وادی تیراہ میں پاک فوج اور جنگجوؤں کے درمیان لڑائی میں شدت

وادی تیراہ میں پاک فوج اور جنگجوؤں کے درمیان لڑائی میں شدت

پاکستان کے وفاق کے زیرانتظام شمال مغربی قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے علاقہ وادی تیراہ میں پاک فوج اور مسلح جنگجوؤں کے درمیان تین روز سے جاری لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے اور اب تک اس لڑائی میں تیس اہلکار ہلاک اور ستانوے جنگجو مارے گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پاک فوج نے سوموار کو جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں سے وادی تیراہ میں جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں متعدد مسلح جنگجو مارے گئے ہیں۔تاہم ان کی حقیقی تعداد معلوم نہیں ہوسکی۔
سکیورٹی فورسز کے اہلکار وادی تیراہ کے علاقے اکاخیل میں کالعدم سخت گیر تنظیم لشکر اسلام سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کررہے ہیں۔ انھوں نے توپخانے سے بھی جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے اور زمینی دستوں نے جنگجوؤں کے ٹھکانوں کی جانب پیش قدمی شروع کردی ہے۔
سکیورٹی فورسز نے میدان، اکاخیل اور باغ کے علاقوں میں لشکر اسلام اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے متعدد ٹھکانوں پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ ان علاقوں میں ان کی ہتھیار بند جنگجوؤں کے ساتھ شدید لڑائی جاری ہے اور وہ گذشتہ دوروز سے فوج کی سخت مزاحمت کررہے ہیں۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان( ٹی ٹی پی) کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ایک بیان میں لشکر اسلام کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ لڑائی کی تصدیق کی ہے۔ البتہ ان کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کے جنگجو اس مرحلے میں لڑائی میں شریک نہیں ہیں۔تاہم اگر ضرورت پڑی تو ٹی ٹی پی کے جنگجو لشکر اسلام کی حمایت کریں گے۔
احسان اللہ احسان کا کہنا تھا کہ انھیں لشکراسلام کے ایک کمانڈر سمیت پانچ جنگجوؤں کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے اور بعض جنگجو زخمی ہوئے ہیں۔البتہ انھوں نے مرنے والوں اور زخمیوں کی حقیقی تعداد بتانے سے معذوری ظاہر کی ہے۔ وادی تیراہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان لڑائی میں ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔
سکیورٹی فورسز نے وادی تیراہ میں جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کی کئی ماہ قبل منصوبہ بندی کی تھی اور اس کا بڑا مقصد جنگجوؤں کے مضبوط ٹھکانوں کا قلع قمع کرنا تھا۔ اکاخیل کا علاقہ وادی تیراہ میں اورکزئی اور خیبر ایجنسی کی سرحد کے سنگم پر واقع ہے اوریہاں دونوں ایجنیسوں کی سرحدیں ملتی ہے۔پاکستانی فوج نے جمعہ کوخیبرایجنسی میں جنگجوٶں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی اور اب تک ان کے متعدد ٹھکانوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین