پاکستان نے اسلام آباد میں امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے ڈرون حملوں پر امریکہ سے احتجاج کیا ہے۔
پاکستان نے کہا ہے کہ حالیہ ڈرون حملوں کی وجہ سے ملک میں قیام امن کے لیے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ بات چیت کی کوششوں پر منفی اثر پڑے گا۔
دوسری جانب امریکہ کا کہنا ہے کہ طالبان سے بات چیت کرنا پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔
ادھر پاکستان کی اپوزیشن جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت پاکستان کے راستے افغانستان میں نیٹو افواج کی سپلائی کو روکے گی۔
پاکستان نے اسلام آباد میں امریکی سفیر کو طلب کر کے حکیم اللہ محسود کو ہلاک کرنے والے ڈرون حملوں پر امریکہ سے احتجاج کیا ہے۔
پاکستان نے کہا ہے کہ حالیہ ڈرون حملوں کی وجہ سے ملک میں قیام امن کے لیے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ بات چیت کی کوششوں پر منفی اثر پڑے گا۔
دریں اثناء امریکی محکمۂ خارجہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ طالبان سے بات چیت کرنا پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔
ترجمان کے مطابق وہ ابھی حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی تصدیق کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
تاہم ترجمان کے مطابق حکیم اللہ محسود شدت پسند تنظیم تحریک طالبان کے سربراہ ہیں اور اس تنظیم نے مئی سال دو ہزار دس میں نیویارک میں ناکام بم حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جبکہ تنظیم کے سربراہ اور دوسری رہنماوں نے کھلے عام امریکہ اور امریکی شہریوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کر رکھا ہے۔
محکمۂ خارجہ کے مطابق تشدد کے خاتمے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے امریکہ اور پاکستان ایک اہم مشترکہ سٹریٹیجک مفاد کو جاری رکھیں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ امریکہ نے پاکستان کے طالبان سے مذاکرات کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکی سفیر کو طلب کر کے حکیم اللہ محسود کی ہلاکت پر احتجاج کیا ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ڈرون حملوں کی وجہ سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی تاریخ یعنی سنیچر کو حکومت پاکستان کے حمایت یافتہ ایک وفد نے شمالی وزیرستان میں طالبان سےملاقات کرنی تھی۔
انہوں نے واضح کیا کہ طالبان سے ملنے کے لیے جانے والا وفد حکومتی اہلکار پر مشتمل نہیں تھا لیکن اسے پاکستان حکومت کی حمایت حاصل تھی۔
انہوں نے کہا اس وفد میں تین علما شامل تھے۔ اس ملاقات میں مذاکرات کے ایجنڈے سے متعلق بات چیت ہونی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ مذاکرات کے عمل کو دھچکا ’وقتی‘ ہو گا۔
پاکستان کے وزیر داخلہ نے امریکی ارادوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نے حکیم اللہ محسود کو نشانہ بنانا تھا تو اس نے اس پہلے اتنے مواقع کیوں ضائع کیے۔ انہوں نے کہا حکیم اللہ محسود کئی بار افغانستان گئے اور اگر امریکہ چاہتا تو باآسانی انہیں نشانہ بنا سکتا تھا۔
وزیر داخلہ نے کہا حالیہ ڈرون حملے بات چیت کے عمل پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔ وزیر داخلہ نے امریکی سفیر کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امریکی سفیر پر واضح کیا تھا کہ امریکہ کو ڈرون حملوں کے بارے میں پاکستان کی موجودہ حکومت کے موقف کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔
وزیر داخلہ نےانکشاف کیا کہ امریکی حکومت نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے دوران حکیم اللہ محسود کو نشانہ نہ بنانے کی تجویز پر اتفاق نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کو پیشکش کی تھی کہ وہ حکیم اللہ محسود کے علاوہ اور کسی ایسے طالبان رہنما کو نشانہ نہیں بنائیں گے جو پاکستان کی سرحد عبور کر کے افغانستان میں داخل نہیں گا۔ چودھری نثار نے کہا کہ پاکستان نے امریکی شرط کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کے لیے یہ مشکل کی کھڑی ہے اور اسے اپنے دوستوں اور دشمنوں میں تمیز کرنی ہے اور یہ بھی جاننا ہے کہ پاکستان کے موجودہ حالات کا ذمہ دار کون ہے۔
بی بی سی اردو

آپ کی رائے