کسی سونامی کو نہیں مانتا، 2008ء کے انتخابات میں ہمیں ہروایا گیا، فضل الرحمن

کسی سونامی کو نہیں مانتا، 2008ء کے انتخابات میں ہمیں ہروایا گیا، فضل الرحمن

کراچی (جنگ نیوز) جمعیت علمائے اسلام (ف )کے سربراہ اور سینئر سیاسی و مذہبی رہنما مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ عمران خان سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے، انہیں پاکستان کی سیاست میں کوئی عنصر نہیں مانتا۔جس کا نسب نامہ نہ ہو جس کی سیاست کی کوئی تاریخ نہ ہو، اس کی حیثیت کیا ہے ؟۔ پاکستان کی مذہبی جماعتوں نے ہمیشہ وحدت کی بات کی ہے اور کبھی بھی فرقہ وارانہ تعصب کی سیاست نہیں کی۔میں اعتراف کرتاہوں کہ مسلمان ہی مسلمان کے خلاف استعمال ہورہا ہے اور ہمیں اس کا مقا بلہ کرنا چاہئے،ہم 2008ء کے انتخابات ہارے نہیں، ہمیں ہروایا گیا۔پاکستان کے اندر عسکریت پسندی کے عوامل داخلی نہیں خارجی ہیں۔میں وزیر اعظم بنوں یا نہ بنوں مگر میں اس مقصد کیلئے امریکہ سے کبھی خیرات نہیں مانگوں گا ۔امریکی سفیر مجھے میرے چیمبر میں ملنے آئی میں اس سے ملنے نہیں گیا ۔یہ کوئی خفیہ بات نہیں ہے۔
ان خیالات کا اظہارانہوں نے جیو نیوزکے پروگرام ”عوام کی عدالت “میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔پروگرام کی میزبانی کے فرائض افتخار احمد نے انجام دیئے ۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ یہی کرپشن ہے جس کی پاداش میں حکومتیں ختم کی گئیں ،حکمرانوں کو جیلوں میں ڈالا گیا، پھربھی ملک سے کرپشن ختم نہیں ہوسکی، اس کے پیچھے اسبا ب کیا ہیں؟۔غیر جمہوری طاقتوں نے سیاسی عمل کو اس قدر کمزور کردیا ہے کہ سول اداروں کو ہم مضبوط نہیں بنا سکے ۔اس سوال پر کہ کیا سیاستدانوں نے ہمیشہ آمروں کا ساتھ نہیں دیا ؟
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے ملک میں آزادی کے بعد نوآبادیاتی نظام ختم نہیں کر سکے ہیں،یہ سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں آج بھی ہمارے ملک میں موجود ہے۔ اس سوال کے جواب پر کہ دینی جماعتوں نے ہمیشہ آمروں کا ساتھ دیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ یہ درست نہیں ہے، دینی جماعتیں مظلوم جماعتیں ہیں انہیں سیاسی کردار ادا کرنے کا کبھی موقع نہیں ملا ہے۔ پچپن سال کے بعد ایک صوبے میں حکومت کرنے کا محدود اختیار ملا تو ہم نے صوبے کے تعلیم اور صحت کے بجٹ کو 35کروڑ سے 1ارب 35کروڑ تک پہنچادیا۔
2008ء کے انتخابات کی شکست کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہمیں شکست نہیں ہوئی بلکہ ہروایا گیا اور اس کے پیچھے بین الااقوامی قوتیں ہیں۔ ان پر خود کش حملے اس لیے نہیں ہوئے کہ ان کی امریکا مخالف پالیسیوں میں کوئی تبدیلی آرہی ہے بلکہ ہم ایک ایسی جنگ کا حصہ ہیں جس نے یہاں شدت پسندی کو فروغ دیا ہے اور ہم یہ گناہ کررہے ہیں کہ ہم امریکہ کے حوالے سے ،مغرب کی پالیسیوں کے حوالے سے اپنے موقف پر ، آئین و قانون کے دائر ہ کار میں رہتے ہوئے کردار ادا کرنے کے حامی ہیں، لہذا وہ طبقہ جو آئین اور قانون کو نہیں مانتا، اسلحہ اٹھارہا ہے اور ہم بھی ان کے نشانے پر آرہے ہیں۔
ایم ایم اے کی بحالی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہماری بات چیت چل رہی ہے،کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں گذشتہ چار سال سے اے این پی کچھ خاص کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کو متباد ل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی کوئی حیثیت نہیں نہ ہی اس کی کوئی اہمیت ہے۔ ہم کسی سونامی کو نہیں مانتے کیونکہ ہمارے صوبے کا مزاج بالکل مختلف ہے۔
انہوں نے فرقہ واریت اور خفیہ ایجنسیوں سے متعلق کہا کہ ہمارے معاشرے میں ایسے عناصر موجود ہیں جنہیں حکومت اور خفیہ ایجنسیاں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ پنجاب کی حکومت کبھی کبھی فرقہ واریت کو استعمال کرتی ہے اور انہیں ایسا کرنے میں مزا آتاہے۔
انہوں نے گلگت اور بلوچستان میں فرقہ وارانہ قتل و غارت گری سے متعلق کہا کہ معاملات اتنے سادہ نہیں ہیں کہ خفیہ ایجنسیوں پر الزام تھو پ دیا جائے، اس خطے میں بین الاقوامی سیاست کا بھی اہم کردا رہے۔ امریکہ اس خطے میں امن نہیں چاہتا ۔ میں یہ سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ گلگت بلتستان میں حالات خراب کر کے ایک آزاد ریاست کی بنیاد رکھنے کی سازش کی جا رہی ہو؟
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ گلگت بلتستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، اگر بلوچستان میں جے یو آئی ایف نہ ہوتی تو فرقہ وارانہ فسادات کی وجہ سے صوبہ آگ میں جل رہا ہوتا۔پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ایک آزاد سمت دینے کیلئے جمعیت علمائے اسلام کا ایک اہم کردار رہا ہے ۔
انہوں نے عمران خان کے حوالے سے کہا کہ ان کی عمران خان سے کوئی ذاتی رنجش نہیں ہے اور وہ انہیں اتنی اہمیت نہیں دیتے کہ ان کے بارے میں بات کریں اور نہ ہی وہ انہیں سیاست کا کوئی اہم عنصر سمجھتے ہیں۔راتوں رات انقلاب لانے کا دعویٰ کرنا ہماری لائن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک نیٹو سپلائی کا تعلق ہے تو حکومت نے انتظامی طور پر اسے بند کیا اور یہ ایک مقبول فیصلہ تھا۔ ہم نے اس فیصلے کو مانا تھا مگرسوال یہ ہے کہ اب کیوں اسے بدلا جا رہا ہے ؟


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین