شامی فوج کی نہتے شہریوں کے خلاف بربریت کے خوفناک مناظر

شامی فوج کی نہتے شہریوں کے خلاف بربریت کے خوفناک مناظر

دمشق(العربیہ) شام میں تحریک انقلاب کے مرکز حمص میں صدر بشار الاسد کی شخصی حکمرانی کا دفاع کرنے والی فوج نے کرم الزیتون اور العدویہ کالونیوں میں نہتے شہریوں کا وحشیانہ قتل عام کیا ہے۔
سرکاری فوج نے گھروں میں گھس کر شہریوں خصوصا خواتین اور بچوں پر فائرنگ کی ہے. گولیوں سے چھلنی عورتوں اور بچوں کی بے گور وکفن لاشوں کے خوفناک مناظر سامنے آئے ہیں۔
“العربیہ” ٹی وی کے مطابق حمص میں جنرل انقلاب کونسل کے مطابق حمص میں نہتے شہریوں کی تازہ ہلاکتیں سرکاری فوج اور صدر بشار الاسد کی حمایت میں لڑنے والی ملیشیا کی کارستانی ہے جنہوںنے گھروں میں داخل ہو کر نہایت بے دردی سے بچوں اور خواتین کو ذبح کیا ہے۔
انسانی حقوق کے مندوبین کا کہنا ہے کہ فائرنگ اورتشدد کے نتیجے میں مارے جانے والے پیتنالیس خواتین اور بچوں کی میتوں باب السباع اور دیگر کالونیوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ کئی افراد کو گولیاں مارنے کے بعد پٹرول چھڑک کر جلا دیا گیا ہے جبکہ کئی بچوں اور عورتوں کو ذبح کرنے ساتھ ان کے جسموں پر گولیاں بھی ماری گئی ہیں۔
ادھر حلب شہر میں “شامی میڈیا سینٹر” نے اطلاع دی ہے کہ سرکاری فوج نے صلاح الدین کالونی کا مکمل محاصرہ کر لیا ہے اور کالونی میں حکومت کےخلاف نکالی جانے والی تین ریلیوں پرفائرنگ کے بعد زخمی ہو کر فرار ہونے والے مظاہرین کو تلاش کر کے انہیں پکڑا جا رہا ہے۔
انسانی حقوق کے مندوبین کے مطابق اسد نواز فورسز اور ان کی حمایت میں شہریوں کا قتل عام کرنے والی ملیشیا نے حلب میں اتوار کی شام ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے پر فائرنگ کی تھی۔ احتجاجی ریلی میں صلاح الدین کالونی کے مکینوں کے علاوہ دیگر علاقوں کے پانچ ہزار افراد شریک تھے۔
یہ مظاہرےشہر کی تین مساجد مسجد تقویٰ، مسجد الحضر اور مسجد السعد سے نکالے گئے تھے جو صلاح الدین کالونی کے مرکزی چوک میں ایک جلوس کی شکل اختیارکرگئے تھے۔ یہیں پرسرکاری فوج نے ان کا گھیراؤ کر کے انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی اور ان پر گولیاں چلائی تھیں، جس کے بعد کئی افراد زخمی حالت میں جان بچا کر نکل گئے تھے۔
ادھر حلب میں ایک کرد خاتون رپورٹر کے قتل کے بعد کردوں کے اکثریتی علاقوں مقصود کالونی اور اشرفیہ میں حالات نہایت کشیدہ ہیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حلب میں سرکاری فوج کے وحشیانہ کریک ڈاؤن کے باوجود منتشر ہونے والے شہری ایک مرتبہ پھر احتجاجی مظاہرے منظم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، تاہم خدشہ ہے کہ کسی بھی احتجاجی ریلی کی صورت میں سرکاری فوج کے ہاتھوں مظاہرین پر قاتلانہ حملے ہو سکتے ہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین