مصر:پورٹ سعید میں شدید جھڑپوں کے بعد سرکاری عمارت نذرآتش

مصر:پورٹ سعید میں شدید جھڑپوں کے بعد سرکاری عمارت نذرآتش

مصر کے ساحلی شہر پورٹ سعید میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں دو فوجیوں کی ہلاکت کے بعد صورت حال مزید کشیدہ ہوگئی ہے اور مشتعل مظاہرین نے ایک سکیورٹی عمارت کونذرآتش کردیا ہے۔

مظاہرین نے پولیس کی جانب پٹرول بم پھینکے اور پتھراؤ کیا جبکہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے۔مظاہرین نے شہر میں گورنری کی عمارت پر بھی پتھراؤ کیا ہے۔العربیہ کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ فوج کے ایک اعلیٰ افسر نے مظاہرین کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ان سے بات چیت کی ہے لیکن ان کی یہ کوشش رائیگاں چلی گئی ہے۔

پورٹ سعید میں اتوار اور سوموار کی درمیانی شب مظاہرین اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں میں تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے۔

اس ساحلی شہر کے مکین گذشتہ سال فروری میں دوفٹ بال کلبوں کے درمیان میچ کے دوران خونریز ہنگاموں میں چوہتر افراد کی ہلاکت کے الزام میں متعدد افراد کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔جنوری میں ایک عدالت نے پرتشدد واقعے میں ملوث افراد کو سزائے موت سنائی تھی۔ان سزاؤں کے خلاف پورٹ سعید کے مکینوں نے محدود پیمانے پر سول نافرمانی کی تحریک شروع کررکھی ہے۔

پولیس نے مقامی حکومت کے ایک دفتر کے باہر جمع ہونے والے افراد کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے۔مصر کی وزارت صحت کی اطلاع کے مطابق آج پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں چار سو چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

وزارت داخلہ نے ایک الگ بیان میں بتایا ہے کہ اس کے دو اہلکار سر اور گردن میں گولیاں لگنے سے زخمی ہوگئے ہیں۔شہر میں کشیدگی کے پیش نظر وزارت داخلہ نے فروری 2012ء میں پیش آئے تشدد کے واقعہ میں ملوث زیرحراست مشتبہ انتالیس افراد کو دوسرے شہروں میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مصر کی ایک عدالت آیندہ ہفتے کے روز ان افراد کے خلاف فیصلہ سنا رہی ہے۔اس مقدمے میں اکیس دوسرے مدعاعلیہان کو عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔اس فیصلے کے خلاف پورٹ سعید کے مکینوں کا احتجاج جاری ہے۔ان کی ایک شکایت یہ بھی ہے کہ قاہرہ حکومت انھیں دیوار سے لگا رہی ہے اور وہ ایک عرصے سے مرکزی حکومت کے ناروا رویے کی بھی شکایت کرتے چلے آرہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ،ایجنسیاں


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین