’اللہ تعالی تک پہنچنے کاواحد راستہ سنت نبوی ہے‘

’اللہ تعالی تک پہنچنے کاواحد راستہ سنت نبوی ہے‘

خطیب اہل سنت زاہدان حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید دامت برکاتہم نے جمعہ رفتہ (یکم جولائی) میں سنت نبوی علی صاحبہا الصلوۃ و السلام کی اہمیت اور اس کی پیروی کی ضرورت کے حوالے سے گفتگو کی۔
بیان کا آغاز قرآنی آیت: سے کرتے ہوئے انہوں نے کہا عہد رسالت میں بعض لوگ اللہ سے محبت کے دعویدار تھے، آج کل بھی دنیا میں تقریباً اکثر لوگ چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو خدا سے محبت کا دعوی کرتے پھرتے ہیں۔ لیکن اللہ رب العزت نے اپنی دوستی و محبت کے لیے ایک راستہ مقرر فرمایا ہے، جو اللہ تعالی تک پہنچنا چاہتا ہے تو اسے مقررہ روٹ سے گزرنا پڑتا ہے۔
حضرت شیخ الاسلام نے اللہ تعالی تک پہنچانے والی راہ کی تشریح کرتے ہوئے مزید گویا ہوئے: قرآن پاک نے پوری صراحت کیساتھ کہا ہے یہ راہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور آپ (ص) کی سنتوں پر عمل کرنا ہے۔ اس لیے زندگی کے ہر شعبے میں آپ علیہ السلام کے احکامات و سنتوں پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔ یہ اتباع بعض مسائل میں فرض اور واجب ہے، بعض مقامات پر سنت اور مستحب۔ مثلاً نماز کے مسئلے میں آپ (ص) کی پیروی فرض ہے۔ قرآن پاک میں صرف نماز کی ادائیگی کا حکم ہے، اس کا طریقہ قرآن میں نہیں آیا ہے بلکہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: ’’صلوا کما رأیتمونی‘‘ جیسا کہ میں نماز پڑھتا ہوں اسی طرح آپ بھی پڑھ لیں۔ اسی طرح حج، زکات و دیگر عبادات کا طریقہ وہی ہونا چاہیے جو نبی کریم (ص) سے منقول ہے۔ حتی کہ باطنی طور پر بھی خشوع و خضوع کے حوالے سے سنت کی پیروی ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا: نبی کریم (ص) کی پیروی چاہے فرض و واجب کی حد تک ہو یا سنت و مستحب کی، تمام صورتیں قرب الہی کے باعث ہیں۔ چونکہ آپ (ص) کے تمام طریقے اللہ تعالی کو پسند ہیں۔ اگر کسی کے دل میں اللہ کی محبت ہو مگر وہ سنت کی پیروی نہ کرے تو اللہ ایسی محبت کو قبول نہیں کرتا، چونکہ اللہ کی محبت کی راہ سنت سے پیروی ہی ہے۔
خطیب اہل سنت نے مزید کہا: اللہ تعالی نے آپ (ص) کو ’’بہترین نمونہ اقتدا‘‘قرار دیا ہے، آپ (ص) کی حیات مبارکہ ہمارے لیے مشعل راہ ہونی چاہیے۔ آپ علیہ السلام کی سنت مسواک لگانے اور داڑھے رکھنے تک محدود نہیں اگر چہ یہ بھی سنت موکدہ و ضروری ہیں لیکن سنت ایک وسیع و جامع لفظ ہے جو زندگی کے ہر شعبہ کو احاطے میں لیتا ہے۔ انفرادی، اجتماعی، معاملات، معاشرات غرض زندگی کا ہر پل سنت کے مطابق ہونا چاہیے۔بلاشبہ جو آپ (ص) کی سنت کو چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرے بربادی و ہلاکت اس کا مقدر ہے۔
مولانا عبدالحمید نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا نبی کریم (ص) کی روزمرہ زندگی تین حصوں پر مشتمل تھی؛ ایک حصہ عبادات کے لیے، دوسرا حصہ گھر والوں کے ساتھ گزارنے کے لیے اور ایک حصہ آرام کے لیے خاص تھا۔ ہمیں بھی آپ (ص) کی اتباع کرکے روزمرہ زندگی بسر کرنی چاہیے۔
آپ نے سنت کے مخالف ’’بدعت‘‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے مزید کہا: فقہاء نے فرمایا ہے اہل بدعت اپنی ہویٰ و ہوس کے پیروکار ہیں۔ بدعت کا کوئی اجر نہیں ہے۔ بدعت مبتدع کو اللہ سے قریب نہیں کرتی بلکہ الٹا اور دور کردیتی ہے۔ چونکہ یہ شیطان اور نفسانی خواہشات کی راہ ہے۔
قرآنی آیت کی تشریح کے ضمن میں آخر میں مولانا عبدالحمید نے کہا جو سنت کی پیروی سے روگردانی کرے تو وہ مسلمان نہیں ہوگا، کفار اللہ اور اس کے رسول کی اتباع نہیں کرتے، اس لیے اللہ تعالی کافروں سے محبت نہیں کرتا؛ تمام مسلمان خاص کر علمائے امت پوری طرح آپ علیہ السلام کی اتباع کریں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین