’ایرانی اہل سنت کو نئی حکومت میں شامل کرنا چاہیے‘

’ایرانی اہل سنت کو نئی حکومت میں شامل کرنا چاہیے‘

ممتاز سنی عالم دین شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ایران میں منعقد ہونے والے حالیہ صدارتی اور بلدیاتی انتخابات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے گزشتہ جمعہ (14 جون) کو ایران کی تاریخ میں ایک اہم قرار دیا جس میں لاکھوں ایرانیوں نے پولنگ اسٹیشنز کا رخ کیا۔

جمعہ اکیس جون دوہزار تیرہ میں زاہدان کے سینکڑوں سنی مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: عوام کا انتخابات میں بڑے پیمانے پر حصہ لینا حیران کن اور خلاف توقع تھا۔ البتہ عوام کی یہ شرکت انتہائی معنی خیز اور اہم تھی؛ عوام کی واضح اکثریت نے اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہوئے یہ پیغام دیاہے کہ ملکی و غیرملکی بحرانوں پر قابو پایا جائے، اور وہ ملک کے سیاسی و معاشی مسائل کے حل چاہتے ہیں۔

مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: عوام نے جس کو زیادہ بہتر سمجھا اسی کو ووٹ دیا جو ان خیال میں مسائل و بحرانوں کو کم کرنے کی اہلیت رکھتاہے۔ عوام کی واضح شرکت سے زیادہ اہم الیکشن کا آزادانہ انعقاد تھا، لوگوں کی شکایات اس سلسلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ مناسب ہے کہ اس کامیاب انتخابات کے انعقاد پر ایرانی قوم کے علاوہ متعلقہ حکام کا شکریہ ادا کیاجائے جنہوں نے اس مرتبہ اپنی غیرجانبداری کا ثبوت دیا۔

بات آگے بڑھاتے ہوئے مہتمم دارالعلوم زاہدان نے حالیہ انتخابات میں عوام کی مشارکت کو مستحکم اور پرجوش قرار دیا۔ انہوں نے کہا: عوام نے مسٹر روحانی کو ان کی پگڑی اور قبا کی خاطر ووٹ نہیں دیا اگرچہ ان کا احترام محفوظ ہے؛ لیکن عوام نے نئے صدر کے نعروں اور خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے انہیں ووٹ دیا۔ ایرانی عوام کو کسی کفیل کی ضرورت نہیں ہے؛ اب وہ سیاسی طور پر بالغ ہوچکے ہیں۔ عوام کا ووٹ دراصل مسٹر روحانی کے منصوبوں اور خیالات کے حق میں تھا جو داخلی و خارجی بحرانوں کے حل کے سلسلے میں ہیں۔

خطیب اہل سنت زاہدان نے مزیدکہا: عوام کے مطالبات اور حقوق کے بارے میں نئے صدر کی ذمہ داریاں بہت ہی سنگین ہیں۔ نہ صرف ایرانی قوم بلکہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ مسٹر حسن روحانی نئے صدر کی حیثیت سے کیسے اپنے کیے گئے وعدے پورے کرتے ہیں۔ ہمیں امید ہے نئی حکومت میں تمام لسانی اکائیوں اور مسلکی اقلیتوںکو مناسب حصہ دیا جائے گا۔

ایک اہم نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: مسٹر روحانی کیلیے اہم ترین مسئلہ قومی آئین کا مکمل نفاذ ہونا چاہیے۔ جو آزادیاں اور حقوق آئین میں تصریح ہوچکی ہیں انہیں فراہم کرنے کا موقع آپہنچاہے۔ اگر لوگوں کی بنیادی آزادیاں اور حقوق ملیں، جماعتوں اور گروہوں نیز میڈیا کو آئین کے تناظر میں آزادی فراہم کی جائے تو ایرانی عوام کی رضامندی حاصل ہوجائے گی۔

انہوں نے مزیدکہا: مسٹر روحانی کا نعرہ یہی تھا کہ تمام اقوام اور مسالک کے حقوق کا خیال رکھاجائے گا اور اسی لیے انہیں ووٹ دیاگیا۔ عوام کو راضی رکھنے کیلیے انہیں اپنے وعدے پورے کرنے ہوں گے۔

سنی رہنما نے کہا: ایرانی اہل سنت جو ایرانی قوم کے ایک اہم حصے بھی ہیں اپنے حقوق چاہتے ہیں، ان کا مطالبہ بھی یہی ہے کہ مسٹر روحانی کی حکومت میں انہیں حصہ مل جائے اور قومی و صوبائی سطح پر انہیں خدمت کا موقع فراہم کیا جائے۔ کسی بھی ایرانی کو دیگر ایرانی شہریوں پر برتری حاصل نہیں مگر تقوی کی بنیاد پر۔ ’نمبر ایک یا دو کا شہری‘ نئے صدر کیلیے ایک چیلنج ہے جسے ختم کرنا ہوگا۔ صدرمملکت شہریوں کی تقسیم سے مقابلہ کرکے تمام قومیتوں کے اہل افراد سے سکیورٹی، انتظامی اور دیگر امور میں استفادہ کرے۔ ملک کے داخلی و خارجی بحرانوں پر قابو پانے کیلیے درایت اور تدبیر کی ضرورت ہے۔

شامی بحران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ’عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین‘ کے رکن نے مزیدکہا: مسئلہ شام ہمارے لیے بھی ایک بحران ہے؛ امید ہے صدر روحانی مسئلہ شام اور ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے حل کیلیے دوراندیشی اور تدبیر سے کام لیکر اچھے اقدامات اٹھائیں گے۔

انہوں نے کہا: معاشی مسائل کا حل اور قومی کرنسی کی گرتی ہوئی قدر میں اضافہ کرنا اچھی منصوبہ بندی اور تدبیر ہی سے ممکن ہے۔ نئے صدر عالمی برادری سے بہتر تعلقات بنانے سے معاشی بحرانوں پر قابو پاسکتے ہیں۔

اپنے خطاب کے آخر میں خطیب اہل سنت نے زاہدانی عوام کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے بلدیاتی الیکشن میں مختلف قومیتوں اور مسالک کے اتحاد اور صدارتی الیکشن میں ’حسن روحانی‘ کو ووٹ دیکر کامیاب کرایا جنہیں اہل سنت اور بلوچ برادری کی حمایت حاصل تھی۔
یادرہے ایرانی صوبوں میں نومنتخب صدر حسن روحانی کو سب سے زیادہ ووٹ سنی اکثریت صوبہ سیستان بلوچستان سے ملا ہے جس کی شرح 73فیصد بتائی جاتی ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین