ممتازسنی عالم دین اورخطیب اہل سنت زاہدان مولانا عبدالحمید نے اپنے تازہ ترین خطبہ جمعہ میں اولاد کی تربیت کی سنگین ذمہ داری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: بچوں کی تربیت اور نشوونما صحیح عقائد پر اور اسلامی طریقے سے ہونی چاہیے۔
اپنے خطاب کاآغاز قرآنی آیات: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ*يَا أَيُّهَا الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَعْتَذِرُوا الْيَوْمَ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [التحریم: 6-7] کی تلاوت سے کرتے ہوئے انہوں نے مزیدکہا: ان آیات مقدسہ میں اللہ تعالی نے ہمیں ایک اہم پیغام دیاہے؛ رب العالمین نے ہمیں حکم دیاہے کہ اے مؤمنو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ، ایسی آگ جس کے ایندھن انسانی بدن اور پتھر ہیں۔ کس قدر وہ آگ بدبودار ہوگی جس کے ایندھن انسانی گوشت اور جلد ہوں گے؟ بلاشبہ کفار اور شیطان کی راہ پر چلنے والوں کا انجام یہی ہوگا۔ انہی کے جسموں سے جہنم کی آگ بڑھکائی جائے گی۔ اسی لیے اللہ نے حکم دیا کہ اپنے اہل وعیال کو اس آگ سے بچالو۔ عیال میں بیوی بچوں کے علاوہ تمام افراد شامل ہیں جن کی کفالت آپ پر ہے۔ اس آگ سے بچاؤ کا واحد راستہ دین اسلام پر سختی سے عمل کرنا اور قرآن وسنت کی مکمل اتباع میں ہے۔
اسلام کے آغازدعوت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے مزیدکہا: جب نبی کریمﷺ مبعوث ہوئے تو انہوں نے اہل مکہ کو اکٹھے کیا اور صفا پہاڑ پر چڑھ کر گویا ہوئے: اگرمیں آپ کو ایک لشکرجرار کی خبر سنادوں جو اس کوہ کے پیچھے تمہیں مارنے کیلیے تیار ہے کیا آپ میری تصدیق کریں گے؟ انہوں نے جواب دیا اگرچہ ہمیں کوئی فوج نظر نہیں آرہی لیکن چونکہ آپ امین اور سچے آدمی ہیں لہذا ہمیں یہ خبر تصدیق کرنی پڑے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آپ کو میری سچائی اور راست گوئی پر یقین ہے تو سمجھ لو کہ تم اللہ کے عذاب کے محاصرے میں ہو اور آپ کی نجات کا واحد راستہ توحید ہے؛ آپ کی نجات بت پرستی اور شرک کو چھوڑکر صحیح عقائد کی جانب واپس آنے میں ہے۔ اسلام اللہ رب العزت کا پسندیدہ دین ہے، اس کے علاوہ کسی سے کوئی بھی دین ومذہب قابل قبول نہیں ہے۔ اسلام نے تمام سابقہ ادیان کو منسوخ کردیاہے، لہذا اسلام ہی کی اتباع کرنی چاہیے۔ اگر ہمیں اپنی اولاد بچانا ہے تو انہیں راہِ راست پر لانے کی محنت کرنی چاہیے۔ پوری طرح قرآن وسنت کی پیروی کرکے خرافات وبدعات اور اخلاقی واعتقادی گناہوں سے بچنا چاہیے۔ آباؤاجداد کی خرافات کے بجائے اسلامی فقہ اور بزرگوں کے فتاویٰ پر عمل پیرا ہوکر ہم نجات پاسکتے ہیں۔
