنید سے اپنے مسائل حل کریں گے اور کسی بھی فرد یا گروہ کو دیگر ملکوں میں جاری لڑائیوں کو اپنے ملک میں لانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہمارے لوگ اس صوبے میں عبادت گاہوں اور کاروباری مراکز سمیت دیگر عوامی مقامات پر بم حملوں کی اجازت نہیں دیں گے۔

 اپنے خطاب کے آخرمیں ’عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین‘ کے رکن نے کہا: جس طرح صدر روحانی نے وعدہ دیاہے ملکی سطح پر پولیس گردی ختم کردی جائے گی، ہمیں بھی یہی توقع ہے کہ صوبہ سیستان بلوچستان میں لوگوں کو مزید کوفت نہ پہنچایاجائے۔ یہاں بھی پولیس گردی ختم ہوجائے اور وزیرانٹیلی جنس کے وعدے کے مطابق آزادی، تدبیر اور امن ومکالمے کی فضا قائم ہوجائے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین