دمشق/انقرہ(ایجنسیاں) شامی سکیورٹی فورسز نے وسطی شہر حمص میں پُرتشدد کارروائیوں میں مزید سولہ افراد کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوان نے شام میں خونریزی روکنے کا مطالبہ کیا ہے اور اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ شام میں آیندہ پندرہ روز میں اصلاحات کر دی جائیں گی۔ حمص کے ایک مکین نے نکوشیا میں اے ایف پی کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کے علاقے باب عمرو میں سکیورٹی فورسز نے بلا امتیاز فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں گیارہ افراد مارے گئے ہیں۔ شامی فوج نے ٹینکوں کے ساتھ ترکی کی سرحد کے قریب واقع دو شمال مغربی قصبوں میں بھی نئی کارروائی شروع کی ہے جس میں ایک شخص ہلاک اور تیرہ زخمی ہو گئے ہیں۔
ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوان نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کے وزیر خارجہ نے گذشتہ روز دمشق کے دورے کے موقع پر شامی قیادت پر تشدد کا سلسلہ ختم کرنے پر زوردیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ شام میں ریاست نے اپنے ہی لوگوں پر بندوقیں تان رکھی ہیں۔ترکی کا بشار الاسد کے لیے پیغام بڑا واضح ہے کہ ”وہ ہر طرح کا تشدد اور خونریزی ختم کریں”۔
شامی صدر کے قریبی اتحادی سمجھے جانے والے ترک وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ بشارالاسد آیندہ دس سے پندرہ روز میں ملک میں سیاسی اصلاحات کے لیے اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنائیں گے۔
ترک وزیر خارجہ احمد داٶد اوغلو نے گذشتہ روز دمشق میں شامی صدر کے ساتھ تین گھنٹے تک بات چیت کی تھی۔ شام کی سرکاری نیوز ایجنسی سانا کے مطابق صدر بشار الاسد نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے دہشت گردوں گروپوں کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ ”دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی میں ہمارے عزم میں کوئی کمی نہیں آئے گی”۔بشار الاسد اپنے خلاف عوامی احتجاجی تحریک میں پیش پیش کارکنان کو دہشت گرد قرار دیتے چلے آ رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف تحریک میں بیرونی ہاتھ کارفرما ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے شامی صدر سے ملاقات کے بعد کہا کہ” آنے والے دن شام کے لیے بہت اہم ہیں۔ترکی اپنے ہمسایہ ملک میں صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لے گا”۔ انھوں نے اپنے ملک کی قیادت کی جانب سے شامی صدر کو یہ پیغام پہنچایا کہ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اور جمہوریت نواز مظاہرین کے خلاف کریک ڈاٶن کا سلسلہ فی الفور بند کیا جائے۔
شامی فوج نے گذشتہ کئی روز سے مشرقی شہر دیرالزور کا محاصرہ کررکھا ہے۔ شہر کے مکینوں نے شدید فائرنگ کی اطلاع دی ہے۔ وہاں سکیورٹی فورسز نے متعدد افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور عمارتوں پر صدر بشار الاسد کے حق میں نعرے لکھ دیے ہیں۔
شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ شامی فوج ترکی کی سرحد سے تیس کلومیٹر دور واقع دو قصبوں تفتاناز اور سرمین میں بارہ ٹینکوں اور بکتربند گاڑیوں کے ساتھ کارروائی کر رہی ہے اوراس کی گولہ باری سے ایک خاتون جاں بحق اور تیرہ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
شامی فورسز نے سنی اکثریتی مشرقی شہر دیر الزور اور اس کے نواحی دیہات میں ٹینکوں کے ساتھ حکومت مخالفین کے خلاف کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے اور وہاں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ایک سو کے لگ بھگ افراد مارے جا چکے ہیں۔ واضح رہے کہ شامی حکومت نے غیر ملکی صحافیوں کے دمشق سے باہر نکلنے پر پابندی عاید کررکھی ہے جس کی وجہ سے مختلف شہروں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مرنے اور زخمی ہونے والوں کے بارے میں حقیقی صورت حال سامنے نہیں آ رہی ہے۔
اس دوران شامی سکیورٹی فورسز نے وسطی شہر حماہ کا محاصرہ ختم کر دیا ہے۔دمشق میں ترکی کے سفیر نے گذشتہ روز محاصرہ ختم کرانے کے لیے حماہ کے عمائدین اور سرکاری عہدے داروں سے بات چیت کی تھی جس کے بعد شامی فورسز وہاں سے نکل گئی ہیں۔ترک وزیراعظم نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کے سفیر شام میں حالات کی بہتری کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں اور ان کی کوششیں بارآور ثابت ہو رہی ہیں۔

آپ کی رائے