شام میں سرکاری فوج اور جیش الحر کے درمیان جھڑپوں میں مزید چار فلسطینی پناہ گزیں شہید ہو ئے۔ یہ چاروں ہفتے کے روز مہاجر کیمپوں کے قریب جھڑپوں کی زد میں آئے۔ اس طرح لگ بھگ دو سال قبل شروع ہونے والے اس تنازعے میں فلسطینی شہداء کی تعداد 1038 ہوگئی ہے۔
مقامی روزنامے ’’القدس‘‘ کے مطابق یرموک کیمپ میں شاہراہ صفد میں شامی سرکاری فوج کا میزائل گرنے سے ایک نوجوان احمد طہ شہادت پا گیا، ادھر جمعہ کے روز کی گولہ باری میں زخمی ہونے والے جودت سعدیہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ یرموک کیمپ کی مشہور شاہراہ پر کئی روز سے جاری فائرنگ کے واقعات میں نوجوان رائد السید چل بسا۔ ادھر اکیس فروری کو دمشق کے علاقے مساکن برزہ میں ہونے والے دھماکے میں زخمی ہونے والے نوجوان احمد شقیر کی شہادت کا بھی اعلان کر دیا گیا۔
ادھر ورکنگ گروپ برائے فلسطینی پناہ گزیں کا کہنا ہے کہ تقریبا دو سال قبل شام کی حکومت کے خلاف شروع ہونے والی شامی عوام کی اس تحریک میں اب تک 1038 فلسطینی پناہ گزیں شہید کردیے گئے ہیں۔ شام کی سرکاری فوج کی جانب سے فلسطینی مہاجر کیمپوں پر گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران چودہ فلسطینی شامی سرکاری فوج اور فری سیرین آرمی کے مابین جاری جھڑپوں کا حصہ بن گئے۔
خیال رہے کہ شامی فوج نے گزشتہ کئی ماہ سے دمشق میں موجود فلسطینی پناہ گزینوں کے کیمپوں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ ان کیمپوں میں ادویات اور خوراک تک کی ترسیل ناممکن بنا دی گئی ہے۔ جس کے باعث بالخصوص یرموک کیمپ میں موجود فلسطینی انتہائی کس مپرسی کی حالت میں ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین

آپ کی رائے