حقوق اللہ اور حقوق العباد (انسانی حقوق) پر تاکید کرتے ہوئے مہتمم دارالعلوم زاہدان نے کہا: لوگوں کے حقوق غصب مت کریں، کسی کا خون مت بھائیں، ان کے اموال غارت مت کریں، تکبر اور ظلم وجور سے اجتناب کریں۔ تمام معاصی ومنکرات سے پرہیز کریں۔ گناہوں کے ارتکاب سے شیطان کو مزید وار کرنے کا موقع مل جاتاہے۔ غفلت ہی کی وجہ سے انسان اللہ کو بھول کر لایعنی اور فضول کاموں میں لگ جاتاہے۔ پورا دن یا رات ٹی وی دیکھنے اور گیم کھیلنے میں ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ اگر ایسے غافل لوگ توبہ نہ کریں اور اللہ کے عفو ومغفرت انہیں نصیب نہ ہو تو عذابِ الہی ان کا مقدر ہوگا۔
بچوں کی تربیت کی اہمیت واضح کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: بچوں کی تربیت مناسب اور اسلامی طریقے پر ہونی چاہیے۔ انہیں نیک لوگوں کے اخلاق اور طریقے سکھانا پڑے گا۔ بچوں کو عصری اور دینی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا چاہیے تاکہ معاشرے کی خدمت کرسکیں۔ ایسے بچے اپنے والدین کیلیے سرمایہ اور عمل صالح ہوں گے۔ والدین کو بچوں کیلیے مثالی کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہیں نیک اخلاق و طینت اور خداپرستی والدین سے سیکھنا چاہیے۔ نوجوان بچوں کی مخصوص حالت کی وجہ سے انہیں احترام کرنا چاہیے اور حدسے زیادہ سختی نہیں دکھانا چاہیے۔
خطیب اہل سنت نے کہا: صرف انفرادی عبادات مثلا نماز، روزہ اور حج جیسی عبادات انسان کی کامیابی کیلیے کافی نہیں ہیں؛ اگر بچے نماز ضائع کریں اور بے راہ روی کا شکار ہوجائیں تو ان کے والدین کو جوابدہ ہونا پڑے گا۔ والدین کو چاہیے جس طرح دنیوی آفات سے بچاؤ کی کوشش کرتے ہیں اور بچوں کی نجات کیلیے آگ یا سمندر میں کھودنے کی ضرورت پڑے تو دریغ نہیں کرتے، اسی طرح آخرت کی آگ سے بچانے کی محنت کریں جو زیادہ خطرناک اور ابدی ہے۔ حدیث کے مطابق ہرکوئی فرد مسؤل ہے اور اس سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال ہوگا۔ حکام کو عوام کے بارے میں اور ماں باپ کو بچوں کے حوالے سے؛ لہذا ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے بچوں کی تعلیم پر زور دیتے ہوئے کہا: جب بچے زیرتعلیم ہیں انہیں اپنے ذاتی کاموں اور کمائی پر نہیں لگانا چاہیے۔ بلکہ انہیں حصول علم کی ترغیب دینی چاہیے۔ بچوں کی تعلیم پر پیسہ خرچ کیا کریں، اس کے بغیر ہمیں ہمارا مناسب مقام دنیا میں حاصل نہیں ہوگا۔ عصری درس گاہوں میں عبادات اور دینی احکام کا اہتمام ہونا چاہیے، یونیورسٹی اور ہاسٹل میں نماز قائم کرنی چاہیے۔
اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے کہا: اللہ کی حدوں کا خیال رکھنا چاہیے، جو ہر وقت اللہ کی یاد میں مگن ہوتاہے اور اس کی نافرمانی سے گریز کرتاہے اللہ تعالی اسے مؤمن اور متقی شمار کرے گا۔ جو لوگ اللہ سے غافل ہوتے ہیں دراصل شیطان کی ہدایات پر چلنے والے ہوتے ہیں۔ لہذا کوشش کرنی چاہیے اسلامی احکام ہماری زندگی میں جاری ونافذ ہوں؛ اگر ہمت مردانہ ہو تو شرعی احکام پر عمل کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ نجات پانے کیلیے توبہ کا دروازہ کھلا ہے، یہ زندگی ایک موقع ہے اگر ہم اس کی قدر کریں اور اللہ کی جانب رجوع کریں۔

آپ کی رائے