عراق: پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، متعدد افراد زخمی

عراق: پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، متعدد افراد زخمی

عراق کے دارالحکومت بغداد میں پولیس نے اہل سنت سے تعلق رکھنے والے افراد کو امام ابوحنیفہ مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے سے روکنے کی کوشش کی ہے جس کے نتیجے میں ان کے درمیان جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب ملک کے مختلف شہروں میں وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔
عراقی سکیورٹی فورسز نے گذشتہ جمعہ کو اہل سنت کو امام ابوحنیفہ مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے سے روک دیا تھا۔آج پھر پولیس نے نمازیوں کوبغداد کے علاقے اعظمیہ میں واقع امام ابوحنیفہ مسجد کی جانب جانے سے روکنے کے لیے ان پر لاٹھی چارج کیا اور ان کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ جب ہم نے چودہ رمضان پل عبور کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے ہم پر پانی کا چھڑکاؤ اور لاٹھی چارج شروع کردیا۔اس عراقی کا کہنا تھا کہ ”مجھے نہیں معلوم پولیس نے ہمارے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا ہے اور اس طرح ہم پر حملہ کیوں کیا ہے؟ہم تو مسجد کی جانب جارہے تھے ،گرین زون میں نوری المالکی کے دفتر کی جانب تو نہیں جارہے تھے”۔
تاہم امام ابوحنیفہ مسجد سے یہ جھڑپیں کوئی دو کلومیٹر دور واقع علاقے میں ہوئی ہیں اور مسجد اور اس کے آس پاس صورت حال پرامن تھی۔وہاں عراقی پارلیمان کے اسپیکر اسامہ النجیفی نے ہزاروں افراد کے ساتھ نماز جمعہ ادا کی۔
مسجد کے خطیب احمد حسن الطہٰ نے نمازیوں کی نقل وحرکت پر قدغنیں عاید کرنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔انھوں نے کہا کہ چند روز قبل ہم سے حکام نے وعدہ کیا تھا کہ وہ مسجد تک نمازیوں کو آزادانہ آنے کی اجازت دیں گے لیکن سرکاری حکام ایک مرتبہ پھر اپنے وعدے کو ایفاء کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
عراق کے مغربی صوبہ الانبار کے مختلف شہروں میں نماز جمعہ کے بعد ہزاروں افراد نے ایک مرتبہ پھر وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ فلوجہ میں مظاہرے کے دوران بعض نقاب پوش افراد نے پڑوسی ملک شام میں سنی باغیوں کے پرچم سے ملتے جلتے پرچم کو لہرا دیا۔
انھوں نے سیاہ رنگ کا گھریلو ساختہ ایک بینربھی اٹھا رکھا تھا جو عراق میں القاعدہ کی شاخ استعمال کرتی رہی ہے۔ان افراد کی آمد کے بعد اس رائے کا اظہار کیا گیا ہے کہ القاعدہ سے وابستہ افراد اہل سنت کے پرامن مظاہروں میں اپنی موجودگی ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ نے چند روز قبل مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کریں۔”ریاست اسلامی عراق” نے اہل سنت کے حکومت مخالف مظاہرین پر زوردیا تھا کہ وہ وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت کے خلاف تشدد کو بروئے کار لانے کے لیے ہتھیار بند ہو جائیں۔
تنظیم کے ترجمان محمد العدنانی نے ایک بیان میں اہل سنت سے کہا کہ وہ یا تو اہل تشیع کے سامنے جھک جائیں یا پھر وہ عظمت اور آزادی کی بحالی کے لیے حکومت کے خلاف ہتھیار بند ہوجائیں۔
القاعدہ کے اس بیان کے پیش نظر عراقی وزیراعظم نوری المالکی کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کے خلاف حالیہ مظاہروں میں القاعدہ اور سابق مصلوب صدر صدام حسین کی جماعت بعث پارٹی کی باقیات کا ہاتھ کار فرما ہے لیکن مظاہروں کے منتظمین نے ان کے اس دعوے کو مسترد کردیا تھا۔
واضح رہے کہ عراق میں دسمبر کے آخر سے نوری المالکی حکومت کے خلاف اہل سنت کے اکثریتی شہروں اور صوبوں میں احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔مظاہرین عراقی جیلوں میں قید سنیوں کو رہا اور متنازعہ انسداد دہشت گردی قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔یہ قانون ان کے بہ قول حکومت مخالفین کو دبانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔یہ مظاہرے مستعفی وزیر داخلہ رفیع العیساوی کے محافظوں کی گرفتاری کے ردعمل میں شروع ہوئے تھے اور اب وہ حکومت مخالف مزاحمتی تحریک کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین