’شب قدر‘ اللہ تعالی کی طرف سے مسلمانوں کیلیے خصوصی انعام ہے

’شب قدر‘ اللہ تعالی کی طرف سے مسلمانوں کیلیے خصوصی انعام ہے

خطیب اہل سنت زاہدان شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید دامت برکاتہم نے اپنے جمعہ رفتہ کے خطبے کا آغاز سورت القدر کی تلاوت سے کیا۔انہوں نے شب قدر کی فضیلت و اہمیت کے بارے میں گفتگو کی۔
مولانا عبدالحمید نے اس مبارک سورت کی شان نزول پر روشنی ڈالتے ہوئے گویا ہوئے: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بنی اسرائیلی کا قصہ سنایا جس نے ایک ہزار مہینے تک مسلسل اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کیا، بعض روایات کے مطابق وہ دن کو جہاد کیا کرتا تھا اور رات کو عبادات میں لگ جاتا تھا۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کی کہانی سنی تو انہوں نے کہا ہم میں سے کون اس قدر اللہ کی عبادت کرسکتا ہے؟ تو اللہ تعالی نے یہ سورت نازل فرماکر مسلم امہ کو ایک ایسی عظیم رات کا تحفہ عطا فرمایا جس میں عبادت ایک ہزار مہینہ سے بھی زیادہ افضل و بہتر ہے۔
خطیب اہل سنت نے مزید کہا جس طرح نبی اکرم علیہ السلام افضل الرسل اور خیرالبشر ہیں، اسی طرح ان کی امت بھی خیرالامم یعنی سب سے بہترین امت شمار ہوتی ہے۔ اسی لیے اللہ تبارک و تعالی نے اس امت کو شب قدر کی عظیم نعمت سے نوازا۔ ’’قدر‘‘ کا معنی تقدیر ہے جس کا مطلب ہے کسی کی قسمت مقرر کرنا، اللہ تعالی بھی اس مبارک رات میں اپنے بندوں کی ایک سال کی تقدیر کو معین فرماتاہے۔ اس رات کو جبرئیل علیہ السلام و دیگر ملائکہ پوری دنیا کا چکر لگاتے ہیں، جسے وہ عبادت کی حالت میں پائیں تو اس پر درود و سلام بھیج دیں گے۔
انہوں نے مزیدکہا تمام روایات کے مطالعے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ شب قدر رمضان المبارک کے آخری عشرے میں واقع ہے۔ احادیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے مہینے میں معمول سے زیادہ ذکر و تلاوت اور عبادات میں مصروف ہوتے تھے، جبکہ رمضان کے آخری عشرے میں بہت ہی زیادہ عبادتوں کا اہتمام فرماتے تھے بلکہ اپنے اہل وعیال کو جگاتے اور انہیں عبادت کرنے کی ترغیب دیا کرتے تھے۔
رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیلیے بیٹھتے، ایک مرتبہ کسی عذر کی وجہ سے اعتکاف کیلیے نہ بیٹھ سکے تو اگلے سال انہوں نے بیس دن اعتکاف کاا ہتمام فرمایا۔ اسی طرح ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اپنے گھروں میں اعتکاف کیلیے بیٹھتی تھیں۔
ہمیں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنی چاہیے، اس طرح ہمیں پرسکون اور سعادتمند زندگی نصیب ہوجائے گی۔ ہرحال میں افراط وتفریط سے اجتناب ضروری ہے، ثواب کمانے کیلیے سنت نبوی کی اتباع لازمی ہے۔

حکام عوامی مطالبات مان لیں
خطیب اہل سنت زاہدان نے بعض جابر و ظالم حکمرانوں کی بربریت اور عوام کش مہموں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا متعدد ممالک میں آمریت کا راج ہے، آمر حکمران اپنی مدت اقتدار کو طول دینے کیلیے اپنے ہی عوام کیخلاف فوج کشی کرتے ہیں، پرامن مظاہرین کو توپوں اور ٹینکوں سے نشانہ بناتے ہیں جیسا کہ غیرملکی قابض فوجی عوام کو روند ڈالتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ صرف عزت و آزادی چاہتے ہیں اور اپنے ملک میں سیاسی مشارکت ان کا مطالبہ ہے۔ کسی بھی حکمران کیلیے ضروری ہے کہ اپنے عوام کی بات سنے یا اقتدار چھوڑ کر عوام کو خود اپنا مستقبل تعین کرنے کی اجازت دے۔
یہ مسلمانوں کی بدنصیبی ہے کہ اکثر مسلم ممالک میں آمریت کا راج ہے۔ اللہ تعالی مظلوم عوام پر رحم کرے۔

صحابہ واہل بیت سے محبت اہل سنت کا عقیدہ ہے ’تقیہ‘ نہیں!
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے یوم شہادت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے نامور سنی عالم دین نے تاکید کی حضرت علی خلیفہ راشد اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد تھے۔ انہوں نے بچپن ہی میں اسلام قبول کیا اور آپ علیہ السلام کے سچے پیروکار بن گئے۔ علی فاتح خیبر ہے اور تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ان کی پیروی کرنی چاہیے۔
ہم علی و فاطمہ اور ان کی اولاد رضی اللہ عنہم اجمعین کو اسوہ و آئیڈل سمجھتے ہیں، جس طرح ہمیں صحابہ کرام وخلفائے راشدین سے محبت ہے اسی طرح ہم اہل بیت نبوی سے پیار کرتے ہیں، انہوں نے بات آگے بڑھائی۔
مولانا عبدالحمید نے زور دیتے ہوئے مزید کہا اہل بیت سے ہماری محبت تقیہ یا کسی مصلحت کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ یہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے، ایمان اور اعتقاد کی بنا پر ہم اہل بیت سے پیار کرتے ہیں اور انہیں اپنا آئیڈل سمجھتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے اہل بیت وصحابہ سے محبت کے اظہار کا بہترین طریقہ ان کی سیرت کی پیروی اورزندگی کے ہر لمحے میں ان کی اتباع ہے۔ اللہ تعالی ہمیں ان کی محبت سے مالامال زندگی عطا فرمائے اور قیامت کو ہمیں ان کے ساتھ محشور فرمائے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین