شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق باغیوں نے ملک کے شمال میں واقعہ شہر حلب میں قائم ایک فوجی ہوائی اڈے پر قبضہ کر لیا۔
اطلاعات کے مطابق جنگجوؤں نے سکیورٹی افواج کے ساتھ تین دن کی جھڑپوں کے بعد الجراع نامی ہوائی اڈے کا کنٹرول سنبھال لیا۔
ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ باغیوں نے ملک کے شمال مشرقی حصے میں واقع ایک بڑے ہائیڈرو الیکٹرک ڈیم کو تباہ کرنے کے ایک دن بعد فوجی ہوائی اڈے پر قبضہ کیا۔
دوسری جانب ترکی کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ پیر کو شام اور ترکی کی سرحد پر گاڑی کے ذریعے کیے جانے والے دھماکے میں تیرہ افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں شام کے دس اور ترکی کے تین باشندے شامل تھے۔
یہ دھماکہ پیر کو ترکی کی سرحد کی جانب صوبہ حتاج میں سیلویگزو کسٹم پوسٹ پر ہوا۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان کے حوالے سے بتایا کہ شامی باغی ایک گاڑی جس میں بم رکھے کسٹم گیٹ کے قریب پہنچنے کے قابل ہوئے کیونکہ یہ گیٹ شامی سرحد پر ہے۔
خیال رہے کہ ترکی شام کے صدر بشار الاسد کا شدید مخالف رہا ہے اور اس کا علاقہ شام کی جانب سےکی جانے والے شیلنگ سے متاثر ہوتا رہتا ہے۔
ادھر برطانیہ میں موجود شامی انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ شامی باغیوں نے الجراع نامی فوجی ہوائی اڈے پر قبضے کے دوران چالیس کے قریب فوجیوں کو ہلاک یا گرفتار کیا۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے شامی انسانی حقوق کی تنظیم کے ڈائریکٹر رامی عبدل رحمان کے حوالے سے بتایا کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ شامی باغیوں نے استعمال ہونے والے جنگی جہازوں پر قبضہ کیا۔
واضح رہے کہ شامی باغیوں نے گزشتہ ماہ شدید لڑائی کے بعد ملک کے شمال مغرب میں واقع تفتاناز نامی فوجی ہوائی اڈے پر قبضہ کر لیا تھا۔
بی بی سی اردو

آپ کی رائے