شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں ایک کمپاؤنڈ پر گذشتہ شام ہونیوالے ڈرون حملے میں تحریک طالبان پاکستان کے امیر حکیم اللہ محسود، ان کے باڈی گارڈ، کمانڈر طارق محسود اور ڈرائیور عبداللہ بہار سمیت 6 افراد جاں بحق ہو گئے۔ انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں 6 افراد مارے گئے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز نے دعویٰ کیاہے کہ شمالی وزیرستان کی تحصیل میران شاہ کے علاقے ڈانڈے درپہ خیل میں ہونے والے ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان کے امیر حکیم اللہ محسود جاں بحق ہوگئے ہیں۔
دوسری جانب کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے مقامی میڈیا سے رابطہ کر کے حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ ڈانڈے درپہ خیل تحریک طالبان کا گڑھ ہے جہاں طالبان کی شوریٰ کا اجلاس ہوا جس کی سربراہی حکیم اللہ محسود کر رہے تھے۔ اجلاس میں حکومت سے مذاکرات سے متعلق حتمی فیصلہ ہونا تھا۔ اجلاس میں شرکت کے بعد حکیم اللہ محسود جیسے ہی گاڑی میں واپس آئے اور کمپاؤنڈ میں ساتھیوں سمیت اُترے کہ اس دوران ایک امریکی جاسوس طیارے نے کمپاؤنڈ پر 4 میزائل داغے جس سے کمپاؤنڈ اور اس میں کھڑی گاڑی مکمل تباہ ہو گئی۔
امریکی جاسوس طیارے کی جانب سے ڈانڈے درپہ خیل میں حکیم اللہ محسود کے گھر پر دو میزائل داغے گئے۔
ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود کے گارڈ طارق محسود سمیت 5 افراد کے مارنے جانے کی اطلاعات ہیں تاہم دیگر افراد کی شناخت نہیں ہوسکی۔ حملے میں نشانہ بنائے جانے والا گھر مکمل طور پر تباہ ہوگیا جس کے باعث مقامی لوگوں میں شدید خوف و ہراس پایا جارہا ہے۔
ایک سینئر طالبان رہنما نے رائٹرز کو بتایا کہ ہم بڑے دکھ کے ساتھ تصدیق کر رہے ہیں کہ ہمارے عظیم کمانڈر کی اس حملے میں شہادت ہو گئی۔ طالبان رضاکاروں نے گاڑی اور کمپاؤنڈ کے ملبے سے مرنے والوں اور 2 زخمیوں کو باہر نکالا اس جگہ پر کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ مقامی ہسپتال کے حکام نے بھی حکیم اللہ محسود کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ محسود کو ہسپتال لائے جانے سے قبل ان کی موت واقع ہو چکی تھی۔
اس سے قبل بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب بھی شمالی وزیرستان کی تحصیل میران شاہ میں امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں 3 افراد مارے گئے تھے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا تھا کہ اگر طالبان سے مذاکرات کے دوران ڈرون حملے کئے گئے تو نیٹو سپلائی بند کردی جائے گی۔ انہوں نے طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں ڈرون حملوں کو سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا تھا۔
خالد سعید عرف سجنا کو تحریک طالبان پاکستان کا نیا امیر مقررکردیا گیا
تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد خالد سعید عرف سجنا کو تحریک طالبان کا نیا امیر مقررکردیا گیا ۔
یہ بات ایکسپریس نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتائی۔ ایک اور ٹی وی کے مطابق حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد تنظیم کے سربراہ کیلیے 3 نام زیر غور ہیں۔ ذرائع کے مطابق خان سعید عرف خالد سجنا، عصمت اللہ محسود ، اور خالد خراسانی کے نام سرفہرست ہیں۔
ایکسپریس نیوز+نوائے وقت

آپ کی رائے