قاہرہ(ايجنسياں) مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کو پنجرے میں رکھ کر عدالت میں پیش کردیا گیا جہاں انہوں نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات سے انکار کیا۔
سابق صدر پر مظاہرین کو ہلاک کرنے اور اپنے دور حکومت میں بدعنوانی کے الزامات ہیں جس کے تحت انھیں سزائے موت سنائی جا سکتی ہے۔
بدھ کو سابق صدر کوقاہرہ کی پولیس اکیڈیمی میں قائم ایک خصوصی عدالت میں پنجرہ نما ویل چیئر پر لایا گیا۔ حسنی مبارک کے بیٹے عالہ اور جمال، سابق وزیر داخلہ حبیب العدلی اور چھ دیگر سابق اہلکار بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
ادھر مصر میں سابق صدر کے حامیوں نے ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع ہونے پر احتجاج کیا۔ مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لیے تین ہزار پولیس اور فوجی اہلکاروں کو قاہرہ کی سڑکوں پر تعینات کیا گیا۔ صدر مبارک کے خلاف مصر میں احتجاج کے دوران ساڑھے آٹھ سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

آپ کی رائے