شام کے باغی جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحُر نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو شام میں کارروائیاں بند کرنے کے لیے اڑتالیس گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو جنوبی لبنان میں اس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
جیش الحُر کے چیف آف اسٹاف بریگیڈئیر جنرل سلیم ادریس نے بدھ کو العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ اڑتالیس گھنٹے میں شام میں اپنی مداخلت کا سلسلہ بند کردے، ورنہ ان کے جنگجو لبنان میں اس تنظیم کی تنصیبات پر حملے شروع کردیں گے۔
واضح رہے کہ لبنانی تنظیم شامی صدر بشارالاسد کی کھلم کھلا حمایت کررہی ہے اور وہ وقفے وقفے سے اپنے جنگجوؤں کی اکا دکا ہلاکتوں کے اعلانات کرتی رہتی ہے،حزب اللہ کے سربراہ شیخ حسن نصراللہ نے اکتوبر 2012ء میں یہ اعتراف کیا تھا کہ ان کی جماعت کے جنگجو شامی باغیوں کے خلاف لڑرہے ہیں لیکن ان کے بہ قول وہ انفرادی طور پر شامی فوج کے شانہ بشانہ باغیوں کے خلاف لڑائی میں شریک ہیں اور وہ جماعت کی ہدایات کے تحت ایسا نہیں کر رہے ہیں۔
گذشتہ اتوار کو شام اور لبنان کے درمیان سرحدی علاقے میں حزب اللہ کے جنگجوؤں اور شامی باغیوں کے درمیان لڑائی میں آٹھ افراد مارے گئے تھے۔ان میں تین حزب اللہ کے جنگجو اور پانچ شامی باغی تھے۔حزب اللہ کے ایک عہدے دار کا کہنا تھا کہ لڑائی میں شام میں رہنے والے دو لبنانی ہلاک اور چودہ زخمی ہوگئے تھے۔ان میں بعد میں ایک لبنانی اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گیا تھا۔
دوسری جنرل شامی انقلاب جنرل کمیشن سے تعلق رکھنے والے ہادی العبداللہ نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ لبنانی حزب اللہ کے جنگجوؤں نے شام کے آٹھ سرحدی دیہات پر قبضہ کررکھا ہے،انھوں نے جب اپنے اس قبضے کو اس سے ملحقہ تین اور دیہات تک وسعت دینے کی کوشش کی تو ان کی جیش الحُر سے وابستہ باغی جنگجوؤں سے لڑائی شروع ہوگئی تھی۔
حزب اللہ کے جنگجوؤں نے ان دیہات اور شامی باغیوں پر پیدل حملہ کیا تھا اور وہ دوسرے اسلحے کے علاوہ راکٹ لانچروں سے مسلح تھے۔ان کے مقابلے کے لیے جیش الحُر نے بھی شامی فوج سے چھینے گئے دو ٹینک سرحدی علاقے میں لے آئے تھے۔
حزب اللہ کے جنگجو شام کی سرحد کے دوسری جانب وادی بقاع میں موجود ہیں۔اس علاقے میں دونوں ممالک کے درمیان کوئی حد بندی نہیں ہے اور وہاں حزب اللہ کے جنگجوؤں نے اہل تشیع اور اہل سنت کی مخلوط آبادی والے چار دیہات پر کنٹرول حاصل کررکھا ہے۔
سرحدی علاقے میں ان جھڑپوں سے چندے قبل ہی شامی حزب اختلاف کے اتحاد نے دمشق حکومت کی اتحادی لبنانی تنظیم حزب اللہ پر شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں فوجی دراندازی کا الزام عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے دونوں ممالک کے تعلقات پر فرق پڑے گا۔
شامی قومی کونسل نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ حزب اللہ کے ارکان نے ہفتے کے روز لبنان کی سرحد کے نزدیک فوج کے علم کے باوجود تین دیہات پر حملہ کیا تھا۔صوبہ حمص میں اس کارروائی کے نتیجے میں شہریوں کی بھی ہلاکتیں ہوئی تھیں اور سیکڑوں لوگ اپنا گھربار چھوڑ کر چلے گئے تھے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ،ایجنسیاں

آپ کی رائے