استنبول (مرکز اطلاعات فلسطین) ترکی میں موجود فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ کا کہنا ہے کہ تین سال قبل اسرائیل کی جانب غزہ پر مسلط کی گئی 23 روزہ جنگ کا مقصد منتخب فلسطینی حکومت کو گرانا، مزاحمتی آوازوں کو دبانا اور فلسطینی قوم کی ثابت قدمی کا امتحان تھا‘‘
تین ممالک کے دورہ کرنے کے بعد گزشتہ روز ترکی پہنچنے والے فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ ترک وزیر اعظم رجب طیب سے ملاقات کے بعد آج ترک بحری جہاز ’’ماوی مرمارہ‘‘ پر پہنچ گئے۔ 31 مئی 2010ء کو یہ جہاز غزہ کی جانب گامزن عالمی امدادی قافلے ’’فریڈم فلوٹیلا‘‘ میں شریک تھا کہ اسرائیلی بحریہ نےعالمی سمندری پانیوں میں اس جہاز پر نو ترک رضا کاروں کو شہید کر ڈالا تھا۔
پانچ سال بعد فلسطین سے ببرون ممالک کے دورے پر روانہ وزیر اعظم نے اہالیان غزہ سے یکجہتی میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے ترک رضا کاروں کو خراج تحسین پیش کرنے کےلیے اس بحری جہاز کا خصوصی دورہ کیا اور جہاز پر ہی شہید رضا کاروں کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ اور فلسطین کے ساتھ اظہار یک جہتی کرنے والوں کے خلاف اسی جہاز پر ظلم و بربریت کی بھی ایک داستان رقم کی ہے۔ اسرائیل نےعالمی رضا کاروں پر حملہ کر کے فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے تمام رضا کاروں کو خوف کا پیغام دیا تھا۔
اس تاریخی ترک بحری جہاز پر کھڑے ہوئے وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا ’’مرمارہ جہاز کے شہداء کے خون نے غزہ کے محاصرے کے خلاف کامیابی حاصل کر لی، اس جہاز کے شہداء کا خون سمندری پانی کے ذریعے غزہ کے ساحل تک پہنچ گیا، اس طرح رضا کاروں کا غزہ پہنچنے کا مشن مکمل ہو گیا، ترک شہداء کا خون اب اہالیان غزہ کے شہداء کے ساتھ مل چکا ہے، یہ خون ایک بار پھر فلسطین کا شاندار کردار بحال کرنے میں کردار ادا کرے گا۔
اسماعیل ھنیہ نے اسرائیلی قائدین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا’’اگرچہ تم نے مرمارہ کو غزہ پہنچنے نہ دیا لیکن آج غزہ اور فلسطین مرمارہ تک آگئے ہیں۔ اس جہاز پر شہید ہونے والے رضا کاروں کی روحیں آج ہم سے اپنے سرزمین کی آزادی اور اپنے مسلمہ حقوق سے دستبردار نہ ہونے کا تقاضہ کر رہی ہیں۔ فلوٹیلا شہداء سے وفا کا تقاضا یہی ہے کہ ہم القدس، مسجد اقصی کی آزادی اور فلسطینی اسیران کی رہائی کے ہدف پر مضبوطی سے جم جائیں‘‘
اس موقع پر فلسطینی وزیر اعظم نے ایک بار پھر ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوان اور ترک عوام سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ رجب طیب ایردوان سے ہماری ملاقات سے معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ فلسطین ہر ترک شہری کے کے دل میں زندہ ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ترک عوام اور ان مختلف تنظیموں کا بھی شکریہ ادا کیاجنہوں نے مسئلہ فلسطین کو مرکزی حیثیت دینے کا اعلان کیا ہے۔
اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے بحری جہاز مرمارہ کےسامنے موجود ہزاروں ترک شہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’ہم آج آپ سے کہ رہے ہیں کہ ہم اسرائیل اور اس کے ظالمانہ محاصرے کے سامنے کبھی نہیں جھکیں گے‘‘ ان کا کہنا تھا ‘‘میں آج یہاں استنبول اور مرمارہ جہاز پر کھڑا ہو کر کہتا ہوں کہ غزہ اپنے خلاف سازشوں پر کامیابی حاصل کر چکا ہے اور غزہ میں اسرائیلی اسٹریٹجی ناکام ہوچکی ہے‘‘
اسماعیل ھنیہ اتوار کے روز ترکی پہنچے تھے جہاں پر وہ ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوان سے ملاقات کر چکے ہیں۔

آپ کی رائے