آسام میں تشدد کا بازار پھر گرم

آسام میں تشدد کا بازار پھر گرم

آسام(ڈوئچے ویلے) بھارت کے شمال مشرقی ریاست آسام میں چند دنوں کے سکون کے بعد تشدد کا بازار ایک بار پھر گرم ہوگیا ہے۔ تشدد کی اس تازہ لہر میں کم از کم پانچ لوگوں کی ہلاکت کے بعد اب مرنے والوں کی تعداد 61 ہوچکی ہے۔
اس دوران امدادی کیمپوں کا دورہ کرنے والے مسلمانوں کی متعدد تنظیموں کے ایک وفد نے کہا کہ متاثرین کی حالت کافی خراب ہے ۔ دوسری طرف مسلم ممبران پارلیمنٹ نے وزیراعظم سے ملاقات کے لیے وقت مانگا ہے۔
آسام میں فساد سے متاثرہ مسلمانوں کے متعدد امدادی کیمپوں کا دورہ کرکے واپس لوٹے مسلم تنظیموں کے مشترکہ وفد نے بتایاکہ مرکز ی او ر ریاستی حکومت نے متاثرین کی امداد اور دوبارہ آبادکاری کے لیے جو اعلانات کئے ہیں، ابھی ان پر ٹھیک سے کارروائی کا آغاز بھی نہیں ہوا ہے۔
وفد نے فسادات کی اصل وجہ کا پتہ لگانے کے لئے جوڈیشیل انکوائری کا مطالبہ کیا ۔ وفد میں شامل محمد شفیع مدنی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ کیمپوں کی حالت اچھی نہیں ہے۔’’وہاں عورتوں اور حاملہ خواتین کی بھی کافی بڑی تعداد موجود ہے، جب کہ وسائل کا فقدان ہے۔ ‘‘ انہوں نے بتایا کہ اس وقت تقریبا تین سو امدادی کیمپ کام کررہے ہیں، جن میں دو سوکے قریب کیمپ مسلمانوں کے ہیں جب کہ بقیہ کیمپوں میں بوڈو قبائلی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان کیمپوں میں تین لاکھ 78 ہزار 45 افراد موجود ہیں جن میں مسلمانوں کی تعداد دو لاکھ 66 ہزار 700 اور بوڈو کی تعداد ایک لاکھ گیارہ ہزار 345 ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آسام کے چار اضلاع پر مشتمل بوڈو علاقہ کا تنازعہ کوئی نیا نہیں ہے۔ اس علاقے کی آبادی 31 لاکھ ہے ۔ جس میں تقریبا گیارہ لاکھ بوڈو اور اتنے ہی مسلمان ہیں جب کہ بقیہ آبادی عیسائیوں اور دیگر غیربوڈو افراد پر مشتمل ہے۔ بوڈو اپنے لئے ایک خود مختار قبائلی ریاست کا مطالبہ اور اس کے لیے پرتشدد مظاہرے بھی کرتے رہے ہیں۔ 2003میں بوڈو‘ آسام حکومت اور مرکز کے درمیان امن معاہدہ کے بعد بوڈو لینڈ ٹیری ٹوریل کونسل (بی ٹی سی)کا قیام عمل میں آیا، جو مغربی آسام کے چار اضلاع پر مشتمل بوڈو لینڈ ٹیری ٹوریل ایڈمنسٹریٹڈ ایریا کا کام کاج دیکھتی ہے۔ 40سیٹوں والی اس کونسل میں تیس سے زیادہ سیٹوں پر بوڈو کا قبضہ ہے۔ اس کے علاوہ وہ ریاست میں کانگریس کی قیادت والی حکومت میں بھی شامل ہیں اور ان کا ایک ممبر اسمبلی وزیر بھی ہے۔شفیع مدنی کا کہنا ہے کہ بی ٹی سی کے قیام کے بعد غیربوڈو کئی طرح کی پریشانیو ں سے دوچار ہیں اور انہیں خوف ہے کہ علیحدہ بوڈو قبائلی ریاست بن جانے کی صورت میں وہ بہت سارے حقوق سے محروم کردیے جائیں گے۔ دوسری طرف چونکہ اس علاقے میں غیربوڈو میں سب سے زیادہ تعدا د مسلمانوں کی ہے اس لئے بوڈو چاہتے ہیں کہ مسلمان اس علاقے سے باہر چلے جائیں۔ تشدد کے اس سلسلہ کواسی کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
محمد شفیع مدنی نے متاثرین سے ملاقات کے بعد اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ بعض مفاد پرست عناصر بوڈو اور غیر بوڈو تنازع کو ہوا دینے کی مسلسل کوشش کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی کی طرف سے اس معاملے کو بنگلہ دیشی غیر قانونی تارکین وطن کا معاملہ قرار دینا بھی اسی کا ایک حصہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کئی شدت پسند ہندو تنظیمیں قبائلیوں میں غلط فہمیاں پیدا کرنے اور انہیں غیربوڈو افراد کے خلاف بھڑکانے کے لیے جھوٹی افواہیں پھیلاتے رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو باہمی اعتماد سازی کے مستقل اقدامات کے ذریعہ ہی حل کیا جاسکتا ہے۔اس مسئلے کا کوئی فوری حل ممکن نہیں ہے بلکہ اس کے لئے بوڈو اور غیربوڈو رہنماؤں کو ایک دوسرے کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنا ہوگا اور موجود غلط فہمیوں کو دور کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ترون گوگوئی حالانکہ صورت حال کو معمول پر لانے کے لیے اب کچھ حقیقی اقداما ت کر رہے ہیں لیکن وہ اپنی سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے حکومت میں بی ٹی سی کی سرگرم شراکت کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔
دریں اثناء تشدد زدہ چرانگ اور کوکرا جھار اضلاع میں مزید پانچ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ لوگ امدادی کیمپوں سے باہر نکلے تھے اور بعد میں ان کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ انہیں گولیاں مار دی گئی تھیں جب کہ کئی افراد کے لاپتہ ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ اسی دوران بھارتی مسلم ممبران پارلیمان نے آسام میں تشدد کے مسئلے پر بات چیت کے لئے وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ سے وقت مانگا ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین