عراق کے شمالی قصبے طوزخرماتو میں اہل تشیع کی ایک مسجد میں خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں پینتیس افراد ہلاک اور ستر سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔
عراقی حکام کے مطابق خودکش بمبار نے بدھ کو بغداد سے ایک سو پچھہتر کلومیٹر شمال میں واقع قصبے طوزخرماتو میں اہل تشیع کی مسجد سیدالشہداء میں داخل ہوکر اپنی بارود سے بھری جیکٹ کو دھماکے سے اڑا دیا۔اس وقت مسجد میں ایک سیاست دان کے رشتے دار کی نمازجنازہ ادا کی جارہی تھی۔
عراق میں گذشتہ دوہفتے سے بم دھماکوں اور خودکش بم حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور منگل کو دارالحکومت بغداد اور اس کے نواحی علاقوں میں تین بم دھماکوں میں سترہ افراد ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔ابھی تک کسی گروپ نے عراق میں ان بم دھماکوں اور خودکش کار بم حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی۔
گذشتہ ہفتے طوزخرماتواور عراق کے دوسرے علاقوں میں متعدد بم دھماکے ہوئے تھے۔ان میں اٹھاسی افراد ہلاک ہوگئے تھے۔عراق میں یہ بم دھماکے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب سنی اکثریتی صوبے الانبار میں وزیراعظم نوری المالکی کے خلاف دسمبر کے آخر سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور مظاہرین وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ

آپ کی رائے