اورکزئی ایجنسی:بم دھماکے اور فضائی حملے میں 26 افراد ہلاک

اورکزئی ایجنسی:بم دھماکے اور فضائی حملے میں 26 افراد ہلاک

پاکستان میں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں ایک مسجد کے نزدیک بم دھماکے کے نتیجے میں سولہ افراد ہلاک اور تیس زخمی ہوگئے ہیں۔

اسی ایجنسی میں فضائی حملے میں دس افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ایک اور شورش زدہ قبائلی علاقے وزیرستان میں امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے ڈرون حملے میں چار افراد مارے گئے ہیں۔

اورکزئی ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ فضل قادر نے بتایا ہے کہ ایجنسی کے مرکزی شہر کلایا میں ایک مسجد کے نزدیک ایک دکان کے باہر نماز جمعہ کے بعد بم دھماکا ہوا ہے۔اس وقت لوگ نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد گھروں کو واپس جارہے تھے۔مرنے والوں میں ایک پاکستانی صحافی اور پیراملٹری دستے کا اہلکار بھی شامل ہے۔

فوری طور پر کسی گروپ نے اس بم دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔اس بم حملے کے بعد پاکستانی سکیورٹی فورسز کے جنگی طیاروں نے اورکزئی ایجنسی کے مختلف علاقوں میں جنگجوؤں کے پانچ ٹھکانوں پر بمباری کی ہے اور فضائی حملے میں دس جنگجو مارے گئے ہیں۔

اورکزئی ایجنسی میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز 2010ء سے وقفے وقفے سے طالبان جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کررہی ہیں اور اب تک وہاں سیکڑوں افرادجھڑپوں اور پاک فوج کے فضائی حملوں میں مارے جاچکے ہیں لیکن اس کے باوجود جنگجوؤں کی دہشت گردی کی سرگرمیوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی اور وہ ملک کے دوسرے علاقوں میں آئے دن بم دھماکے کرتے رہتے ہیں۔
ڈرون حملہ
درایں اثناء امریکا کی مرکزی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے نے شمالی اور جنوبی وزیرستان کے درمیان سرحد پر واقع علاقے بابرغر میں مشتبہ جنگجوؤں کے ایک ٹھکانے پر میزائل حملہ کیا ہے جس میں چار افراد مارے گئے ہیں۔

انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق امریکی ڈرون نے بابرغر میں ایک مکان پر دو میزائل داغے تھے۔اس حملے میں مرنے والے چاروں افراد کے بارے میں شُبہ ہے کہ وہ جنگجو تھے۔حملے میں دو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

امریکی ڈرون نے آج جس علاقے پر حملہ کیا ہے،یہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور اس علاقے میں حکیم اللہ محسود کے زیرکمان جنگجوؤں کے علاوہ غیر ملکی بھی قیام پذیر ہیں۔تاہم فوری طور پر ڈرون حملے میں مارے گئے افراد کی شناخت معلوم نہیں ہوسکی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ ،ایجنسیاں


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین