خدا کیلئے ہمیں ہمارے پیاروں سے ملادو!“ لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی فریاد”

خدا کیلئے ہمیں ہمارے پیاروں سے ملادو!“ لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی فریاد”

کراچی (جنگ نیوز) ”میرے بیٹے کا کوئی قصور ہو تو بتاؤ؟“، ”خدا کے لیے ہمارے پیاروں کو ہم سے ملادو!“ یہ دردناک آوازوں اور بہتے آنسوؤں کے ساتھ یہ مطالبات ان لوگوں کے تھے جن کے پیاروں کو خفیہ اداروں نے اغوا کیا اور ابھی تک وہ غائب ہیں۔ ان میں سے 4 افراد ضرور ملے ہیں مگر لاشوں کی صورت میں۔ یہ بے بس لوگ سپریم کورٹ کے باہر اپنے بچوں اور بیٹوں کی تصاویر اور ان کی رہائی کے لئے بنائے گئے پلے کارڈز کے ساتھ ارباب اختیار کو جگانے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ ساری صورت حال جیو نیوز پر کیپٹل ٹاک میں دکھائی گئی۔
پروگرام میں بتایا گیا کہ تمام لاپتہ افراد پرویز مشرف کے دور میں نہیں اٹھائے گئے بلکہ موجودہ حکومت کے دور میں بھی یہ ظالمانہ سلسلہ جاری ہے۔
احتجاج کرنے والے ان متاثرہ لوگوں کے ساتھ چیئرپرسن ڈیفنس آف ہیومن رائٹس آمنہ مسعود جنجوعہ بھی تھیں جنہوں نے کہا کہ یہاں بزرگ لوگ موجود ہیں اور ان کے بیٹوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کسی سیاست داں نے ان لوگوں کی بازیابی کیلئے عدالت سے رجوع نہیں کیا، کیا پاکستان میں مسلمان ہونا جرم ہوگیا ہے؟۔َ پرویز مشرف پاکستان آیا تو اسے پروٹوکول ملے گا لیکن ان لاپتہ افراد کا کیا قصور ہے؟۔ 15 فروری سے ہم غیر معینہ احتجاج شروع کریں گے، صدر ، وزیراعظم اور کسی سیاسی رہنما کو ان لوگوں کی کوئی پروا نہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما و رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق نے میزبان حامد میر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے پوچھے گئے بہت سے سوالات کا جواب میرے پاس نہیں، گمشدہ افراد کا معاملہ افواج پاکستان کے اوپر بھی بدنما داغ ہے، فوج کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہئے۔
لاپتہ افراد کے وکیل طارق اسد نے کہا کہ جن لوگوں کی لاشیں ملی ہیں، ان کے بارے میں یہ کہنا کہ انہوں نے خودکشی کی ہے، نہایت مضحکہ خیز ہے۔
عدالت کے سامنے ایجنسیوں (آئی ایس آئی اور ایم آئی) نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ گمشدہ لوگ ہمارے پاس ہیں اور ہم ان کا ٹرائل کررہے ہیں۔ میری عدالت سے یہی استدعا تھی کہ گمشدہ افراد کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔
وزیر مملکت برائے انسانی وسائل شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ ہر ایک کیلئے تشویشناک ہے، حکمرانوں کا فرض بنتا ہے کہ صرف اپنی حکومت کو خطرے میں دیکھ کر اقدامات نہ کریں بلکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ بھی کریں۔ ایک سوال پرشیخ وقاص اکرم نے کہا کہ دفاع پاکستان کونسل بہت بڑا ڈرامہ ہے، جب کالعدم جماعتیں کھل کر اپنی کارروائیاں کریں گی، جلسے کریں گی تو پھر حکومت کا کوئی جواز نہیں۔
پروگرام میں آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے وکیل راجہ ارشاد کیانی کی گفتگو بھی سنائی گئی جس میں انہوں نے کہا کہ ہم نے ہلاک شدہ چاروں افراد کا پوسٹ مارٹم کرانے کی پیشکش کی تھی لیکن ان کے اہل خانہ نے انکار کردیا۔ اس پر مقتولین کے گھروالوں نے ”شیم شیم “ کے نعرے لگائے اور کہا کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔
راجہ ارشاد کا موقف تھا کہ جو لوگ مارے گئے وہ کسی تشدد سے نہیں بلکہ بیماری کی وجہ سے اس دنیا سے گئے، اس کی تفصیلات میں عدالت کے سامنے بتاؤں گا۔ اس موقع پر صحافیوں اور راجہ ارشاد کے ساتھ آنے والوں کے درمیان شدید گرماگرمی ہوئی۔
راجہ ارشاد کی باتوں کے حوالے سے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ میں اتنا ہی کہوں گا کہ ”اے کشتہ ستم ! تیری غیرت کو کیا ہوا؟“ ۔ سعدرفیق نے کہا کہ جنرل ندیم اپنے دور میں کس طرح تشدد کرتے تھے، وہ سب کو معلوم ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ افواج پاکستان کو چاہئے کہ وہ آمنہ مسعود جنجوعہ اور ان کے ساتھیوں سے رابطہ کرے اور ان کی اشک شوئی کا سامان کرے۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ ریاست کے خلاف کام کرنے والوں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جانی چاہئے لیکن بغیر کسی وجہ کے گھروں سے لوگوں کو اٹھانا بھی انتہائی ظالمانہ فعل ہے، مسئلے کا حل یہ ہے کہ ہم لوگ موت سے ڈرنے کے بجائے اللہ سے ڈریں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین