مولاناعبدالحمید: رمضان کے بعدعبادات کے مواقع ضائع مت کریں

مولاناعبدالحمید: رمضان کے بعدعبادات کے مواقع ضائع مت کریں

شیخ الاسلام مولاناعبدالحمید دامت برکاتہم نے رمضان المبارک کے بعد جامع مسجد مکی زاہدان میں پہلے جمعے میں خطبہ دیتے ہوئے اوقات اور مواقع سے صحیح اور مثبت فائدہ اٹھانے پر زور دیا۔
اپنے بیان کا آغاز قرآنی آیت: ’’اولم نعمرکم مایتذکر فیہ من تذکر وجاء کم النذیر‘‘ کی تلاوت سے کرتے ہوئے جامع مسجد مکی کے خطیب گویاہوئے: وقت اور مواقع اللہ تعالی کی جانب سے ہمیں عطا کی گئی عظیم ترین دولتوں میں سے ہیں؛ ہم ان کو استعمال میں لاکر اپنے دنیوی و مادی کاموں کو پورا کرسکتے ہیں، اسی طرح وقت سے صحٰیح استفادہ کرکے ہم اللہ رب العزت کی رضامندی اور نتیجتا جنت بھی حاصل کرسکتے ہیں۔
تلاوت شدہ آیت کی تشریح کرتے ہوئے انہوں نے کہا بہت سارے لوگ اپنی عمریں دین میں لگانے اور آخرت کیلیے توشہ تیار کرنے کی بجائے لہو ولعب اور فضول کاموں میں خرچ کرتے ہیں، ایسے لوگ روز قیامت واپس دنیا میں آنے کی درخواست کرتے ہیں جن کے جواب میں ان سے کہا جائے گا: کیا تمہیں زندگی کیلیے کافی موقع نہیں دیاگیا؟ نصیحت پکڑنے کیلیے تمہیں کافی عمر نصیب نہیں ہوئی؟ اسی طرح اپنی عمریں ضائع کرنے والے لوگوں سے کہا جائے گا کہ کیا تمہارے پاس ’’نذیر‘‘ نہیں آئے جو کہ تمہیں تدبر و تفکر کی جانب راغب کرے اور آخرت کی یاد دلائے؟ مطلب یہ کہ تمہیں موقع بھی کافی ملا اور انبیاء و رسل بھی یاد دلانے کیلیے مبعوث ہوئے مگر تم نے ان کی اور ان کے جانشینوں کی بات ماننے سے انکار کیا تھا! اب دیر ہوچکی ہے اور عمل کا وقت گزرچکاہے۔
جوان جب بوڑھا ہوجائے، یاقبرستان سے کوئی گذر جائے، کسی کا جنازہ نظر آئے اور جب کوئی تعزیت کیلیے جائے تو یہ سب آخرت کی یاد دلاتے ہیں اور ’’نذیر‘‘ ہی ہیں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مزید کہا زندگی کے تمام مراحل ہمارے لیے تقوی اور نصیحت پکڑنے کے سامان ہیں۔ جو کچھ دنیا میں ہمارے مشاہدے میں آتے ہیں ہمیں دنیا کے فانی ہونے کا پیغام دیتے ہیں۔ اسی لیے ہمیں آخرت کی فکر کرنی چاہیے، اللہ تعالی کی نشانیاں دیکھ کر ہمیں اس کی مرضی حاصل کرنے کی کوشش تیز کرنی چاہیے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا ہم میں سے بہت سارے لوگ ساٹھ ستر برس کے ہوگئے ہیں اور ابھی تک زیادہ سے زیادہ مال و دولت جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور یہی ہمارا مشغلہ ہے، لیکن کوئی اس قبر کے بارے میں سوچنے کی زحمت نہیں کرتا جس میں ہمیں ہزاروں سال رہنا ہے۔ کیا ہم نے جنت اور جہنم کے بارے میں سوچا ہے جو ابدی ہیں؟ یہ سب چیزیں ہمیں فکراخرت کی دعوت دیتی ہیں کہ اللہ تعالی کی عظیم ثروت ’’وقت‘‘ کا مناسب استعمال شروع کریں جو بہت ہی تیزی سے ہاتھ سے جارہاہے۔
نامور سنی عالم دین نے مزید کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’نعمتان مغبون فیہما کثیر من الناس الصحۃ والفراغ۔‘‘ صحت اور فارغ اوقات دو ایسی نعمتیں ہیں جن کی قدر بہت سارے لوگ نہیں کرتے، یہ بہت بڑا نقصان ہے کہ بندے کی صحت جائے اور اس کی پریشانی صرف یہی رہے۔ فارغ وقت اگر ایک تسبیح کہنے کی حد تک ہو اور کوئی اسے ضائع کرے تو یہ نقصان ہے۔ وقت جب گزرجائے پھر واپس نہیں آئے گا، اس لیے اسے اپنے دین ودنیا کے فائدے میں صرف کردینا چاہیے۔ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کسی قبر کے قریب سے گزر گئے، پھر انہوں نے دو رکعت نماز پڑھی، جب ان سے وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا اگر اس صاحب قبر کو ابھی موقع دیاجاتا تو وہ ضرور دو رکعت نماز پڑھتا، نماز سب سے بہترین اور عظیم عبادت ہے۔
خطیب اہل سنت نے مزیدکہا رمضان المبارک ہمارے لیے ایک عظیم و نادر موقع تھا، اس مہینے میں روزہ، افطاری وسحری، نماز وذکر اور تلاوت جیسی عبادات سے ہم اپنے اوقات کو قیمتی بناتے۔ اب یہ مبارک مہینہ ختم ہوچکاہے لیکن عبادات کے مواقع باقی ہیں، ہمیں دیگر مہینوں میں مواقع اور فرصتوں کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ قوی امکان ہے ہمارے گناہ بخش دیے گئے ہیں، تو رمضان کے بعد دوبارہ گناہوں کی جانب نہ لوٹیں۔ رمضان میں نفس و شیطان ہمارے قدموں کے نیچے تھے، اب وہ رہائی پاکر انتقام کیلیے میدان میں اترچکے ہیں، لیکن اگر ہم نے سچی توبہ کیا ہے تو ہمیں توبہ پر قائم رہنا چاہیے، گناہوں سے ہمیشہ کیلیے دوری اختیار کریں اور نفس وشیطان سے مقابلہ کریں۔
مولاناعبدالحمید نے زوردیتے ہوئے کہا: شب بیداری و تہجد رمضان کے ثمرات ہیں، علمائے کرام، طلباء و اہل علم نیز مرد وخواتین سب تہجد اور سحری عبادات کا اہتمام کریں۔ سحر استغفار و توبے کا وقت ہے، میری نصیحت ہے کہ ہرگز اس عظیم فرصت کو ضائع نہ کریں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین