تھاتھی، بھمبھر(بی بی سی اردو ڈاٹ کام) جنوبی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے انتہائی مطلوب شدت پسند الیاس کشمیری کے اہلِ خانہ نے کہا ہے کہ انھیں ہلاکت کے بارے میں ٹھوس شواہد فراہم کیے جائیں اور اگر الیاس کشمیری واقعی ہلاک ہو چکے ہیں تو ان کی میت ورثاء کے حوالے کی جائے۔
الیاس کشمیری کے بڑے بھائی چوہدری اصغر کا کہنا ہے ’ہمیں ان (الیاس کشمیری) کی ہلاکت کے بارے میں ذرائع ابلاغ کے توسط سے پتہ چلا ہے لیکن کوئی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی چنانچہ ہمارے لیے یہ طے کرنا مشکل ہے کہ الیاس کشمیری حقیقتاًہلاک ہوچکے ہیں۔‘
چوہدری اصغر کے بھائی نے کہا کہ اگر الیاس کشمیری واقعی ہلاک ہوچکے ہیں تو انھیں اس کے ٹھوس شواہد پیش کیے جائیں۔
’اگر وہ (الیاس کشمیری) واقعی ڈرون حملے میں شہید ہوچکے ہیں تو ہمیں ان کی میت دکھائی جائے۔ ہم نے کفن میں لپٹی ہوئی بہت ساری میتیں ٹی وی پر دیکھیں لیکن ہمیں کیا پتہ وہ کون ہیں۔ اگر میت قابل شناخت نہیں تو پھر ڈی این اے ٹیسٹ یا کسی اور ذریعے سے پتہ چلائے جائے کہ کیا ہلاک ہونے والے واقعی الیاس کشمیری ہی ہیں۔‘
چوہدری اصغر کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی ان کے بھائی کی ہلاکت کی خبریں آئیں لیکن بعد میں وہ خبر جھوٹی ثابت ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ اب ایک بار پھر ان کی موت کی خبریں آرہی ہیں اور اس صورت حال کی وجہ سے خاندان کے تمام لوگ پریشان ہیں اور وہ مسلسل کرب سےگزر رہے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر ان کے بھائی کی موت واقع ہو چکی ہے تو ان کی میت لواحقین کے حوالے کی جائے۔ ’ہمیں ان کی میت دی جائے تاکہ ہم ان کو اپنے آبائی وطن میں دفنا سکیں اور ہمیں اطمینان ملے۔‘
الیاس کشمیر کی اہلیہ اور ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع بھمبھر میں ایک چھوٹے سے گاؤں تھاتھی میں ایک منزلہ مکان میں رہتے ہیں۔
تھاتھی گاؤں متنازعہ کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کے قریب واقع ہے۔
چوہدری اصغر کا کہنا ہے کہ ذرائع ابلاغ میں الیاس کشمیری کی ہلاکت کی خبر جاری ہونے کے بعد سے ان کی اہلیہ صدمے کی حالت میں ہیں۔’وہ بہت پریشان ہیں، وہ بات بھی نہیں کرسکتی ہیں اور وہ رو رہی ہیں کہ ان کا ان کے بچوں کا کیا ہوگا۔ وہ اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔‘
چوہدری اصغر نے کہا کہ ان کے بھائی کےگھر میں ٹی وی ہے اور نہ ہی اخبار پڑھنے کو ملتے ہیں اور انھیں محلے داروں کے ذریعے الیاس کشمیری کی ہلاکت کے خبر ملی تھی۔
چوہدری نے کہا کہ الیاس کشمیری کے تین بڑے بچوں کو بھی اپنے والد کی ہلاکت کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں کے بارے میں علم ہے لیکن ان کا سب سے چھوٹا بیٹا جس کی عمر نو سال ہے تمام صورت حال سے بے خبر ہے۔
’ان کا چھوٹا بیٹا مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ کیا بات ہے آپ ابو کی باتیں کررہے ہیں۔ میں نے اسے حوصلہ دیا اور کہا بیٹا کچھ نہیں ہے ویسے ہی ان کی باتیں کر رہے ہیں۔‘
دنیا کے لیے الیاس کشمیری تو شاید مر چکے ہیں لیکن ان کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ انھیں اسی وقت اطمینان ملےگا جب الیاس کشمیری کی میت ان کے حوالے کی جائے گی۔

آپ کی رائے