ممتاز عالم دین اور خطیب اہل سنت زاہدان مولانا عبدالحمید اسماعیلزہی دامت برکاتہم نے اپنے تازہ ترین خطبہ جمعے کا آغاز سورت التوبہ کی آیات 111, 112 «إِنَّ اللّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالإِنجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللّهِ فَاسْتَبْشِرُواْ بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُم بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ*التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّاكِعُونَ السَّاجِدونَ الآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنكَرِ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللّهِ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ»کی تلاوت سے کرتے ہوئے اللہ تعالی سے سودا کرنے کو سب سے زیادہ سودمند اور منافع بخش سودا قرار دیا۔
انہوں نے بیان کے شروع میں کہا: آپ کے سامنے سورت التوبہ کی بعض آیات کی تلاوت ہوئی جس میں جہادفی سبیل اللہ کے بعض مسائل بیان ہوئے ہیں۔ صدراسلام میں حالات کا تقاضا تھا کہ دین کی حفاظت اور سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم سے دفاع کیلیے جان ومال کا نذرانہ پیش کیاجائے، جانی و مالی قربانیوں کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
مفسرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ آیات ’’بیعت عقبہ‘‘ کے واقعے کے بارے میں نازل ہوئیں۔ پہلی بیعت میں مدینہ کے چھ افراد بیعت کیلیے آئے جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت دی، انہوں نے اسلام لایا۔ دوسری مرتبہ بارہ افراد آئے جو مشرف بہ اسلام ہوئے اور مدینہ جاکر دوسروں کو اسلام کی دعوت دینے لگے۔
بات آگے بڑھاتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے مزیدکہا: تھوڑے ہی عرصے میں مدینہ شہر میں اسلام کا نور پھیلنے لگا اور لوگ جوق درجوق مشرف بہ اسلام ہوئے؛ اہل مدینہ کی درخواست پر بعض قاری صحابہ لوگوں کو تعلیم دینے کیلیے وہاں پہنچے۔ ایک برس بعد، ستر افراد مدینہ سے عقبہ کے مقام پر بیعت کیلیے آپہنچے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ نے اور آپ کے صحابہ نے مکہ میں بہت ساری مشکلات برداشت کی ہے، آپ مدینہ کو ’دارالہجرۃ‘ قرار دیں اور ہمارے پاس تشریف لائیں، ہم جس طرح اپنی جان ومال اور عزت کی حفاظت کرتے ہیں آپ سے بھی محافظت کریں گے؛ جب بعض لوگوں نے پوچھا اس دفاع و حمایت کے بدلے میں اللہ تعالی ہم کو کیا دے گا؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت عطا ہوگی۔
آیت کی تشریح کرتے ہوئے انہوں نے مزیدکہا: اللہ تعالی نے اہل ایمان کی جان و مال کو خریدکر بدلے میں جنت الفردوس انہیں فروخت کی ہے۔ فرمان الہی ہے: ’’فاستبشروا ببیعکم الذی بایعتم بہ‘‘ ایسے فائدہ مند سودے پر خوش ہوجاؤ۔ فانی جان ومال کے عوض میں تمہیں ابدی اور لایزال جنت ملتی ہے۔
مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: بلاشبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اللہ کی رضامندی کے حقیقی خریدار تھے۔ ایسے لوگ بہت ہی خوش قسمت ہیں جو اپنے نفس کو دباکر اللہ کی رضامندی حاصل کرتے ہیں۔ اللہ کی راہ میں جہاد جان ومال سے ممکن ہے۔ صحابہ کرام نے مدینہ کی جانب ہجرت کرکے جان ومال کی قربانی دیدی۔ سچے مؤمن اللہ کی رضامندی پانے کیلیے کسی قسم کی جانی و مالی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔ مکتب نبوت کے تربیت یافتہ افراد نے اس سودمند کاروبار کیلیے سخت محنت کی اور اللہ کی رضامندی اور جنت حاصل کر ہی لی۔
حقیقی مؤمنوں کی صفات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مہتمم دارالعلوم زاہدان نے کہا: اللہ سے منافع سے مالامال سودا کرنے والے لوگ ہمیشہ توبہ و استغفار کرتے ہیں، کثرت سے عبادت کرتے ہیں، اللہ کی تعریف اور حمد وثنا میں مصروف ہوتے ہیں۔ یہ لوگ ’السائحون‘ بھی ہیں جس کا معنی ہے کثرت سے روزہ رکھنے والے ہیں۔ روزہ بندے کو قوی بناتاہے چنانچہ گناہوں کے مقابلے میں بندہ استقامت دکھاسکتاہے۔
انہوں نے مزیدکہا: اللہ سبحانہ وتعالی نے ایسے افراد کو ’’الراکعون الساجدون‘‘ کے الفاظ سے یادکیا ہے؛ کثرت سے سجدہ و رکوع کرنے والے یعنی ہمیشہ نماز پڑھنے والے لوگ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرامؓ اور صدر اسلام کے مسلمان جب بھی فارغ وقت پاتے تو نوافل میں لگ جاتے اور نماز پڑھتے۔ اس کے علاوہ یہ سچے مؤمن امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا بھی اہتمام کرتے ہیں، خود بھی نیک کام کرتے اور دوسروں کو بھی بھلائی کی دعوت دیتے ہیں۔
آخرمیں مولانا عبدالحمید نے آج کل کے مسلمانوں کی ایمان کی کمزوری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ضعف ایمان کی وجہ سے آج کا مسلمان اللہ کی خاطر جان و مال کی قربانی دینے سے گریزاں ہے۔ آپ اللہ کی راہ میں ہرقسم کی قربانی کیلیے تیار رہیں اور کثرت سے اس ذات پاک کی عبادت کیا کریں۔

آپ کی رائے